سانحہ عطا آباد کے پانچ سال

سانحہ عطا آباد کے پانچ سال

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شرافت علی میر

4 جنوری کو سانحہ عطا آباد کے پانچ سال مکمل ہوگئے۔ ان پانچ سالوں کے دوران عوام گوجال پر جوکچھ بیتی اُس کو لفظوں میں بیان کرنا بہت مشکل ہے۔

سانحہ عطاآباد کے بعد جب اسپیکر جناب وزیر بیگ کو اس سانحے کی اطلاع دی گئی تو ان کی حس مزاح پھڑک اٹھی اور ان کا کہنا تھا کہ “ہنزہ میں بھی ایک ڈیم ہونا چائیے”۔ اسپیکر کے اس بیان سے متاثرین کی دل آزاری ہوئی کیونکہ وہ لوگ سمجھتے تھے کہ اسپیکر اس مشکل مرحلے میں ان کی مدد کرے گا۔

سانحہ عطاآباد کے بعد سب سے پہلے گوجال پہنچنے والے حکومتی نمائندے اُس وقت کے گورنر گلگت بلتستان اور وفاقی وزیر اطلاعات جناب قمرزمان کائرہ اور ان کے ہمراہ جنرل فاروق تھے جب وہ ہیلی کاپٹر کے زریعے گوجال پہنچے تو عوام گوجال بڑی بے چینی سے ان کا انتظار کررہے تھے ۔ ان کا بھر پور انداز میں استقبال بھی کیا۔ کائرہ نے تقر یر کرتے ہوۓ کہا ” ہم آئین آباد کو ڈوبنے نہیں دینگے اور پندرہ دن کے اندر اندر یہاں سے پانی کے اخراج کو ممکن بنائنگے”۔ اس دوران جب ایک مقامی شخص نے ان سے کہا کہ یہ ناممکن ہے تو وزیر موصوف نے ان سے کہا کہ “تم انجنیر ہو “

چونکہ وعدے،دعٰوے جھوٹے تھے اور پندرہ دن کی بجاۓ 5 سال میں بھی آئین آباد نہیں بچ سکا۔ آئین آباد بھی ڈوب گیا تھا، ششکٹ پائین بھی ڈوب گیا، گلمت کے کمرشل ایریا بھی ڈوب گیا اور ‏غلکین اور حیسنی کے کچھ علاقے اور شاہراہ قراقرم کے 28 کلومیٹر حصہ اور ایک بڑے پل پانی میں ڈوب گیا۔

اس کے بعد ایف۔ڈبلیو۔او نے اسپیل وے پہ کام شروع کیا حالانکہ گوجال کے عوام بلکہ گلگت بلتستان کے لوگوں کا مطالبہ تھا کہ ایف ۔ڈبیلو۔او کی کارکردگی گلگت بلتستان میں کچھ اچھا نہیں ، اس لیے یہ کام چائنیز کودے دیا جاۓ لیکن عوام کا کون سنتا ہے ۔

ایک مہینے کے لیے ہیلی سروس چلائ گئ جس سے عوام کو تھوڑی سہولت ملی لیکن پھر ہیلی سروس بھی بند ہوگئ اور کشتی سروس کا آغاز ہوگیا۔ چھوٹی سی کشتی میں 7 لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی جس سے اسپیل وے تک پہنچتے پہنچتے سارے مسافربھیگ جاتے تھے۔

پھر اللہ بھلا کرے ان کاروباری لوگوں کا جو اپنے کاروبار کے غرض سے بڑی سایز کی کشتی لےآۓ اور بعد میں مقامی طورپر ہی تیار کرنا شروع کیا۔جس سے عوام گوجال کو بھی فائدہ ہوا۔

اسطرح جھوٹے وعدے ،دعوے اور ہمدردیوں کا یہ سلسلہ پانچ سال تک جاری رہا۔

11 جولا ئی کے دن میرغضنفراچانک گلمت پہنچے۔ متاثرین کے وفد میر غضنفر سے ملاقات کے لیے گۓ۔ غضنفر صاحب نے متاثرین کو خوشخبری دی کہ انھوں نے میسیڈونیا کے گورنمنٹ سے بات کی ہے اور جلد ہی وہ تمام متاثریں کو میسیڈونیا بھیج دینگے۔ متاثرین کو کہا کہ جلد ازجلد متاثرین کی لسٹ تیار کریں۔لسٹ بھیجنے کے بعد متاثرین دنیا کے نقشہ میں میسیڈونیا کے نقشے کو دیکھ کر دل بہلا تےرہے کہ وہ لوگ اب بہت جلد میسیڈونیا جانے والے ہے۔پانچ سال گزر گۓلیکن متاثرین کوکسی نے دوبارہ مڑ کرنہیں پوچھا۔

میاں نوازشریف نے اس جھیل کا فضائی دورہ کیا اور متاثرین کے لیے دس کروڈ روپےاور پنجاب میں پلاٹ کا اعلان کیا جو تا حال متاثرین کو نہیں ملا ہے۔چونکہ متاثرہ علاقوں سے مسلم لیگ ن کے امیدوار ہار گيا تھا لہذٰا خود دورہ نہیں کیا بلکہ گوجال میں جیل خانہ جات کے وزیر کو بھیج دیا گیا اور خود التت میں متاثرین سے ملنے کے بعد دربار ہوٹل گۓ اور پھر واپس چلے گۓ۔

متاثرہ لوگوں کا جب بھی کوئی وفد جناب اسپیکر وزیر بیگ صاحب کے پاس جاتا اور ان کو ان کے وعدے یاد دلاتا تو ان کا جواب ہوتا کہ” آپ لوگوں کا نمائندہ توجناب مطابعیت شاہ صاحب ہے جتنے اختیارات میرے پاس ہے اتنے ہی اختیارات شاہ صاحب کے پاس بھی ہے۔ یہ کام ان کا ہے ان کو پوچھے۔میرے پاس بہت زیادہ کام ہے” ۔

جب بھی گوجال کے عوام نے ان نام نہاد نمائندوں کو ان کا وعدہ یاد دلایا یا پرامن احتجاج کیا تو ان کو ملک دشمن اور غداری کا طعنہ دیا گیا اور تو اور پی ۔ایس۔ایف کے جوانوں نے جب احتجاج کیا تو ان کے خلاف گلمت تھانے میں ایف ۔آئی ۔آر درج کیا گیا۔ علی آباد میں جب متاثرین نے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کیا تو ان پہ گولی برسایا گیا اور ان پر دھشت گردی کا مقدمہ بنایا اور باپ بیٹے کو شہید کیا گیا۔

تاہم اس سانحے سےہوٹل والوں کو، مزدورں کو جو اسپیل وے پہ کام کرتے ہیں اور ٹرانسپورٹر مافیا نے خوب فائدہ اٹھایا بلکہ اٹھا رہے ہیں۔ اسپیل وے تک کرایہ دوگنا کیاگیا ۔ اور پھر گوجال میں مختلف اشیاء کی قمیت بھی دیکھتے ہی دیکھتے بڑھنا شروع ہوگي۔

اس کے علاوہ بعض سرکاری افسران نے بھی سانحے سے خوب فائدہ اٹھایا بلکہ کمایا بھی جیسا کہ سٹوڈنٹ ریلف فنڈ میں بڑے پیمانے پہ خرد برد کیا گیا۔ اس فنڈ کی نگرانی گوجال کے ایک افسر کے ذمے تھا ۔ناٹکو کی وہ کشتی جو تین سال سے جھیل میں کھڑی ہے تین مہینہ بھی نہیں چلی ہے، اس کا سربراہ بھی گوجالی تھا۔ اس کے علاوہ اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر بھی بہت بدنام ہوۓ اور اتفاقا وہ بھی گوجالی تھا ۔ یو۔ایس ۔ایڈ نے بزنس لاس کے نام سے گوجال کے کاروباری لوگوں کے لیے چودہ کروڈ روپیے کا گرانٹ دیا تھا بدقسمتی سے ایک کروڈ بھی اس سے تقسم نہیں ہوا باقی تیرہ کروڈ کہاں خرچ ہوا کس کے جیب میں گیا کسی کو نہیں پتہ اور اس کا سربراہ بھی گوجال سے تھا۔

یو۔ایس۔ایڈ کا ایمبولینس بوٹ جو بظاہر آج ڈوب گیا لیکن میں تو یہ کہتا ہوں کہ یہ بہت پہلے ڈوب گیا تھا کیونکہ مریضوں کے لیے تیل نہیں ہوتا لیکن جب بھی کوئی سرکاری افسر آتا تیل بھی ہوتا اور عملہ بھی موجود ہوتے۔ یعنی جس کو موقع ملا اس نے کرپشن کیا ایسے میں غیروں سے کیا گلا شکوہ۔

اس کے علاوہ پی۔ڈبیلو۔ڈی کے افسران اور ٹھیکداروں نے بھی اس موقع سے خوب فائدہ اٹھایا عارضی روڈ اور عارضی پل کے نام پر۔ ایک اور زیادتی یہ ہوی کہ گوجال کے دو گاوں آئین آباد اور ششکٹ پائین اس سانحہ کے نتجے میں مکمل طور پر ڈوب گۓ اور اس مصنوعی جھیل کا نام رکھا گیا “عطاآباد جھیل” حالانکہ اس کا نام آئین آباد جھیل ہونا چائیے تھا۔

اس دوران سیاسی مخالفین نے بھی اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور حکومت اور حکومتی نمائندوں کے خلاف لوگوں کو اکھسانے اور اپنی سیاست چمکانے کی خوب کوشش کی

متاثرین کے مسائل ان کے مشکلات ان کے ساتھ زیادتی اور بے بسی کو

مقامی، ملکی و غیر ملکی میڈیا نے مقامی اور بین الاقوامی سطح پہ اجاگرکیا۔ جس کی وجہ سے کسی نہ کسی طرح ان متاثرین کی دادرسی بھی ہوئی۔

اس سانحے کے بعد چائنیز گورنمنٹ نے عوام گوجال کو ریلیف دیا جس میں کھانے پینے کی اشیاء ،کوئلہ اور تیل شامل تھا انتظامیہ نےتیل کو یہ کہہ کر فروخت کیا کہ اس پیسے سے عوام گوجال کے لیے چائنا سے بڑی کشتی خرید کر لائنگے۔ جو سردیوں میں بھی چلے گی لیکن پانچ سال مکمل ہونے کے بعد بھی وہ بڑی کشتی نہیں آی ۔

جو سب سے بڑا مذاق گوجال کے عوام کے ساتھ ہوا وہ یہ تھا کہ گوجال کو آفت زدہ علاقہ قرار دیا گیا اور پھر ان سے بجلی کا بل بھی لیا گیا۔ جن لوگوں پہ چھوٹے چھوٹے قرضےتھے ان کا وارنٹ جاری کیا گیا بلکہ ان کو گرفتاربھی کیاگیا۔ نوٹ فیکشن پہ عملدرامد نہیں ہوا۔

اس کے علاوہ این ۔جی ۔اوز جس میں اے۔کے۔ڈی ۔این، بحریہ ٹاون اور ایشاء انسٹی ٹیوٹ وغیرہ نے بھی کسی نہ کسی طرح گوجال کے عوام کی مدد کیا۔

22 اگست کو پھسو اور حیسنی کے درمیان جب باراتیوں کی ویگن کوحادثہ پیش آیا تو گوجال کے واحد 10 بیڈ ہسپتال میں ڈاکٹر اور سہولیات نہ ہونے اور اسپڈ بوٹ نہ ہونے کی وجہ سے دس قیمتی جانیں ضائع ہوگئی۔ اس کے علاوہ سردیوں میں جب جھیل میں برف جم جاتا یا تیز آندھی چلتی ہے تو اس وقت سفر کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجاتا ہے۔ ایسے میں مریض یا تو گھنٹوں اس جھیل میں پھنس جاتے ہیں یا پھر ان کو گھر پہ دیسی علاج، دعا اور حوصلہ دیا جاتا ہے۔ کیونکہ ہسپتال میں سہولیات نہیں ایسے میں ان لوگوں سے پوچھے جن کے عزیز واقارب علاج معالجہ کی سہولیات نہ ہونے کہ وجہ سے ان سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگۓیا پھر گھنٹوں گھنٹوں لوگ جس میں خواتین،بچے اور بزرگ بھی ہوتے جیھل میں پھنس جاتےاور پھر اپنی مدد آپ کے تحت اس مشکل سے نکل آتے۔

لیکن آفرین ہے عوام گوجال کو کہ انھوں نے پانچ سال میں اس مشکل اور کھٹن مرحلے کا مقابلہ بڑے دیدہ دلیری،صبر اور برداشت کے ساتھ کیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔