پولیو اور دیگر بیماریوں کی روکھ تھام میں ہنزہ سبب سے آگے ہے ،محکمہ صحت کا پیرامیڈیکل سٹاف اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کو خراج تحسیم

پولیو اور دیگر بیماریوں کی روکھ تھام میں ہنزہ سبب سے آگے ہے ،محکمہ صحت کا پیرامیڈیکل سٹاف اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کو خراج تحسیم

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 

Polio drops campaign in Hunza Nagar

Polio drops campaign in Hunza Nagar

ہنزہ نگر ( بیورو رپورٹ) پیرامیڈ یکل سٹاف ، لیڈی ہیلتھ و رکز اور ڈاکٹروں کا اہم کردار ہے جن کہ وجہ سے نہ صرف پولیو کے مہم بلکہ دیگر مختلف بیماریوں کے ٹیکے لگوانے اور ان بیماریوں کی روک تھا میں ہنزہ نگر سب سے آگے ہے۔میں خراج تحسین پیش کرتا ہو ں لیڈی ہیلتھ ورکرز اور پیرامیڈیکل سٹاف جن کی کوششوں کی بدولت محکمہ صحت ہنزہ نگر کا نام روش کیا ہے۔اور روقع رکھتا ہوں کہ آئندہ بھی صحت کے متعلق کوششیں جاری رکھے گے۔ان خیالات کا اظہار محکمہ صحت ہنزہ نگر کے زیر اہتمام ہنزہ نگر کے ڈاکٹرز پیرامیڈکل سٹاف اور لیڈی ہیلتھ ورکرزکے لئے صحت کے مطلق سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شیر حافظ ڈی ایچ او ہنزہ نگر نے کہا۔انھوں نے مزید کہاکہ نیمو کوکل کا ویکسین ایک سال سے کم عمر کے بچوں کو لگانا انتہائی اہم ہے جس کہ تقریباً 9سے زائد بیماریوں کا علاج کرتی ہے۔انھوں کہا کہ ہمیں موت سے نہیں ڈرنا چاہیے بلکہ بچہ کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو اس سے خوف ہونا چاہیے کیونکہ ایک صحت مند بچہ کل کا مستقبل ہے بچہ کو تعلیم دینے کا خرچہ جب ان کی علاج پر خرچ ہوتا ہے تو والدین کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس لئے چاہیے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ایک سال تک ان کی اہم ٹیکہ جات کے علاوہ پانچ سال تک مختلف بیماریوں کے ٹیکے لگائے جاتے ہے ان کو مکمل کرے تاکہ قوم کے لئے ایک صحت مند بچہ نکلے تاکہ اس کی مستقبل ایک روشن ہو۔ اس موقع پر سمینار میں شریک شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر خواجہ خان نے کہا کہ پاکستان مٰ ہر سال پانچ سال تک کے ساڑے سات سال لاکھ بچے مختلف بیماریوں میں بلوث ہو کر موت کا شکار ہوجاتے ہے بہت سے دوسرے بچے ان بیماریوں سے معذور ہو جاتے ہے۔ ان میں سے کافی تعداد بچوں کو اسان علاج ، مناسب دیکھ بال اور وقت پر ٹیکوں لگواکر بچایا جاسکتا ہے۔ بچوں کی عمر کے دوسرے سال کے دوران ان خسرہ کا دسرا ٹیکے بھی لگوائیں۔ سمینار میں کہا کہ ان سارے بیماریوں کو دور کرنے کے لئے عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً سات ؛لاکھ بچے نموینیہ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ جن میں سے 27ہزار موت کے منہ میں چلے جاتتے ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات 5.7فیصد کی وجہ نمونیہ ہے۔خصوصاً 9خطر ناک بیمایاں ، تب دق ، خسرہ ، کالی کھانسی ، خناق، تشخج ، گردن توڑ بخار ، ہیمو فلسالفلوئیز ا بی، ہپاٹیاٹس بی ، اور نمونیہ سے بچانے کے لئے ایک سال سے پہلے حفاظتی ٹیکو ں کو لگوانا انتہائی ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانا اور ان کی کور س کو پورا کرنابچوں کو بیماریوں سے محفوظ کرنے ہے۔سمینار میں ڈاکٹر خواجہ سے بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ملک بھر میں مراکز صحت ، ہسپتالو ں اور موبائل ٹیمیں کے ذریعے حفاظتی ٹیکے لگوائیں جاتے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔