گورنمنٹ پرائمری سکول نصرگول ابھی تک چاردیواری سے محروم ہے

گورنمنٹ پرائمری سکول نصرگول ابھی تک چاردیواری سے محروم ہے

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Nisru gole

چترال(کریم اللہ) سب ڈویژن مستوج کے تاریخی گاؤں نصرگول جو کہ تین دیہات نصرگول خاص،ساکولشٹ اور قدرت آباد پر مشتمل ہے جنکی آبادی تقریباَ140گھرانے سے زائد ہے۔1988ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کےدورِ حکومت میں علاقے کے تعلیمی مسائل کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے وہاں ایک پرائمری سکول کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ جسمیں کلاسز کا آغاز 1994ء میں ہوا۔دو کمروں پر مشتمل یہ سرکاری سکول علاقے کے لوگوں پر حکومت پاکستان کی واحد مہربانی ہے ۔ لیکن اپنی تعمیر سے لیکرآج تک یعنی گزشتہ 27برسوں میں اس سکول کی جانب کسی نے توجہ دینے کی زحمت گوارا نہ کی جسکی وجہ سے سکول اب بھی بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔علاقے کے عمائدین کا کہنا تھاکہ سکول کی چاردواری انہوں نےاپنی مدد آپ کے تحت انہوں نے خود تعمیر کی۔ جبکہ سکول کے صحن کی تعمیر بھی  طلبہ وطالبات اور ان کے والدین نے کی تھی۔سکول کے ایک سابق اسٹوڈنٹس نے بتایا کہ جب وہ بچپن میں سکول آتے تھے توچوکیدار جو کہ سارے اختیارات کے مالک ہوتے تھے وہ سب اسٹوڈنٹس کولیکر اپنے کھیتوں کے اردگرد جمع شدہ ریت اور دوسرے کچروں کو اٹھواکر سکول کے صحن کی بھرائی کرواتے تھے اور یوں اس سکول کی تعمیر سے چوکیدار کو دوفوائد ملے پہلے انہیں ایک بیکار زمین میں سکول کی تعمیر سے ملازمت ملا دوسرے اس سکول کے صحن اور چاردواری کی تعمیر سے ان کے کھیتوں میں موجود پتھر اور ریت صاف ہوگئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ گورنمنٹ کے دوسرے سکولوں کی مانند اس سکول میں اختیارات کا مالک چوکیدار ہوتے تھے جو کہ اسٹوڈنٹس سے سکول کے علاوہ اپنے گھر کاکام بھی لیتے تھے اور انہیں سزائیں بھی دیتے تھے جس پر علاقے کے عمائدین ان کے خلاف کئی مرتبہ ایجوکیشن آفس میں رپورٹ درج کی لیکن اسکا کوئی اثر نہ ہوا۔یا درہے کہ علاقے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کچی اینٹوں سے جو باؤنڈری وال تعمیر کیاتھاوہ ٹوٹ پھوٹ اور خستہ حالی کاشکارہوچکےہیں۔ایک طرف حکومت مفت اور معیاری تعلیمی نظام کا دعویٰ کرتی ہے تو دوسری طرف دوردرازعلاقوں میں موجود سکول بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔