بونجی کو ڈویژنل ہیڈکوارٹر بنایا جائے، استور میں گرینڈ جرگہ کا مطالبہ

بونجی کو ڈویژنل ہیڈکوارٹر بنایا جائے، استور میں گرینڈ جرگہ کا مطالبہ

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
استور(سبخان سہیل /ابرارحُسین استوری) استور ڈویژنل ہیڈ کوارٹر اور بونجی ڈیم کے حوالے سے استور گرینڈ جرگہ کا ایک اہم اجلاساستور ریسٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس میں گرینڈ جرگے کے تمام ممبران نے شرکت کی اور متفقہ طور پر 10رکنی کیمیٹی تشکیل دی گئی جو ڈویژنل ہیڈ کوارٹر اور بونجی ڈیم کے حوالے سے تما امور پر کام کریگی۔اس 10رکنی کیمٹی میں ڈاکٹر عباس ،نصر اللہ،محبوب علی خان،محمد شفاء،مولانہ سمیع ،نصیر خان ،حشمت اللہ،فرمان علی، طاہر ایوب،کفایت کو مقرر کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیرمین نیشنل مومنٹ و امید وار گلگت بلتستان اسمبلی استور حلقہ 1 ڈاکٹر عباس نے کہا کہ 32سالوں سے استور والے چلاس جاتے رہے ہیں اور اب چلاس والوں کو استور آنا چاہیے۔جبکہ استور اور دیامر دونوں اضلاح کے لئے درمیانی جگہ ہی بونجی ہے اور اس پر کوئی رکاوٹ نہ ڈالا جائے جبکہ موجودہ حالات اور دفاعی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بونجی میں ہونا چایئے ۔ ڈاکٹر عبا س نے کہا کہ ہم چاہتے تو ڈویژنل ہیڈ کوارٹر استور میں بھی ڈیمانڈ کر سکتے تھے مگر ہم نے حقائق اور دونوں اضلاح کی سہولیات کو مد نظر رکھتے ہوئے بونجی کا نام دیا جو سب سے موزوں جگہ ہے۔بونجی ڈیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایک ٹیکنیکل ایڈوئزری کیمیٹی بنانی چاہئے تاکہ ان کی رائے سے کا م چلایا جا سکے جس پر تمام ممبران نے متفقہ طور پر سفارشات پر عمل در امد کرنے کی بات کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نصر اللہ نے کہا کہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بونجی میں نہیں بنایا گیا تو ہمیں گلگت ہی بہتر ہے کیونکہ ہمیں چلاس جانے کے لئے تین گھنٹے لگتے ہیں جبکہ گلگت جانے کے لئے ایک گھنٹہ لگتا ہے اس لئے بہتر ہے کہ ہیڈ کوارٹر بونجی میں ہی بنایا جائے۔جبکہ بونجی ڈیم کے حوالے سے کہا کہ دیم کی تعمیر سے استور کی ریالٹی اور ڈویلپمنٹ فنڈز سے استور سوئزر لینڈ سے بھی اگے نکل سکتا ہے جو بہٹ اہم ہے پورے خطے کی ترقی کے لئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد شفاء اور طاہر ایوب نے کہا کہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بونجی کے علاوہ کسی جگہ قابل قبول نہیں اور اس میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے اور ڈیم کے حوالے سے کہا کہ رندو اور حراموش والے بلا وجہ اس میں ٹانگ اڑا رہے ہیں ان کو اس طرح نہیں کرنا چاہئے۔ اخر میں تمام ممبران نے متفقہ طور پر قراداد بھی منظور کی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔