آئینہ

آئینہ

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

محمد شریف ہنزائی 

مین بس اسٹینڈ جوٹیال گلگت بلتستان میں اپنی نوعیت کا اہم اور منفرد اڈہ ہے۔اندرونی و بیرونی سیاحوں کے علاوہ مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی آمد ورفت یہاں سے ہوتی ہے۔ میکہ اور اس کی ماں جو جاپانی سیاح تھیں سے میری ملاقات اس لاری اڈے پر ہوئی ۔ سیاحتی مقامات اور کلچر سے متعلق گفت و شنید کے دوران شہر کے ہائی جینیک مسائل بھی زیر بحث آئے۔اڈے کی صفائی قابل تعریف ہے ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ مجھے طمانیت کا احساس ہوا کہ پاکستان میں بھی کچھ ادارے کم وسائل اور مین پاور کی کمی کے باوجود اپنی ذمہ داریاں بہ احسن خوبی نبھا رہی ہے۔چیف آفیسربلدیہ اور اڈہ انچارج الیاس مبارک باد کے مستحق مگر اڈہ کی خوبصورتی میں اضافے اور مسافروں کو سہولیات پہنچانے کیلئے مزید اقدامات اُٹھانے سے ادارہ ہذا کا امیج بلند ہوگا۔حالیہ دنوں پانی کا ٹینک بنایا گیا ہے ۔واسا کی توجہ اس جانب مبذول کرواکر پانی کی کمی کے مسائل کو کم کی جاسکتاہے۔باتھ رومز کی تعمیر کا کام چیف آفیسر بلدیہ کی ذاتی دلچسپی کے باعث شروع ہوچکا ہے۔ ادارہ ہذااس کام کو جلد مکمل کرنے کی سعی کرے ۔صفائی کاعملہ کم ہے اضافے کی گنجائش موجود ہے ڈپٹی کمشنر کی مدد اور معاونت سے عملے کی تعداد میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ میرا یہ کالم اپیل کی صورت اختیا ر کر گئی ہے مگر کسی بھی ملک کے پبلک مقامات اس ملک کا آئینہ ہوتی ہے حکومتیں اس پر توجہ دے کر عوام میں سر خرو ہوسکتی ہے تا ہم ملک کے ہر باشعور شہری کا مثبت کردار متعلقہ ادارے کیلئے ممدومعاون ثابت ہوگا۔ تاجر کچرا سڑکوں پر پھینکنے کی بجائے ڈسٹ بین میں پھینکے ، فروٹ منڈیوں کا کچر ا ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری منڈی مالکان کے ذمے ہوں اور وہ اپنے ذمہ داریوں سے آگاہ ہو۔ شہر میں مال مویشی بلا روک ٹوک سڑکوں پر گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں تعفن پھیلنے کے علاوہ ٹریفک حادثات کے موجب بننے کا اندیشہ ہے مالکان قوانین کا احترام کرتے ہوئے آزاد نہ کرے۔آزاد چرائی سے نئے لگائے گئے درختوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے اور ماحول بھی آلودہ ہوتا ہے جس سے موذی بیماریاں پھیلتی ہے۔ حکومت کا فرض بنتاہے کہ وہ لوگوں کو ایجوکیٹ کرنے کیلئے مناسب اقدامات اُٹھائے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنائے۔صفائی نصف ایمان ہے اس پر من و عن عمل کرکے اپنے شہر کو خوبصورت اور بیرونی سیاحوں کیلئے پرکشش بناسکتے ہیں۔بظاہر یہ معاملہ ایک عام آدمی کیلئے قابل توجہ نہیں ہوگا لیکن قوموں کی ترقی کا ٹرننگ پوائنٹ یہی سے شروع ہوا۔ترقی یافتہ ممالک کے ترقی کے منازل طے کرنے میں سول سوسائٹی نے اہم رول ادا کیا ہے۔ ملکی مفاد میں اُٹھائے جانے والے اقدامات کا بھر پور ساتھ دیااور ترقی کے سفر میں حکومت کے شانہ بشانہ کام کرکے اپنے ملک کو بلندیوں تک پہنچا دیا۔ہم بھی تھوڑی سی محنت اور اپنی ذمہ داریوں کے بل بوتے پر شہر گلگت کو سیاحوں کا جنت بناسکتے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔