کیا آپ نے پی کے دیکھی ہے؟

کیا آپ نے پی کے دیکھی ہے؟

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

پی کے دیکھنے کیلئے ذہن کا کم از کم ایک دروازہ کھولنا پڑتا ہے، دس دروازے وہ خود کھول دیتی ہے۔

Mono zeeان دنوں جس سے ملو ایک بات ضرور پوچھتے ہیں۔ آپ نے پی کے دیکھی ہے؟ یہ سوال سن کر پرلے درجے کے ایمانداروں کی سیٹی گم ہو جائے تو حیرت کیا۔ ایسی ہی صورت حال کا سامنا میرے گمنام دوست کو کرنا پڑا۔ وہ میرے سامنے بیٹھا چائے کی پیالی کا بغور جائزہ لے رہا تھا۔ لگتا تھا کچھ ہی دیر میں وہ بتا دیگا کہ اس ایک کپ چائے میں دودھ، پتی، چینی اور پانی کس تناسب سے موجود ہے اور اسے کتنی دیر چولہے پر رکھا گیا، برتن سے پیالی تک کا سفر اس نے کتنی دیر میں طے کیا وغیر ہ وغیرہ۔ مگر اسی دوران میرے پہلو میں بیٹھے فلاں عرف مہمان دوست نے گمنام سے وہ رائج الوقت سوال کر دیا۔ آپ نے پی کے دیکھی ہے؟ شریف آدمی کے اوسان خطا ہو گیا، چہرے پر عجیب وغریب قسم کے تاثرات ابھری، ہڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھنے لگا جیسے یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہو کہ یہ سوال کسی اور سے تو نہیں کیا گیا، مگر آس پاس کوئی اور نہیں تھا،اب اس نے پھیکی سی ہنسی دی اور سر کجھاتے ہوئے کہا، مذاق اچھا کرتے ہو۔

ادھر سے مہمان دوست نے اپنی سنجیدگی برقرار رکھتے ہوئے کہا، نہیں میں مذاق نہیں کر رہا، پوچھ رہا ہوں کہ کیا آپ نے پی کے دیکھی ہے؟ دوسری طرف سے پھر اسی پھیکی ہنسی کا اظہار، اور بات ٹالنے کیلئے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات آپ ان سے پوچھیں ، پینا وینا شاعروں کو ججتا ہے، ہم نمازی ٹائپ کے لوگوں کا کام نہیں۔

میں نے گردن گھما کے پہلو میں بیٹھے مہمان دوست کی طرف دیکھا تو وہ بھی میری ہی طرف دیکھ رہا تھا، نگاہیں چار ہوئیں اور وہ منہ پھاڑ کے ہنسے لگا۔ میں نے ذرا سنبھلتے ہوئے گمنام کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ دی اور کہا… ہاں میں نے پی کے دیکھی ہے۔ اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، کہنے لگے ، دیکھو دیکھو کس بے شرمی سے گناہ کا اقرار کر رہا ہے.. محترم! غالب کی نقالی سے باز رہیں، بہتر ہے کہ شعری میدان میں ان کو اپنا امام بنا لیں، عملی زندگی میں نہیں، ورنہ ….مہمان دوست کے قہقہے کے دوسرے دور کا آغاز ہو گیا، جیسے سپیڈ پکڑنے والی موٹر سائیکل کا گیر بدلنے کیلئے کچھ لمحوں کے لئے ایکسلیٹر چھوڑنے کے بعد پھر گما دیا گیا ہو۔

میں نے بات کاٹتے ہوئے ذرا سخت لہجے میں کہا، بھئی آپ کچھ اور سمجھے ہو، میں نے یہ کہا کہ میں نے پی. کے دیکھی ہے، اب چونکہ پی اور کے کے درمیان ذرا سا وقفہ رکھا گیا تھا چنانچہ وہ اور الجھ گیا، کہنے لگی، یہ پی کے کیا ہے؟

عامر خان کی فلم پی کے کو دیکھنے کیلئے ذہن کا کم از کم ایک دروازہ کھولنا پڑتا ہے، دس دروازے فلم خود کھول دیتی ہے۔ فلم پر بڑی لے دے ہو رہی ہے، کہا جا رہا ہے کہ اس فلم نے ہندوستانی معاشرے میں بھونچال برپا کر دیا، ایک ایسا طبقہ جس کو بہت مقدس سمجھا جاتا رہا اور اس طبقہ خاص پر سوال اٹھانا بہت بڑے گناہ کے زمرے میں آتا تھا، اس پر سوال اٹھایا گیا بلکہ سوالات اٹھائے گئے اور سوالات بھی ایسے ویسی… فلم دیکھنے والوں کی اکثریت کو یہاں اٹھائے گئے سوالات جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں مگر کچھ لوگوں کے پلے کچھ نہیں پڑتی، یہی کچھ ہوا گمنام کے ساتھ، ہم نے اسے سمجھایا کہ پی کے کا مطلب مے نوشی نہیں بلکہ یہ ایک فلم کا نام ہے۔ بڑی منت سماجت سے اسے فلم دیکھنے کیلئے راضی کر لیا گیا کیونکہ وہ فلم کے ذکر سے ہی گھبرا گیا تھا۔ کہنے لگے توبہ توبہ میں اس عمر میں فلم دیکھوں گا۔ ساری زندگی کی عبادتیں ضائع ہو جائیں گی۔ ہم نے سمجھایا کہ فلم کوئی بری چیز نہیں، کیا آپ نے اسلامی فلمیں نہیں دیکھیں۔ ذہن کا ایک دروازہ کھلا اور کہنے لگا ہاں اسلامی فلمیں تو بہت ساری دیکھی ہیں۔ سوال کیا گیا جناب وہ بھی فلم ہی ہوتی ہے، اگر فلم دیکھنا ہی گناہ ہے تو پھر …. کہنے لگا اسلامی فلمیں اور ہندوستانی فلموں کا کیا موازانہ… ہم نے کہا بالکل ٹھیک کہا آپ نے ، ہم ان کا موازنہ نہیں کر رہے بلکہ یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فلمیں اچھی بھی ہوتی ہیں، جیسے آپ کی دیکھی ہوئی فلمیں… اچھا تو آپ ایسی کوئی فلم دکھا رہے ہیں… ہم نے کہا ایسی تو نہیں ہوگی مگر موضوع کے اعتبار سے ایسا کہا بھی جا سکتا ہے۔ ہم نے اسے قائل کر لیا مگر وہ سنیما جانے پر قطعا تیار نہ ہوا چنانچہ کمپیوٹر پر ہی دیکھنے کا فیصلہ ہوا، نیٹ سے فلم ڈاون لوڈ کرنے کے دوران وہ ذرا کھل گئے اور کچھ انڈین فلمیں بلکہ انگلش فلموں سے جی بہلانے کااقرار(اقبال جرم) کر لیا۔ فلم چل پڑی…اور ختم بھی ہو گئی۔ ہم گمنام کے تبصرے کا انتظار کر رہے تھے مگروہ چپ تھا، چائے کی چسکی لیتے ہوئے بول پڑا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اب تک فلمیں نہ دیکھ کے اچھا کام کیا تھا….اس فلم میں کیا کہا گیا؟ کچھ سمجھ نہیں آیا ہاں وہ کچھ جگہوں پر عامر خان کو نماز پڑھتے ہوئے، سینہ زنی کرتے ہوئے اور زنجیر زنی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ، وہ مجھے بہت اچھا لگا… باقی تو کچھ نہیں تھا…ہاں ہندوں کے خلاف بہت سخت باتیں کی گئی ہیں۔ عامر خان نے بہت ہمت کی ہے، ہندوں کے ملک میں ہندوں کے خلاف ایسی فلم بنانا بڑی بات ہے…. اب مہمان دوست سے رہا نہ گیا…بس کرو یار خدا کا واسطہ…فلم کا مزہ خراب کر دیا تم نے….اچھا جی کیوں چپ رہوں؟ کیا عامر خان نے تم سے مشورہ کر کے فلم بنائی تھی جو اس فلم کو تم ہی سمجھ سکتے ہو…تم نے فلم کے اصل مقصد کو نہیں سمجھا ہے…کیوں میں تم سے کم سمجھدار ہوں…تمہیں فلم دکھا کے غلطی کی ہم نے…مجھے بھی لگتا ہے کہ تیرے ساتھ دیکھ کے بڑی غلطی کی….یہ جو جملے آپ نے جو آپ نے سنے یہ ایک کے نہیں دو بندوں کے ہیں، گمنام اور مہمان دونوں تیز تیز آواز میں بول رہے تھے۔ ایک دوسرے کو انتہا پسند، نا سمجھ، کم عقل جیسے الفاظ سے نواز رہے تھے۔ میں نے اپنی توجہ ان کی طرف سے ہٹا لی اور فلم پر اپنی رائے قائم کرنے کی کوشش کرنے لگا۔

فلم میں تقریبا تمام مذاہب میں موجود غیر منطقی اور غیر ضروری مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی۔ فلم میں مذہب یا مذہب میں موجود تصور خدا کو ردنہیں کیا گیا بلکہ اس کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ آج ہمارے ہاں مذہب پر سوال اٹھانے کو اتنا برا نہیں سمجھا جاتا جتنا برا مذہبی شخصیات پر سوال اٹھانے کو سمجھا جاتا ہے۔ خدا کے تشریح کرنے والوں پر کوئی بات کر کے تو دیکھیں اگلے روز آپ پر زمین تنگ ہو جائے گی جبکہ اسی زمین کے مالک (خدا) پر آپ کوئی بھی بات کریں کچھ نہیں۔

یہاں ہر شخص خدا کے ایک ہونے کا اقرار کرتے ہے مگر اپنے اندر ایک اور خدا کو بھی بیٹھا رکھا ہے… دو دوست (ظہیر اور کبیر) کسی بلند عمارت کی چھت کنارے بیٹھا تھا، ظہیر نے کہا کہ اگر میں یہاں سے کود جاوں تو کیا ہو گا..کبیر بولا تم مر جاو گے.. ظہیر : نہیں میں تمہاری بات سے اتفاق نہیں کرتا ، میرا ماننا ہے کہ جس وقت موت لکھی گئی اسی وقت ہی آسکتی ہے اس وقت سے پہلے کچھ بھی ہو جائے میں نہیں مرونگا اور اس وقت کے آنے پر میں کچھ بھی کروں زندہ نہیں رہ سکوں گا ، موت اور زندگی خدا کے ہاتھ میں ہے..کبیر : کیا تم اس بات پر مکمل یقین رکھتے ہو؟، ظہیر: ہاں میں یقین رکھتا ہوں… کبیر:پھر چلانگ لگا کر اپنے ایمان کو ثابت کر دواور مجھے بھی قائل کرو..ظہیر ہچکچایا، کہنے لگا ، کیا تم مجھے مروانا چاہتے ہو؟ اگر واقعی میں مر جاوں تو؟ کبیر :تمہارے ایمان کے مطابق جب تک تمہاری موت لکھی نہ گئی ہو تم مر نہیں سکتی..ظہیر: ہاں ایمان تو ہے اس بات پر، مگر یہ بھی تو ہو سکتا ہے نا کہ میری موت اسی طرح ہی لکھی گئی ہو …کبیر: تو کیا ہوا؟ کیا تم اپنے خدا کو دھوکہ دینا چاہتے ہو؟ خدا نے اگر تمہاری موت اس طرح لکھ دی ہے تو تم کو ایسا کرنا ہی پڑے گا۔ بلکہ تمہارے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہو گا تھوڑی دیر میں تم نیچے گر جاو گے اور ….ظہیر بڑی پھرتی سے پیچھے ہٹ گیا اور وہاں سے بھاگ نکلا…وہ کبیر کے سوالات سے گھبر ہ گیا تھا، موت سے یا پھر خدا سے …یہ وہی جانے مگر یہ یقین ہے کہ خدا اور موت کے حوالے سے اس کے خیالات میں یقینا تبدیلی آئی ہو گی اور اس نے سچے خدا کو سچے طریقے سے تلاش کرنا شروع کر دیا ہو گا۔

اسی طرح کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر غور کرنے سے ذہن کے دروازے کھلتے ہیں۔ پی کے میں بھگوان کی مورتیاں بھیجنے والا دکاندار بڑے فخر سے کہتا ہے کہ اس بھگوان (مورتی) کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔ عامر خان (جو کہ دوسرے سیارے سے آیا ہوا انجان شخص ہے) حیرت سے پوچھتا ہے کہ آپ نے بھگوان (خدا) کو بنایا ہے یا بھگوان (خدا) نے آپ کو بنایا ؟ ….ہمارے ہاں جو مذہبی شدت پسندی ہے اس کی وجہ عام طور پر کچھ خاص لوگ ہیں جن کو عرف عام میں مذہبی ٹھیکیدار کہا جاتا ہے۔

ہر مسلمان مذہبی ٹھیکیدار نہیں ہوتا ، ان ٹھیکیداروں کو پہچاننے کا طریقہ بہت آسان ہے۔ ان سے گفتگو کرو تو آپ کو یہ تاثر ملے گا کہ جیسے خدا نے ان لوگوں کی ذمہ داری لگا دی ہے کہ یہ خدا اور خدا کے دین کی حفاظت کریں ،دنیا سے تمام برائیوں کا خاتمہ کریں ،چاہیے اس کام کیلئے انہیں کسی انسان کو قتل کرنا پڑے یا کچھ اور…پی کے میں بھی ایک ایسا سین ہے..تپسوا (مذہبی پیشوا) کہتا ہے کہ ہم بھگوان کی حفاظت کریں گے، کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ وہ بھگوان کے خلاف کچھ کہں..پی کے غصے سے بولتا ہے.. تو کرے گا بھگوان(خدا) کی حفاظت ؟ تو جو اس بہت بڑی کائنات کے ایک چھوٹے سے گولے (زمین) کے ایک چھوٹے سے شہر کی چھوٹی سے گلی میں بیٹھ کر اس بڑی ہستی کی حفاظت کرے گا؟ اسے اپنی حفاظت کرنا آتا ہے…. فلم میں یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ شاید ہمارا اصل خدا سے رابطہ قائم ہی نہیں، ہماری ساری کالیں رانگ نمبرز پر جا رہی ہے جبھی تو ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں اور ہمارا حال نہیں بدلتا…ہمیں کال ملانے سے پہلے درست نمبر کا انتخاب کرنا ہو گا۔

یہ تو ہندوستانی پی کے کی بات ہو رہی تھی، اس فلم میں اٹھائے گئے سوالات کے تناظر میں ہمیں اپنے معاشرے پر بھی ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ہم میڈیا پر اپنے معاشرے کی خامیوں کودیکھتے ہیں توان کو دور کرنے کی بجائے میڈیا( آئینہ) کو ہی برا کہہ کے بڑھاس نکال لیتے ہیں۔ چونکہ یہ میڈیا بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے اس لئے خود میڈیا میں بھی بے شمار خرابیاں ہیں۔ تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ بریکنگ نیوز کی دوڑ دن بہ دن تیز ہوتی جا رہی ہی، لگتا ہے اب ہم یہ دن بھی دیکھیں گے جب ٹی وی رپورٹر کسی قبر میں بیٹھ کر رپورٹ کر رہا ہو.. اس وقت میت کو قبر میں اتارا جا رہا ہے ، اوپر لوگ فاتحہ پڑھ رہے ہیں اور نیچے مردے کی تفتیش شروع ہو گئی ہے…کیمرہ مین فلاں کے ساتھ رپورٹر فلاں….ان کی تنقید اپنی جگہ درست مگر شاید ہمارا اجتماعی ضمیر قبر کا براہ راست حال دیکھ کے بھی نہ جاگے.. ایک چینل پر بلال قطب کا پروگرام چل رہا تھا ، ایک گھر سے میت اٹھائی جا رہی ہےی، لوگ رو رہے ہیں، ماتم برپا ہے اور یہیں سے رپورٹ بھی ہو رہی ہے… ناضرین اس وقت میں جس گھر میں ہوں ان کا بچہ چل بسا ہے اور یہ اس بچے کی لاش رکھی ہوئی ہے (کیمرہ حرکت کرتا ہوا میت کے چہرے پر آکے رکتا ہےے) یہ وہ بچہ ہے جس کو کچھ دن قبل لاہور کی ایک مسجد میں مولوی نے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد رسی کے ذریعے چھت سے لٹکا دیا تھا۔بلال قطب نے بچے کے والدین، بھائی، محلہ داروں اور دوستوں سے گفتگو کی۔لوگ بتا رہے تھے کہ جمعرات کی مقدس رات کو بچہ غائب ہوا، اس دوران مساجد میں بچے کی گمشدگی کے اعلانات کرائے گئے، جس مسجد میں بچہ قتل ہوا وہاں سے بھی اعلان کرایا گیا۔ اگلے دن جمعہ کا مبارک دن تھا۔ جمعہ کی نماز سے قبل لوگوں کو پتہ چل گیا تھا کہ بچے کے ساتھ کیا ہوا ہے مگر لوگ بے یقینی کی کیفیت میں تھے۔ حسب معمول اذان ہوئی، نمازی آئے، خطبہ ہوا اور نماز بھی پڑھی گئی۔

خدا کے گھر میں ایک طرف خدا کے حضور سجدے کئے جا رہے ہیں تو دوسری طرف اسی عمارت کے ایک کمرے میں ایک معصوم بچہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد قتل ہو کر چھت سے لٹک رہا ہے۔ کسی نے اٹھ کے نہیں کہا کہ یہ رانگ نمبر ہے، کسی نے سوال کرنے کی ہمت نہیں کی ، کسی نے بھی نہیں…۔ بلال قطب ایک بچے (جو مرنے والے بچے کا دوست ہے) کو سینے سے لگا کر کہتا ہے کہ تم اپنے دوست کے لئے دعا کرنا اور ایسے برے لوگوں سے بچنا، ان کے پاس مت جانا..اب اس کی تشریح کون کرے گا کہ برے لوگ کون ہیں؟

ہم اپنے بچوں کو کیسے سمجھا سکتے ہیں کہ برا کیا ہے اور بھلا کیا ہے کیونکہ ابھی تک تو ہمیں خود برے اور اچھے کی تمیز کرنے کے قابل نہیں ہوئی۔ آج بھی ہمارے ہاں ظلم(دہشت گردی) کیلئے جواز تراشنے والے ’’اچھے لوگ‘‘ موجود ہیں۔ لہذا لوگ اتنا تو سمجھ چکے ہیں کہ بیٹھے بیٹھے تو اچھے لوگ برے اور برے لوگ اچھے نظر آنہیں سکتے، اس کیلئے تو پی کے ہی دیکھنا پڑے گا۔ لہذا آپ کو بھی پی کے دیکھ لینا چاہئیں۔ ‘

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔