گلگت پھرجل رہا ہے

گلگت پھرجل رہا ہے

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت کے حالات کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے معروف شاعر قتیل شفائی کا درد بھرا یہ پیغام یاد آجاتا ہے۔قتیل شفائی نے برسوں پہلے

شہرِآشوب کے حوالے سے فرمایا تھا، آج گلگت پھر شہرِ آشوب بننے جارہاہے۔ قتیل ؔ کیا خوب فرماتے ہیں۔

رشتہِ دیوار و در، تیرا بھی ہے، میرا بھی ہے

مت گرا ،اس کو یہ گھر تیرا بھی ہے، میرا بھی ہے

تیرے میرے دم سے ہی قائم ہیں اس کی رونقیں

میرے بھائی یہ نگر تیرا بھی ہے، میرا بھی ہے

کیوں لڑیں آپس میں ہم ایک ایک سنگِ میل پر

اس میں نقصانِ سفر تیرا بھی ہے، میرا بھی ہے

شاخ شاخ اس کی ہمیشہ بازوئے شفقت بنی

سایا سایا یہ شجر تیرا بھی ہے، میرا بھی ہے

کھا گئی کل ناگہاں جن کو فسادوں کی صلیب

ان میں اِک نورِ نظر تیرا بھی ہے، میرا بھی ہے

اپنی حالت پر نہیں تنہا کوئی بھی سوگوار

دامنِ دل تر بہ تر تیرا بھی ہے، میرا بھی ہے

کچھ تو ہم اپنے ضمیروں سے بھی کر لیں مشورہ

گرچہ رہبر معتبر تیرا بھی ہے، میرا بھی ہے

غم تو یہ ہے گر گئی دستارِ عزت بھی قتیلؔ

ورنہ اِن کاندھوں پہ سر تیرا بھی ہے، میرا بھی ہے

haqqani logo and pictureمبارک ہو! اے وہ جنہیں اس علاقے کا امن کبھی نہیں بھاتا، معلوم نہیں ان خونخواروں کی نظریں اس جنت نظیر علاقے پر کیوں لگیں ہیں۔آج تمہاری روحیں آسودہ ہیں، تمہارا دل خوش ہے اور تمہاری مرادیں پوری ہونے کو ہیں اور تمہارے آقا بھی تمہیں تھپکیاں دے رہے ہیں۔ بس تم خوش رہو۔ کوئی بات نہیں کہ گلگت میں آگ لگے، دھواں اُٹھے، عورتیں بیوہ ہوجائیں، بچے یتیم ہو جائیں اور سہاگ لُٹیں، جوانیاں ضائع ہوجائیں، اہل علاقہ آپس میں دست و گریباں ہوجائیں، خون کے تالاب بنیں۔بازاروں میں کساد بازاری ہو، معیشت دم توڑ لیں، سیاحت کا جنازہ نکل جائے، مساجد و مدارس بے آباد ہوں۔بس تم اور تمہارے آقا خوش ہوں، باقی خیر ہے۔

ہم اسلام کے داعی ہیں اور الحمدللہ اسلام نے کبھی اس قتل و غارت اور خونخواری کا درس نہیں دیا۔ہمیں مل بیٹھ کر سوچنا چاہیے کہ کیا ہماری اندرونی خلفشار اور ناچاکیاں ناقابل تلافی نقصان کا باعث نہیں بنی ہیں؟۔ کیا یہ سچ نہیں کہ فرقہ واریت کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔؟ اختلاف رائے کا ہونا الگ مسئلہ ہے، اختلاف میں حسن بھی ہے۔ دین اسلام افہام و تفہیم کا درس دیتا ہے ایک دوسرے کو ملیا میٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی ایک دوسروں کی پریشانیوں اور غموں اور مصیبتوں میں خوش ہونے کا درس دیتا ہے اور نہ ہی شادیانے بجانے کو اسلا م لائق تحسین گردانتا ہے۔مگر یہاں تو ہمارا حال یہ ہے کہ ایک طبقہ اور اس کے ارباب پر مصیبت آجائے تو دوسرا طبقہ خوشی کے شادیانے بجاتا نہ تھکتا ہے۔ یہ بہت افسوس ناک رویہ ہے۔اسلام امن و سلامتی اور احترامِ انسانیت کا سب سے بڑا داعی ہے۔انتہا پسندی ، عدم برداشت اور بدامنی اسلام کی روح کے یکسر منافی ہیں۔مگر ہمارے اعمال و افعال اسلام کے آفاقی پیغام کے سراسر مخالف جارہے ہیں۔ ہمارا دین اسلام ہے اور ہمیں اس پر بے حد فخر ہے۔ اسلام زندگی کے ہر شعبہ میں ہماری مکمل راہنمائی کرتا ہے اور برائی اور ظلم کو مٹانے کا درس بھی دیتا ہے ۔اسلام کی نگاہ میں بنی نوع انسان کا ہر فرد چاہیے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم ، بلا تفریقِ مذہب و ملت احترام کا مستحق ہے۔ اس عظیم دین کا حسن دیکھئے کہ اسلام سلامتی اور ایمان امن سے عبارت ہے ۔سلامتی اور امن دنیا کے ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور یہ ضرورت فقط اور فقط اسلام پوری کرتا ہے۔ اور پوری انسانیت کے ہادیِ اعظم پیغمبر آخرالزماں ﷺ کو اللہ تعالی نے تمام جہانوں کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔نبی رحمت ﷺ کی حیاتِ طیبہ ، صبر و برداشت، عفو و درگزر اور رواداری اور محبت و مودت سے عبارت ہے جبکہ مذہبی انتہا پسندی آپ ﷺ کی تعلیمات کے قطعا منافی ہے۔ میں نے جب بھی تعلیمات خداوندی پر غور کیا تو انہیں نتائج پر پہنچا۔ قرآن کریم واحد آفاقی کتاب ہے اس نے دین ومذہب کا جو تصور عطا کیا ہے وہ اعتدال پر مبنی ہے، قرآن مجید نے انتہا پسندی کے مقابلے میں اعتدال پسندی کو مستحسن عمل اور دین کی روح قرار دیا اور امت مسلمہ کو ابلاغ اور تبلیغ دین کے حوالے سے بھی اعتدال اور غیر جانب داری کا اصول عطا کیا۔ مگر سچی بات یہ ہے کہ آج مسلم امہ میں اس کا شدید فقدان ہے۔کم از کم گلگت میں تو اس کا قحط ہی ہے۔

میرے پیارے گلگت بلتستان میں ہر ایک نے اپنی بساط کے مطابق نفرت کی لکیریں کھینچ دی ہیں، یہاں ایک بے سود جنگ جاری ہے۔ سیاست دانوں کو اپنی سیٹ کنفرمیشن کی فکر ہے جبکہ نگران کابینہ کو مبارک بادیاں وصول کرنے سے فراغت نہیں اور مذہبی رہنماؤں کے بیانات، تقریروں، احتجاجی مظاہروں، ہڑتالوں اور مطالبوں میں شدت آچکی ہے۔جن سے علاقہ مزید مفلوج ہوتا جارہا ہے۔کوہستان تا بلتستان مختلف مسالک اور علاقوں میں محاذ ارائی کا سلسلہ چل نکلا ہے جس کے باعث علاقائی نظم و نسق ابتری کا شکار ہے۔پولیس فریق کا کام کررہی ہے۔ انتظامیہ اور بیورکریٹس خاموش تماشائی بنے بیٹھیے ہیں۔ شہریوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے جبکہ اہم سیاسی لیڈران اسلام آباد میں ہارس ٹریڈنگ اور بندکمرہ ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔

پیارے گلگت بلتستان میں تضادات و اختلافات کی سیاست و معاشرت نے پورے معاشرے کولپیٹ میں لے لیا ہے اور غریب قوم کو ایک ہیجان میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ہر آدمی حالات سے شاکی ہے۔یوں لگتا ہے کہ پھر سے کوئی بڑی افتاد پڑنے والی ہے۔یا اللہ ہمیں بھی بچا اور اس پیارے گلگت بلتستان کو بھی بچا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاک فوج اور وفاقی حکومت کو حالات اپنے کنٹرول میں لینا چاہیے۔ بدمعاشوں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے، یہ نہ ہو کہ مجرم تو بھاگ نکلے اور اس کا جرم غریب کو بھگتنا پڑے۔گلگت بلتستان ایک اہم جغرافیائی علاقہ ہے۔ حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازعہ خطہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حساس اور مقتدر اداروں کو اس علاقے پر سخت نظررکھنی چاہیے۔تاکہ کوئی ملک دشمن خونی کھیل نہ کھیلے۔

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ عوامی نمائندوں پر سے عوام کا اعتماد آٹھ چکا ہے اور ان کی عوام دوستی کا سارا بھرم کھل گیا ہے۔لوگ منافقت اور مفادات کی سیاست سے تنگ آچکے ہیں ۔ انہیں شدید احساس ہو چکا ہے کہ گلگت بلتستان کی بقا سیاسی راست بازی،سیاسی شائستگی اور مذہبی لیڈروں کی وسعت ظرفی اور کشادہ دلی میں مضمر ہے مگرسیاسی ومذہبی رہنما ان اوصاف حمیدہ سے عاری نظر آتے ہیں۔ دل و دماغ میں انگاروں کی مانندسوالات اُمڈ رہے ہیں ۔مگر کسی سوال کا کوئی مثبت جواب نہیں مل رہا ہے۔ دو سال سے کافی پرامن ماحول بنتا جارہا تھا مگر پورے علاقے میں یک طرفہ کاروائیوں کی وجہ سے حالات مزید گھمبیر ہوتے چلے جارہے ہیں۔عدل و انصاف کا ترازو اور سزا و جزا کا نظام سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے، بصورت دیگر حالات مزید خراب ہوجائیں گے جس سے صرف اور صرف غریب کا نقصان ہوگا۔ہر ایک اپنی راگ آلاپ رہا ہے۔مشترکات کی بات کرنا جرم بن گیا ہے۔

میں گلگت بلتستان کے نوجوانوں سے مخاطب ہوں کہ آپ غور و فکر کریں اور ایک ایسا عمرانی معاہدہ پر دستخط کردیں کہ ان روز روز کی چپقلشوں سے پوری قوم کی جان چھو ٹ جائیں، ہاں ہمیں یہ حقیقت بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ان عمرانی معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے تمام طبقات سے نوجوان اور تعلیم یافتہ احباب کو کمرکس کے میدان عشق و وفا میں اترنا ہوگا، ورنہ ہم نے امن معاہدہ 2005ء اور ضابطہ اخلاق2012کا حشر دیکھا ہے۔ میں نے تین سال پہلے لکھا تھا کہ’’ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ان خونیں معاملات و واقعات کا اعلی ترین سطح پر غور کیا جائے اور اپنی حدوں سے تجاوز کرنے والوں کا کڑا محاسبہ کیا جائے اور دن دہاڑے لوگوں کو مارنا اور اسلحہ کی نمائش کرنے والے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے جیسی مکروہ روایات کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیا جائے۔کیا اب بھی وقت نہیں آیا ہے کہ گلگت بلتستان کو مقتل بنانے والوں کو بے نقاب کیا جائے اور عوام کو بتلایا جائے کہ اس دھرتی میں آگ اور خون کی ہولی کھیلنے والا اصل طبقہ کون ہے۔حکومت، عوام، عدلیہ و انتظامیہ اور فوج کو مل کران پُر تشدد واقعات کے حوالے سے بے لاگ تحقیق کا اہتمام کرنا چاہیے اور جو بھی ملوث ہو اس کا محاسبہ ہونا چاہیے اور آئندہ اس سے حدود میں رکھنے کے لئے سخت اقدامات کرنے چاہیے ۔ اگر ایسانہیں ہوتا ہے تو سمجھ لو کہ اب تو آگ اور خونی کھیل کا ابتداء ہے انتہا کیا ہوگی۔ فاعتبروا یااولی الابصار،‘‘ ۔

آو ہم سب مل کر اللہ کے حضور دیا کرتے ہیں: یا اللہ ہمیں امن و سکون سے رہنے کی توفیق عطاء فرما، اے ارحم الراحمین: ہمارے اس جنت نظیر علاقے کو امن و اشتی گا گہوارہ بنا۔ یہاں سے شر و فساد کو ہمیشہ کے لیے ختم فرما۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔