وادی بوروغل کے نوجوانوں کیلئے روزگار کی فرہمی اور غربت کے خاتمے پر پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام

وادی بوروغل کے نوجوانوں کیلئے روزگار کی فرہمی اور غربت کے خاتمے پر پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے نہایت دور آفتادہ اور پسماندہ ترین وادی بروغل کے نو تشکیل شدہ مقامی معاون تنظیم Local Support Organization کے اراکین کیلئے آغا خان رورل سپورٹ پروگرام نے پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں چھپے ہوئے صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کو محتلف روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور غربت کے حاتمے میں ان کی کلیدی کردار ادا کرنے کیلئے راغب کرنا تھا۔

Enhancing Employability & Leadership for Youth پروگرام کے تحت ان شرکا ء کو محتلف اداروں کے ماہرین نے لکچرز دئے کہ وہ کیسے اپنے علاقے کو ترقی دے سکتے ہیں اور چھوٹے موٹے کاروبار شروع کرکے حکومت پر بوجھ کم کرکے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا ہے۔ نیز ان میں لیڈرشپ کی صلاحیتوں کو نکھارتے ہوئے مستقبل میں بڑے لیڈر کی طرح نمودار ہونا ہے۔

ماہرین نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بروغل چترال بلکہ پاکستان کا آحری حصہ ہے جو افغانستان، تاجکستان ، چین اور روس کے سرحد کے قریب واقع ہے اس علاقے میں بہت کم ترقی ہوئی ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے بروغل سے تعلق رکھنے والے چند خواتین و حضرات نے کہا کہ ان کے علاقے میں صرف ایک سال پہلے سڑک بنا ہے ابھی تک ان کے علاقے میں سڑک تک نہیں تھا ان لوگوں نے گاڑی بھی نہیں دیکھی تھی۔

حتیٰ کے زیادہ تر لوگوں نے چترال شہر کا صرف نام سنا تھا مگر اسے دیکھا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں آ ج بھی بجلی، سڑک ، ٹیلیفون۔ ہسپتال، کالج، سکول وغیرہ نہیں ہیں۔ زیادہ تر لوگ مال مویشی پالتے ہیں ان پر گذر بسر کرتے ہیں۔ تاہم وادی میں سات ماہ تک چار سے چھ فٹ تک برف پڑی رہتی ہیں اس دوران کوئی کام کاج نہیں ہوسکتا اور لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سب سے دردناک بات اور منظر یہ ہے کہ چھوٹے بچے سکول جانے کی بجائے بھیڑ بکریاں پالتی ہیں کیونکہ جب سکول ہی نہیں ہے تو بچے کہاں جائے۔ چند خواتین نے بتایا کہ جب زچگی کے دوران خواتین بیمار پڑتی ہیں تو ان کو چارپائی پر ڈال کر پیدل لاتے ہیں تاکہ ان کو جنوبی چترال کے کسی قریبی قصبے میں پہنچا کر ڈاکٹر کو دکھائے مگر اس کوشش میں اکثر خواتین ہسپتال یا ڈاکٹر کے پاس پہنچنے سے پہلے جاں بحق ہوتی ہیں۔

ان لوگوں نے مطالبہ کیا کہ وادی بروغل کے لوگ بھی وفادار پاکستانی ہیں ان کو بھی بنیادی سہولیات اور شہری حقوق فراہم کی جائے تاکہ ان کی زندگی میں بھی قدرے آسانیاں آسکے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔