چترال کے علاقہ انگارغون میں جنگلی درندہ سیاہ گوش  نے بکریوں پر حملہ کرکے 18کو ہلاک کر دیا

چترال کے علاقہ انگارغون میں جنگلی درندہ سیاہ گوش  نے بکریوں پر حملہ کرکے 18کو ہلاک کر دیا

17 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
ایک مطالعے کے مطابق چترال میں ٢٠٠١ سے لے ٢٠٠٨ تک سیاہ گوش کے حملوں میں ٦٣ بھیڑیں، ١٠٤ بکریاں اور سینکڑوں کی تعداد میں مرغیاں ماری جاچکی ہیں.

ایک مطالعے کے مطابق چترال میں ٢٠٠١ سے لے ٢٠٠٨ تک سیاہ گوش کے حملوں میں ٦٣ بھیڑیں، ١٠٤ بکریاں اور سینکڑوں کی تعداد میں مرغیاں ماری جاچکی ہیں.

چترال (نذیرحسین شاہ نذیر ) چترال کے علاقہ انگارغون میں جنگلی درندہ سیاہ گوش (LYNX) نے بکریوں پر حملہ کرکے 18کو ہلاک کر دیا ۔ جن کی مالیت لاکھوں میں بتائی جاتی ہے ۔ ایس ایچ او تھانہ شغور فضل رحیم کے مطابق انگار غون کے مقام پر گذشتہ رات سیاہ گوش نے ایک شخص نادر خان ولد فضل مولا کے مویشی خانے میں موجود بکریوں پر حملہ کیا ۔ اور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر اٹھارہ بکریوں کو چیر پھاڑ کر ہلاک کر ڈالا۔ جبکہ ہلاک ہونے والے بکریوں میں سے کئی کے گلے کاٹے ہوئے تھے ۔ ڈی ایف او وائلڈ لائف چترال امتیاز حسین نے ہمارے نمائندے کو بتایا ۔ کہ بکریوں پر یہ حملہ سیاہ گوش کی طرف سے ہوا ہے ۔ اور اُس کی تصدیق کیلئے اگلے دن شکار کیلئے واپس آنے پر لنکس کی باقاعدہ فلم بندی کی گئی ہے ۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی ۔ کہ ان بکریوں کو برفانی چیتے نے ہلاک کیا ہے ۔ کیونکہ برفانی چیتا ایک شکار کرتا ہے ۔ اور اس طرح درجنوں جانوروں کو ضائع نہیں کرتا ۔ جبکہ سیاہ گوش پورے ریوڑ پر ہلہ بول دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ فروری 2013میں بالائی چترال کے گاؤں چوئنچ میں ایک بھوکے سیاہ گوش نے بچوں پر حملہ کیا تھا ۔ اس پر بروقت لوگوں نے بچون کی جان بچائی اور سیاہ گوش کو زخمی کر دیا تھا ۔ بعد آزان ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی ٹیم نے اُس سیاہ گوش کا علاج کرنے کے بعد چترال شہر کے قریبی نیشنل پارک چترال گول میں چھوڑ دیا تھا ۔ ڈی ایف او نے بتایا ۔ کہ لنکس کی آبادی کافی بڑھ گئی ہے ۔ جو کہ اس علاقے میں جنگلی حیات کی افزائش کے ساتھ ساتھ صحت مند ماحول کی عکاسی کرتا ہے ۔ جس علاقے میں بکریوں پر سیاہ گوش نے حملہ کیا ہے ۔ یہ پورا بلٹ جنگلی حیات کا مسکن ہے ۔ اور سینکڑوں جنگلی حیات ،مارخور اس علاقے میں رہائش پذیر ہیں ۔ جہاں یہ آزاد زندگی گزار رہے ہیں ۔ڈی ایف او نے کہا ۔ کہ مویشیوں کے نقصانات کے ازالے کیلئے اُن کے پاس کوئی فنڈ دستیاب نہیں ۔ تاہم مقامی ویلج کنزرویشن کمیٹی کے پاس موجود فنڈ سے متاثرہ شخص کے نقصانات کا ازالہ کرنے کی کو شش کی جائے گی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔