چترال اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے زیر انتظام پشاور میں ایوارڈ اور اسکالر شپ تقسیم کرنے کی تقریب 

چترال اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے زیر انتظام پشاور میں ایوارڈ اور اسکالر شپ تقسیم کرنے کی تقریب 

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

zxپشاور (کریم اللہ) چترال اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن پشاور کے زیرِ انتظام آرکائیوزلائبریری میں پشاور میں ایوارڈ شو اور سکالر شپ ڈسٹری بیوشن سرمینی کا انعقاد کیا گیا اس پروگرام کی صدارت انجمن ترقی کہوار پشاور کے سابق صدرمہربان الہی حنفی،مہمان خصوصی سیکشن آفیسر سی ایم سیکٹریٹ فدالکریم تھے جبکہ پروگرام کے گیسٹ اسپیکر اسلامیہ کالج یونیورسٹی مسجد کے خطیب ڈاکٹر عزیز اللہ اور نامور سوشل ورکر صادق آمین بھی موجود تھے، اسٹیج کے فرائض پشاور یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس ثنااللہ خان اوراسلم بیگ انجام دے رہے تھے۔اس پروگرام میں مرد طلبہ کے ساتھ ساتھ خواتین کی بھی بھاری تعداد موجود تھی

پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اسکے بعد امتیار احمد امرو زنے مہمانوں کا شکریہ اداکیا ۔پروگرام کے گیسٹ اسپیکر ڈاکٹر عزیز اللہ نے نوجوانوں کی ذمہ داریاں قرآنی تناضر میں پیش کیا ان کا کہنا تھا کہ یوتھ کسی بھی معاشرے کی تعمیر وترقی میں اہم کردار اداکرتے ہیں چترال کے یوتھ ضلع سے باہر اپنے علاقے کے سفیر ہے لہٰذا انہیں اپنے کلچر کا خیال رکھنا چاہئے ۔ اسکے بعد CSAکے صدر نوشاد جان نے پروگرام کے مقاصد اور اپنی کاکردگی بیان کی ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے پشاور میں مقیم چترالی طلبہ وطالبات کے مسائل سے نمائندگا ن کو آگاہ کیا تو کسی بھی نمائندے نے اس جانب توجہ دینے کی زحمت گوارا نہ کی نہ ہی کسی رکن کااسمبلی نے ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی جرات کی.

انہوں نے کہا کہ ہم نے پشاور میں مقیم چترال کے اسٹوڈنٹس کے لئے علیٰحدہ ہاسٹل بنانے کے لئے کئی مرتبہ حکام اور نمائندگان کو آگاہ کیا لیکن ہمارے مطالبات نمائندگان ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ نامور اسکالر اور دوسرے اعلیٰ عہدے پر متمکن افراد بھی ہماری حوصلہ افزائی تک کرنے کو گوارا نہ کیا اپنے اسی ہی پروگرام میں ہم پشاور یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کو بلایاتھا لیکن وغدہ کرنے کے باؤجود وہ دو گھنٹے کے لئے بھی یہاں نہیں آئے ۔سیاسی نمائندگان سے مایوس ہوکر جب شہزادہ امان الرحمٰن کے پاس گئے تو انہوں نے ہماری باتین سنی اور طلبہ وطالبات کے لئے پروگرام منعقد کرنے اور انہیں اسکالر شپ دینے کے لئے ہماری مالی معاونت لی جس کے لئے ہم ان کے مشکور ہے اور ہماری طرف سے جہاں بھی ممکن ہوا ہم شہزادہ امان الرحمٰن کے اس خدما ت کو فراموش نہیں کرئینگے اسکے علاوہ صدر سی ایس سے نے پوزیشن ہولڈر طلبہ وطالبات کو مبارک باد دی۔

پروگرام کے وسط میں کوئز کمپیٹیشن بھی منعقد کی گئی جس میں طلبہ وطالبات نے بھرپور انداز سے حصہ لیا اور صیحح جواب دینے والے اسٹوڈنٹس کو انعامات سے بھی نوازا گیا ۔معروف سماجی کارکن صادق آمین نے پرجوش اندازسے پروگرام سے خطاب کیا ان کا کہنا تھا کہ مملکت پاکستان میں جب بھی ضرورت پڑی چترال کے عوام نے ملک کے لئے کسی بھی قربانی سے دریع نہیں کیا چترال کے ہر گاؤں میں کئی کئی شہدا کے مقبرے موجود ہے لیکن آفسوس کا مقام یہ ہے کہ حکومت معدنی وسائل سے مالا مال ضلع چترال کی پسماندگی کے خاتمے کی جانب کبھی بھی توجہ نہیں دی اگر حکومت سفارتی ودفاعی اور اقتصادی لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل اس ضلعے کی جانب توجہ دے تو یہ معاشی ہپ بن سکتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ علاقے کی حیثیت کو سمجھا جائے انہوں نے بتایا کہ ایم ایم اے دورِ حکومت میں ہم نے صوبائی حکمرانوں سے ملاقات کرکے یہ مطالبہ کیا کہ چترال کے عوام نے ایم ایم اے کے تینوں امیدواروں کو کامیاب بنا کے بھیجا ہے لہٰذاپشاور میں چترال کے اسٹوڈنٹس کے لئے دو ہاسٹلزایک میل کے لئے اور ایک فیمل کے لئے تعمیر کی جائے لیکن اس دور کے حکمرانوں نے بھی ہماری جانب توجہ نہیں دی پروگرام کے مہمان خصوصی سیکشن آفیسر سی ایم سیکٹریٹ فداالکریم نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نوجوانوں کو اپنے وقت کا صیحح ادراک کرکے اسکا صیحح استعمال کرے پلاننگ سے کام لئے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے اسکے علاوہ نوجوانوں کو روزمرہ کے حالات سے باخبر ہونے کے ساتھ عالمی صورت سے بھی واقفیت کی ضرورت ہے ۔ پروگرام کے آخر میں ضرورت کی بنیاد پر اسکالر شپ اور قابلیت کی بنیاد پر نوجوانوں میں ٹرافیاں تقسیم کی گئی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔