۱۲ربیع الاوّل، عید میلاد النبی

۱۲ربیع الاوّل، عید میلاد النبی

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

الواعظ نزار فرمان علی

الحمدُللہ ۱۲ربیع الا ول کی ابدی خوشیوں کے ایمان افروز مو قع پرجسمانی و روحانی عالم کی تمام مخلوقات، پوری انسانیت بالخصوص امت مسلمہ کو لاکھوں مبارکباد بلاشبہ یہ یہ دن للہ تعالیٰ کی بے پا یاں دینی و دنیاوی نعمتوں ، رحمتوں ، بر کتوں ، مسرتوں ، نصرتوں و کا مرا نیں سے تا قیامت مستفید و فیضاب ہو نے کی نو ید و روشن دلیل ہے ۔ سر ور کو نین ،سردار رسول ،ہادی سُبل ، امام جز وکل، محسن انسانیت ،شفیع محشر ، حبیب خدا ، خاتم النبییں ، رحمت اللعٰلمین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات بابرکت تمام زمانوں یعنی ماضی،حال اور مستقبل اور تمام عوالم دنیا و آخرت کے لئے مینارہ نور،سرچشمہ ہدایت اور نجات کا ذریعہ ہیں۔آپﷺ کے اسم بزرگ محمدﷺ کے ایک ایک حرف کی صفت بیان کرتے ہوئے مولانا محمد بشیر یوں لکھتے ہیں کہ’’م (میم) سے ہیں محبوب وہ رب کے ،’’ح‘‘ سے حاکم عجم و عرب کے دوسری میم سے مالک سب کے،’’د‘‘ دال سے داتا دونوں جہاں کے،جود ہے ان کا عام،شہد سے میٹھا محمد ﷺ کا نام۔جب ہم اسم بزرگ’’ محمدﷺ ‘‘ غور کرتے ہیں تو ایک اہم تفسیرکے مطابق ’’محمّد ‘‘ حمدسے مشتق ہے اور اسم مفعول ہے جس کے معنی ہیں جس کا بار بار اور متواتر تعریف کی جائے جو وجود باوجود سر تا پا حمد و تعریف کے لائق ہو،نہایت تعریف کیا گیا،اور ہر لمحہ و ہر ساعت کس کی حمد وثنا بیان کی جاتی رہے اور ہر آن ہر زمان جس کی نعت پڑھی جائے۔سبحان اللہ۔اسی طرح اسمِ مصطفٰی کے معنی انتخاب کیا ہوا،چنا ہوا،پسندیدہ،برگزیدہ اور مقبول یہ آنحضرت کے القابات میں شامل ہیں۔قرآن حکیم میں آپﷺ کے متعدد اسمائے مقدس بیان ہوئے ہیں۔پاک پروردگار آپ ﷺ کو طٰحہٰ،یٰسّ،حٰمًً،طٰسً تو کہیںُ مدثڑ،مُذکر،مزُّمل اور وَلّی، اللہ رب العزت آپﷺ کو حق، کریم ،مبین،رحیم ،عبداللہ،حَبیبَ اللہ اور رسول الرّحمہ۔شیخ سعدی ،نبی کریمﷺ کے اسم مبارک کو شفاعت کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں ’’اگر ابو البشر حضرت آدمؑ اور حضرت نوحؑ ،حضرت محمدﷺ کے نام کاواسطہ نہ دیتے تو نہ حضرت آدم ؑ کی توبہ قبول ہوتی نہ ہی حضرت نوحؑ کی کشتی کو نجات حاصل ہوتی

آپ ﷺکے لئے زندگی پھولوں کی سیج نہ تھی پہلے والد پھر ماں اور بعد میں دادا کا سایہ اُٹھ گیا ۔عربوں میں یتیم نظر آنے والا عرب و عجم کا سہارا بن گیا،آپ ﷺکا مدرسہ و استاد سے دور کا بھی واسطہ نہ پڑا اس لئے آپ اُمی یعنی ان پڑھ بھی کہلائے ۔بلاشبہ جس کا استاد خود خدائے دانا و بینا ہو اسے دنیوی سہارے کی ضرورت کہاں پڑھ سکتی ہے۔آپ ﷺ ساری انسانیت کے معلم صادق کہلائے۔ دنیا ئے علم و ادب کے مشہور مصنف مائکل ہاٹ جب دنیا کے 100 موثر شخصیات کی فہرست تیار کرتا ہے تو وہ عیسائی ہونے کے باوجود موسیٰ و عیسیٰ ؑ یا سنٹ آگسٹائن ،فرائڈ و گوتم بت کی تاریخ کو ایک طرف رکھ کرنبی پاک کی ذات اقدس کو سرفہرست قرار دیتا ہے۔جو علم و عمل ،کردار و اخلاق کی بنیاد پر بڑی سماجی و معاشرتی تبدیلی بپا کرنے والی صف او ل آپﷺ ہیں جو دینی و دنیوی دونوں محاذوں پر کامیاب ہوئے۔

اگر ہم تاریخ عالم پر نظر ڈالیں تو دینا میں جتنے بھی انقلابات آئے اس کے پیچھے عظیم مفکروں کا ہاتھ تھا انہوں نے پہلے نظریہ پیش کیا اور بعد میں طویل خونی جدوجہد جس میں اداروں اور لاکھوں انسانی جانوں کا ضیاع بھی شامل ہے۔بہت کچھ کھونے کے بعد منزل ملی جبکہ ہمارے نبی کا معاملہ ساری دنیا سے مختلف ہے آپ ﷺ نے پہلے انقلاب برپا کیا بعد میں نظریہ پیش کیا۔تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرت ﷺکے انقلاب میں کسی بڑے جانی و مالی نقصان کا ذکر نہیں ملتا کیونکہ کہ آپ کے انقلاب کی روح شدت و سختی کی روح نہ تھی بلکہ آپ ﷺ نے علم و حکمت اور اخلاق و کردار کے پاکیزہ قلم کی نوک سے خشک و بیابان زمین کے سرکش و ضدی بدووں کو تہذیت و تمدن کی رفعتوں تک پہنچایا۔آپ ﷺ کی آمد نے انسانی تاریخ کے دھارے میں ربانی ہدایت کی روح پھونک کر حیات نو بخشی۔بگڑی ہوئی انسانیت کی مکارم اخلاق کے پیمانے پر صورت گری فرمائی،زندہ درگور ہونے والی بچیوں کو معاشرے میں مساوی حقوق دلائے،غلامی کی طوق اتار ڈالی ،جہالت کے پردے چاک کئے،جانی دشمنوں کو سگے بھائیوں سا بنا دیا،فردکو فرد کی اسیر ی کی زنجیرو سے آزاد کرکے خدائے واحد و بے نیاز کی بندگی کے بندھن میں دائیمی طور پر باندھ دیا۔تمام تر مروجہ نسلی،لسانی ،علاقائی،قبائلی و خاندانی امتیازات کو ملیامیٹ کرکے نورِ ایمان و ایقان کی روشنی میں امت واحدہ میں پیرو دیا اور علم و عمل ،تقویٰ و نیکی ،بزرگی کا معیار ٹھہرا ۔دنیا کی نظروں سے پرے جاہل ،و پسماندہ و درماندہ ،منقسم قوم آپﷺ کی قیادت کی بدولت علم پرور جہانگیر و عہد و تمدن آفرین بن گئے۔\’\’ اے رسول !بیشک آپ اخلاق کے عظیم مرتبہ پر فائز کئے گئے ہیں\” القرآن \” آپ ﷺ نے قرآن نما سیرت پاک کے ذریعے سیاست کو جارحیت سے جنگ کو انتقام و ملک گیری سے عدالت کو جانب داری و طرف داری سے،تجارت کو ملاوٹ و عہد شکنی سے پاک کیا،دولت کو قارونیت سے،عبادت و بندگی کوابلیسیت سے،علم و دانش کو بو جہلی سے ،قلم و الفاظ کے وجود سے سامریت سے ، ثقافت سے جمودعصبیت و تنگ نظری کی کثافت مٹا کر اسے علم ،سچائی اورحسن و حیا سے آراستہ کرکے عظیم تہذیب و تمدن میں بدل ڈالا\”بیشک تمہارے لئے اللہ تعالی کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہیں\”القرآن\”

جسطرح آپ ﷺ کی لائی ہوئی کامل کتاب قرآن تمام آسمانی کتابوں کا نچوڑ ہے اسی طرح آپ ﷺ کی ذات گرامی میں تمام انبیاء کی خصوصیات یکجا نظر آتی ہیں۔ہر نبی سے اس کی اپنی قوم مستفیض ہوگی،جبکہ آپ ﷺ رحمت العامین ہونے کی حیثیت سے تمام کائنات و انسانیت اور خاص طور پر امت کے لئے سرچشمہِ خیر وبرکت ہیں۔آپ سے قبل جتنے بھی صاحبان شریعت و کتاب رسول آئے انکی عمریں بھی طویل اور ان کے دعوت و تبلغ کا عرصہ زیادہ ہونے کے باوجود پیروکاروں کی تعداد سنکڑوں سے زیادہ نہیں ملتی جبکہ بنی آخرین کا اعجاز دیکھئے کے ماقبل انبیاء کے مقابلے میں مختصر عمر ہونے کے باوجوددعوت تبلغ کے فقط 23 سالوں میں آپ کے امتیوں کی تعداد لاکھ سے اوپر جا پہنچی۔گزشتہ ادوار کے انبیاء کے شریعتوں میں دین داری دنیاداری پر حاوی تھی جبکہ آپ ﷺ کی شریعت میں ان دونوں پہلوؤں میں ایک حسین امتزاج نظر آتا ہے یعنی دونوں جہانوں کی بھلائی بیک وقت با آسانی حاصل ہوسکتی ہے۔آپﷺ نے فرمایا \”انا خاتم النیّینِ لا نبی بعدی\” ترجمہ : میں آخری بنی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

جب دنیا آپ کے اخلاق حسنہ کے گونا گوں مثالوں پر نظر ڈالتی ہے تو وہ حیرت میں ڈوب جاتی ہے۔آپ ﷺ مکی زندگی میں محلے سے گزرتے ہیں تو ایک غیر مسلم عورت آپ ﷺ پر کچرا پھنکتی ہے اس کوڑا کرکٹ پھینکنی والی کی علالت پر بیمار پرسی کے لئے جانا،طائف میں دعوت و تبلغ کے موقع پر آپ کا تمسخر اُڑانے ،گالی گلوچ اور پتھر مار کر لہولہان کرنے والے نوجوانوں کو اس گستاخی کے بدلے میں دعائے خیر کرناآپ فاتحانہ حیثیت میں مکہ تشریف لائے اور بحیثیت سربراہ ریاست عرب چاہتے تو آپ کے خاندان و صحابہؓ کے قاتلوں کو عدل و انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کرکے قرار واقعی سزا دیتے۔ایسی مشکل گھڑی میں تمام گناہگاروں ،مجرموں کو عام معافی اور پوری آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کی اجازت دی۔آپ ﷺ نے دنیا کو ایک پیغام دیا کہ طاقت ور وہ نہیں جو حریف کو صفحہ ہستی سے مٹا دے بلکہ حقیقی طاقت ور وہ ہے جوموقع و اختیار ہونے کے باوجود بد ترین دشمن کو معاف کردے۔لہذ�آپ ﷺنے اپنی بعثت کا مقصد اعلٰٰ مکارم اخلاق کو قرار دیاجس کا پہلا بنیادی سبق \” بہترین انسان وہ ہے جسکا وجود دوسروں انسانوں کے لئے فائدہ مند ہو\” دوسرا اہم سبق\” مسلمان وہ ہے جس کی زبان و ہاتھ سے دوسرا مسلمان بھائی محفوظ ہو۔تیسری بڑی اہم ہدایت جو روز قیامت بندوں سے پوچھے جانے والے سوالات میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے\” افضل مسلمان وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے\” انحضرت ﷺ نے ایک موقع پر صحابہ کرامؓ سے مخاطب ہوکر فرمایا کیا میں تمیں ایک ایسے عمل کے متعلق نہ بتاوں جو فرائض و مروجہ عبادات سے بھی زیادہ اہم ہے صحابہ عرض کرنے لگے بیشک یا رسول اللہ تو آپ ﷺ نے فرمایا \” باہم مل جل کر رہنا اور فتنہ و فساد سے بچنا فساد تو تباہ کن ہے\”

شگفتہ مزاجی یعنی حسن ذوق انسان کی قلبی وجذباتی زندگی کیلئے نہایت ضروری ہے جس طرح جسم کے لئے غذا اور روح کو عبادت بندگی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح شگفتہ مزاجی وحسن سلوک انسانی جذبات واحساسات میں بالیدگی و نکھار پیدا ہوتا ہے،کیونکہ ضرورت سے زیادہ سنجیدگی اختیار کرنے سے شخصیت بے رونق ہوجاتی ہے۔نبی کریم ﷺ کے خطبے اور تقاریر جہاں مجالس و محافل کو گریہ و زاری اور خشوع خضوع سے گرما دیتے تو آپ ﷺ کی خوش طبعی شکستہ دلوں کو جوڑ کر انہیں تر وتازہ کر دیتی اور اس میں معرفت کے اسباق بھی ہوتے ۔ایک دفعہ ایک بوڑھی عورت حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ’’ یا رسول اللہﷺ! میرے حق میں دعا کیجیے کہ خدا مجھے جنت نصیب فرمائے۔آپﷺنے فرمایا ’’کوئی بڑھیا جنت میں نہ جائے گی‘‘ بڑھیا کے آنکھوں میں آنسوں آگئے اور وہ واپس جانے لگی۔آپ ﷺ نے فرمایا’’ اللہ تعالی تمہیں بڑھاپے کے ساتھ جنت میں نہیں لے جائے گا بلکہ وہاں بڑھیا جوان ہو کر داخل جنت ہوں گی‘‘سبحان اللہ،بیشک جنت میں تمام بڑھے جوان ہو کر داخل ہوں گے۔آپﷺ کے سیرت کے نقوش میں ’’ہر ایک کے ساتھ نرمی، خندہ پیشانی ،خیر خواہی اور تبسم سے ملنا ایک عظیم صدقہ ہے‘‘۔بلاشبہ مسکراہٹ خدا کا ایک انمول تحفہ ہے۔

نبی کریمﷺ پر درود بھیجنا حبّ رسول کی اعلی صورت ہے ۔مقرب فرشتوں کا کیا کہنا جب خود پاک پروردگار،محمدمصطفٰی ﷺ پر دورود بھیجے۔ علمائے دین کے مطابق جس طرح امت کے ہر فرد کا حضرت محمدﷺ پر درود بھیجنا اس طرح فرض عین ہے جیسے آپ ﷺ کی رسالت کی شہادت دینا۔ اور اس امر کی بجاآوری کیلئے وقت اور تعداد کا تعین نہیں کیاگیا ہے ۔اس لئے جب کبھی بنی کریمﷺ کے اسم مبارک پر نظر پڑے یا سماعت کاشرف حاصل ہو تو کم از کم ایک مرتبہ درود پڑھنا فرض ہے جس کا ثواب بے حساب ہے۔درود کی اہمیت کے بارے میں آپﷺ نے فرمایا’’ جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس کے دس درجے بلند فرمائے گا‘‘۔

نماز اچھی،روزہ اچھا، زکوٰۃ اچھی، حج اچھا، مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا (مولانا ظفر علی خان)

بے شک سرور کونین حضرت محمد مصطفٰیﷺ کی تعلیمات کی گہری سمجھ اور اس کے مطابق اپنے گفتار و کردار کو ڈھالنے میں نہ صرف امت بلکہ ساری انسانیت کے مسائل و مشکلات کا یقینی حل موجود ہے۔ آئیں آج کے مبارک دن ہم عہد کریں کہ قرآن کریم اور رسول پاکﷺ کی اسوہ حسنہ پر دل و جان سے عمل پیرا ہو کر ایک منظم ،مضبوط ،باہمت ،با اخلاق و خیر پسند امت بن جائیں اور سفیرِ اسلام بن کر جہانگیر و جہان دار و جہاں پرور بنیں اور دنیا و آخرت میں کامیابی و سرخرؤی حاصل کریں ۔آمین یا رب العالمین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔