حقوق سے محرومی کے اسباب 

حقوق سے محرومی کے اسباب 

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان کے پندرہ لاکھ عوام آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی بنیادی انسانی، آئینی، سیاسی اور معاشی حقوق سے محروم ہیں۔ محرومیوں کی یہ داستان بہت طویل ہے جس کی تفصیلات یہاں ذکر کرنا مقصود نہیں۔ ڈوگرہ راج سےآزادی، راجگی نظام سے چھٹکارہ پانے کے بعد ھم کھبی بیوروکریسی کے غلام بن گئے تو کھبی ملا نے اپنے حصار میں لیے لیا۔

گلگت بلتستان میں بسنے والوں نے کھبی اپنے حقوق کے حصول پر اس قدر توجہ نہیں دی جس قدر مختلف تعصبات کی بنیاد پر مفادات لینے کی کوشش کی ہے. ہمیں اس حقیقتAbul Rehman Bukhari کو تسلیم کرنا ھوگا کہ عوام کی اکثریت فرقہ بندی، قومیت،علاقاییت سمیت گلی محلے کی حد تک تعصب کا شکار ہے. ہم اپنے کسی بھائی کی کامیابی اور ترقی کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ ھم ھر معاملے کو تعصب کی عینک لگا کر دیکھتے ہیں۔ ھم میں ایک دوسرے کو قبول کرنے اور برداشت کرنے کا جذبہ نہیں ہے.

گلگت بلتستان آج اگر حقوق سے محروم ھے تو اس کے زمہ دار یہاں کے عوام اور خواص بھی ہیں۔ یہاں کا عالم دین ھو یا سیاسی شخصیت، عام آدمی ھو یا خاص، سبھی نے یہاں کے بسنے والوں کو ایک قوم بنیے نہیں دیا۔ کسی نے مسجد کے ممبر و محراب کو فرقہ پرستی کےلئے استمال کیا تو کسی نے اپنی سیاست کو چار چاند .لگانے کےلئے ھر کارڈ کھیلا۔

عوام کو تقسیم در تقسیم کر کے کھبی متحد ہونے نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کے عوام آج تک حقوق سے محروم چلے آرہے ہیں۔

گلگت بلتستان میں قابل و باصلاحیت لوگوں کی کمی نہیں ہے. ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنوں کی قدر نہیں کرتے، ان کی صلاحیتوں اور قابلیت سے استفادہ کرنے کے .بجاے ان کی ٹانگیں کھنچنے لگ جاتے ہیں۔ جو لوگ خود کچھ نہیں کرسکتےہیں وہ اپنے قیمتی لوگوں کو بھی کچھ کرنے نہیں دیتے۔

یہی وجہ ہے کہ کھبی گھنسارا سنگھ ،کائرہ سنگھ تو کھبی برجیس سنگھ جیسے لوگ ہم پر مسلط رہتےہیں۔

ہمیں یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ ہم آج تک ایک ایسی سیاسی شخصیت پیدا نہیں کرسکے جو ملکی سطح پر ھماری پہچان بن سکے۔ ہمیں حقوق سے محروم رکھنے میں جہان غیروں کی سازشیں شامل ہیں وہی ھم بھی برابر کے حصہ دار ہیں. ھماری نااتفاقی کی وجہ سے ھم حقوق سے محروم ہیں۔

اگر ہمیں حقوق لینا ھے تو تعصبات کو ختم کر کے متحد ھونا ھوگا، ملا کو اپنا کام کرنا ھوگا، وکیل، ڈاکٹر، صحافی اور سیاسی لوگوں کو اپنی زمہ دار یاں ادا کرنا ہوگی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments