تعلیم ۔۔۔

تعلیم ۔۔۔

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

صبح تڑکے تنویر آنکھیں مَل مَل کے اُٹھے دارالعلوم میں استاد نے تاکید کی تھی کہ صبح کی نماز کے لئے مسجد آنا۔ماں جاگی تھی خودٹھنڈے پانی سے وضو بناکے نماز پڑھ رہی تھی۔تنویر بستر سے کوداا باورچی خانہ گیا نہ ادھر آگ جلائی گئی تھی نہ لکڑیاں تھیں۔ٹھنڈا پانی لے کے وضو بنایا۔مسجد کی طرف دوڑا۔سراٹھااٹھاکے امام مسجد کو اپنی حاضری کی یقین دہانی کرارہاتھا امام مسجد جو اس کے دارالعلوم کا استاد بھی تھا کوئی خاص توجہ نہیںدی۔

hayatتنویر ٹھٹھر رہا تھا نماز پڑھنے کے بعد واپس دوڑ دوڑ کے گھر پہنچا۔ماں نے آگ جلائی تھی اس نے پھٹی پُرانی بنیان پہن لی بستر میں گھسا تاکہ تھوڑا ساگرم ہوجائے اُس کے بہن بھائی ابھی اُٹھے نہیں تھے سرنکالے دیکھ رہے تھے ماں نے آواز دی ۔۔۔۔اُٹھ سکول کے لئے دیر ہورہی ہے۔۔۔۔تنویر بستر سے پھر کھودا باورچی خانہ گیا کالی چائے کے ساتھ چپاتی کاٹکڑا کھایا۔افسردہ ماں اُسے دیکھتی رہی۔باپ نے اتنا کہا ۔۔۔۔آرام سے کھاؤ کہیں لقمہ خلق میں پھنس نہ جائے۔ماں نے اُس کے سر سے سکول کی کالی ٹوپی اُتاری دوسرے ہاتھ پہ مارکے جھاڑ کے پھر اُس کے سر پہ رکھی۔تنویر کے پاس جرابیں نہیں تھیں ماں نے کہا ۔۔۔۔سردی سے تیرے پاؤں سوجھ جائینگے یہ میری جرابیں پہن کے جاؤں۔۔۔۔سرخ رنگ کی جرابیں تھیں مگرایڑھیوں پر بڑے بڑے سوارخ تھے۔تنویر نے ایک پہن لیا تو ہنسی سے لوٹ پوٹ گیا۔۔۔۔امی اتنا بڑے سوراخ کہ میری ایڑھی پنڈلی تک ننگے ہیں۔برائے نام جرابیوں سے کیا ننگے پاؤں ٹھیک نہیں؟جرابیں اُتار پھینکا ایک ادھ قہقہا لگایا،ماں کو بوسہ دیا،ننگے پاؤں جوتا پہن کر گھر سے نکلا۔۔۔۔

قوم کی ترقی کے لئے تعلیم بہت ضروری ہے ۔تعلیم یافتہ بچہ والدین کا خواب ہے ۔مفت ،میعاری اور اعلیٰ تعلیم قوم کے بچوں کو دیا جائیگا۔اداروں میں پھول بچوں کو ہرقسم کے خطرے سے محفوظ کرنے کے لئے ہرممکن کوشش کیجایگی۔چاردیواری ،اوپر کانٹے دار برقی تار،ہتھیار سے لیس چوکیدار،خفیہ کیمرے،ایمرجنسی نمبرز یہ سب ممکن ہونگے۔سب اس سلسلے میں فکر مند ہیں۔اساتذہ اپنے ساتھ ہتھیار رکھیں۔۔۔۔تنویر ان سب چیزوں سے بے خبرہے۔اُس نے کبھی ایسا سکول دیکھا تک نہیں جس کا کوئی بڑا گیٹ ہے،کوئی چاردیواری ہے،کوئی چوکیدار ہے۔۔۔۔وہ اپنے پرائمری سکول کے احاطے میں داخل ہوتا ہے دوکمروں پر مشتمل اس سکول کی نہ کوئی چاردیواری ہے نہ کوئی گیٹ ،کھڑکیوں کی جالیوں تک اُتری ہوئی ہیں اس کے اندر معیار تعلیم ہے یا نہیں یہ بھی اُس کوپتہ نہیں۔چھ کلاسیں اور دو اساتذہ ہیں دھوپ نکلنے تک بچے سردی سے ٹھٹھر تے ہیں دھوپ نکلے تو گراونڈ میں ادھر اُدھر دائرے میں بیٹھتے ہیں کبھی استاد کے اردگرد کھڑے کھڑے پڑھتے ہیں سارا گاؤں باران رحمت کی دعاؤں مانگتا ہے مگر بچے دھوپ کی دعائے مانگتے ہیں۔۔۔تنویر کے سکول پہنچنے سے پہلے گھنٹی بجتی ہے دوڑ کر اسمبلی میں شامل ہوتاہے۔۔۔۔

پاک سرزمین شاد باد۔۔۔۔کشورِ حسین شاد باد۔۔۔۔تونشان عزم عالیشان۔۔۔۔ارضِ پاکستان۔۔۔۔مرکزِ یقین شادباد۔۔۔۔آج موسم صاف ہے دھوپ نکلی ہوئی ہے تنویر اور اُس کے ساتھی اپنے استاد کے اردگرد کھڑے ہیں،استاد کے ایک ہاتھ میں کتاب اور دوسرے ہاتھ ڈنڈا ہے۔ابھی سبق شروع نہیں ہوا کہ سکول کے احاطے میں ایس ایچ او صاحب اور دو سپاہی داخل ہوتے ہیں استاد کتاب اور ڈنڈا رکھتا ہے آگے بڑھتا ہے ایس ایچ او ذراتنے ہوئے ایک ہاتھ آگے کرتا ہے۔استاد ذراجھک کے دونوں ہاتھ آگے کرتا ہے۔جان ومال کے محافظ اور اخلاق وکردار کے محافظ کے ہاتھ ملتے ہے اخلاق وکردار کی طرف سے دوہاتھ آگے بڑھتے ہے کیونکہ یہ بھاری چیز ہے بچے ذرا سہمے ہوئے اُن کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اُن کی گفتگو صاف سُنائی نہیں دیتی۔رخصت ہوتے ہوئے بھی ملن اُسی انداز کا ہے استاد واپس آتا ہے کتاب اور ڈنڈا ہاتھ میں لیتا ہے بچے سوال کرنے کی جرات نہیں کرسکتے۔استاد دور خلاؤں میں گھورتا ہے اُس کی آنکھوں میں نمی تیر رہی ہے گویا ہوتا ہے۔۔۔بچوں زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اللہ زندگی بار باردیتا ہے موت ایک بار دیتا ہے۔جب موت دیتا ہے تو زندگی چھین لیتا ہے اُس کی زمین پر اگر کسی کی سانسیں باقی نہیں رہتی تو دنیا کی کوئی طاقت اُس کو بچا نہیں سکتی۔اگر باقی ہوں تو کوئی چھین نہیں سکتا۔بچو !ایک بات ضرور کہو ں کہ بہادر ایک بار مرتا ہے بزدل بار بار مرتا ہے۔مسلمان ہمیشہ موت کے سایے میں ہوتا ہے۔موت سے لڑنا اُس کا محبوب مشغلہ ہے۔آپ کے یہ شیردل جوان اس سرزمین کے ذرے ذرے کی حفاظت کے لئے تیار ہیں۔۔۔۔استاد نظریں کتاب پہ جماتا ہے عبارت پڑھنا شروع کرتا ہے۔۔۔۔

پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے سب بچے استاد کے ساتھ چیخ کرپڑھتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے تحفہ ہے بچے چیخ کر استاد کے ساتھ پڑھتے ہیں گونج دور پہاڑوں سے ٹکراتی ہے اور واپس نہیں آتی کہ گھنٹی بجتی ہے۔بچے اچھلتے کھودتے گھروں کی طرف دوڑتے ہیں۔استاد کتاب اور ڈنڈا کمرے میں لے جاتا ہے میز پہ پھنک کے کمرہ بند کرتا ہے۔آج ساتھی استاد اور چوکیدار دونوں غیر حاضر تھے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔