پولیس کے جوانوں کو ہمیشہ الرٹ اور مستعد رہنے کے ساتھ ساتھ اپنی ڈسپلن کا ہر وقت خیال رکھنا چاہیے،ڈی پی او چترال

پولیس کے جوانوں کو ہمیشہ الرٹ اور مستعد رہنے کے ساتھ ساتھ اپنی ڈسپلن کا ہر وقت خیال رکھنا چاہیے،ڈی پی او چترال

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

IMGP0010چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چترال عباس مجید مروت نے کہا ہے ۔ کہ ضلع چترال کے ساتھ ایک طویل انٹر نیشنل باؤنڈری لائن ملتی ہے۔اس لئے یہاں کراس بارڈر دہشت گردی کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے ۔ گو کہ چترال ایک پُرامن ضلع کے نام سے مشہور ہے ۔ پھر بھی چترال پولیس کے جوانوں کو ہمیشہ الرٹ اور مستعد رہنے کے ساتھ ساتھ اپنی ڈسپلن کا ہر وقت خیال رکھنا چاہیے ۔ اور ایک پولیس آفیسر کی حیثیت سے میں ڈسپلن اور فرائض کی آدائیگی میں کوئی کو تاہی برداشت نہیں کروں گا ۔ کیونکہ انہی ذمہ داریوں کیلئے عوام کے ٹیکس سے ہمیں تنخواہیں دی جارہی ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چترال میں اپنی تعیناتی کے بعد پولیس ہیڈ کوارٹر چترال میں پہلی بار پولیس دربار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس میں ایس پی انوسٹگیشن محمد یو نس خان ، ایس ڈی پی او ہیڈ کوارٹر محمد خالد ایس ڈی پی اومستوج طارق کریم ،اور ایس ڈی پی او دروش ظفر احمد ،ڈی ایس پی غلام حسن کے علاوہ دیگر پولیس آفیسران اور مردو خواتین پولیس کنسٹبلان کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں امن کی ایک بڑی وجہ یہاں کے لوگوں کی ذاتی شرافت اور شرح تعلیم میں اضافہ ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ میں کسی کی روزی روٹی چھیننے کا قائل نہیں ہوں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ۔ کہ کوئی اپنے فرض میں کوتاہی کرنے کے بعد بھی خیر اور ہمدردی کی توقع رکھے ۔ اپنی ضرورت کیلئے سب کو قانونی چھٹی لینی پڑے گی ۔ جس میں فیمل اورمیل پولیس دونوں شامل ہیں ۔انہوں نے کہا ۔ کہ ڈیوٹی کے دوران تمام جوانوں کو اپنی سکیورٹی کیلئے ہیلمٹ اور پروٹیکشن کے دیگر سامان کا استعمال لازمی ہو گا ۔ اس میں کوتاہی کرنے والوں سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی ۔ اور یہ تمام اقدامات آپ کے تحفظ کیلئے ہیں ۔ انہوں نے تمام جوانوں سے کہا ۔ کہ کسی بھی مسئلے پر سیاسی اپروچ سے اجتناب کریں ۔ بلکہ اپنا مسئلہ بذات خود مجھ تک پہنچائیں ۔ جائز کام کو ہر صورت میں انجام دیا جائے گا ۔ اس میں کسی کی سفارش کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ڈی پی او نے کہا ۔ پولیس فورس کے اندر کوئی بھی غلط کام کسی بھی جگہ نظر آئے ۔ تو وہ براہ راست میسیج کے ذریعے یا چترال پولیس فیز بُک پیج پر مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اُن کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یہ تمام تر کوششیں عوام اور پولیس ، اور پولیس آفیسران و جوانوں کے درمیان دوری کو کم سے کم کرنے کیلئے کی جارہی ہیں ۔ انہوں اس موقع پر ایس ڈی پی او مستوج طارق کریم کی تعریف کی ۔ اور کہا ۔ کہ واحد سٹیشن ہے ۔ جس میں پولیس کا جملہ ریکارڈ اپڈیٹ موجود ہے ۔ اور ڈسپلن و صفائی کی صورت حال تسلی بخش ہے ۔ جبکہ دیگر سٹیشنوں کے بارے انتہائی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ فوری طور پر تمام ریکارڈ درست کئے جائیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی ۔ اور نہ کسی دوسرے آفیسر کو اپنے ماتحت آفیسر یا جوان کے ساتھ نا انصافی کو برداشت کیا جائے گا ۔ اس موقع پر دربار کے شرکاء کی طرف سے ایس ڈی پی او محمد خالد نے ملاکنڈ ڈویژن میں پولیس فورس کو دیے جانے والے رسک الاؤنس میں چترال پولیس کو نظر نداز کرنے ،ٹی اے ڈی اے کے موجودہ قانون میں چترال کی دور آفتادگی کے سبب خصوصی رعایت دینے کے سلسلے میں بالائی حکام تک چترال پولیس کی فریاد پہنچانے کیلئے ڈی پی اُو سے درخواست کی ۔ ڈی پی اُو نے اس موقع پر پولیس کے کئی جوانوں کی درخواستوں پر موقع پر احکامات جاری کر دیے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔