حکمران جماعت کے اہم رکن کی طرف سے دھمکیاں ملنا علاقے اور صحافیوں کیلئےنیک شگون نہیں

حکمران جماعت کے اہم رکن کی طرف سے دھمکیاں ملنا علاقے اور صحافیوں کیلئےنیک شگون نہیں

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
راولپنڈی(خصوصی رپورٹ) سیاست اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے، ان دونوں کے درمیان سردی گرمی روزمرہ کا ایک معمول ہے، لیکن بعض دفعہ حقائق پر مبنی خبروں کی اشاعت بعض سیاستدانوں پر ناگوار گزرتی ہے اور یہی سیاست دان صافیوں کے گرد حلقہ تنگ کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں جو ایک عوامی سیاستدان کیلئے کسی بھی طور پر زیب نہیں دیتا، گزشتہ دنوں ایک مقامی روزنامے میں گلگت بلتستان کے سیاستدان سے متعلق خبر شائع ہونے کے بعد جس طرح اشاعتی ادارے کو خطرناک اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، اخبارات جہاں سیاستدانوں کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں وہیں پر ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی نمائندوں کی خامیوں کی بھی نشاندہی کریں تاکہ وہ اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں پر قابو پاسکیں، تنقید برائے اصلاح پر سیخ پا ہونے کے بجائے اگر گلگت بلتستان کے سیاستدان اپنی اصلاح کریں تو مسائل خود بخود حل ہوں، گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات متوقع ہیں، ایسی صورت حال میں صحافیوں اور صحافتی اداروں کو سیاستدانوں کی طرف سے دھمکیاں دینا کسی طور پر بھی درست نہیں، عوام کا حقیقی نمائندہ وہی ہوتا ہے جو تنقید برداشت کرے، جذبات کی رو میں بہہ کر صحافتی اداروں اور صحافیوں سے الجھنا معاملات کو سنوارنے کی بجائے بگاڑنے کا موجب بن سکتا ہے، مقامی روزنامہ کی انتظامیہ کو دھمکیاں ملنے کے بعد صحافیوں اور صحافتی اداروں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور صحافتی امور کی انجام دہی میں سنگین مشکلات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے.
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صحافتی ادارے کو دھمکیاں کسی اور سیاسی پارٹی نے نہیں بلکہ مرکز میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے ایک مرکزی رہنما کے حامیوں کی طرف سے ملی ہیں، حکمران جماعت کے ایک اہم رکن کی طرف سے اس طرح کی دھمکیاں ملنا علاقے اور صحافیوں کیلئے کسی طور پر بھی نیک شگون نہیں اور اس کے منفی اثرات آنے والے انتخابات پر بھی پڑ سکتے ہیں ادھر صحافتی تنظیموں نے اس صورت حال پر سنگین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت بالخصوص وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید اور صوبائی وزیراطلاعات عنایت اللہ شمالی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں، بصورت دیگر صحافتی تنظیمیں اس ظلم و زیادتی کیخلاف ملک بھر میں احتجاج کریں گی۔
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔