چترال سے 55کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پہاڑی تودہ دریا میں گرنے کی وجہ سے دریا نے جھیل کی صورت اختیار کرلی

چترال سے 55کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پہاڑی تودہ دریا میں گرنے کی وجہ سے دریا نے جھیل کی صورت اختیار کرلی

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

چترال (بشیر حسین آزاد ) چترال شہر اورگرد و نواح میں گذشتہ رات سے بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے ۔چترال سے55کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ریشن گاؤں میں دریا میں پہاڑی تودہ دریا میں گرنے کی وجہ سے تقریباًڈیڑھ کلومیٹر دریا نے جھیل کی صورت اختیار کی۔اسسٹنٹ کمشنر سب ڈیژن مستوج منہاس الدین کے زیر نگرانی امدادی کام کرنے والے افراد فوری طورپر کاروائی کرتے ہوئے جھیل کو کھولنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔جھیل بننے کی وجہ سے مقام پر آٹھ چکوروم زمین،ایک ایکسیویٹر،ٹریکٹر بمعہ دیگر سامان پانی میں غائب ہوگئے۔

برفباری کی شدت سے کوشٹ سندراغ کے مقام پر ایک بیوہ خاتون زوجہ میر بائیس خان کا کچہ مکان مکمل طور پر منہدم ہو گیا ۔ جبکہ کئی مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے ۔ لواری ٹنل کے دونوں طرف تین فٹ برف پڑ ی ہے ۔جس کی وجہ سے ٹنل اپروچ روڈبند ہے ۔ برفباری کے باعث لاسپور ،گرم چشمہ،تورکہو اور کالاش ویلیز روڈ بلاک ہو چکے ہیں ۔ جو گذشتہ روزہی کھول دیے گئے تھے ۔

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

برفباری کی وجہ سے لوگوں کی معمولات زند گی متاثر ہوئی ۔ برفباری سے چترال شہر میں سرکاری دفاتر میں حاضری انتہائی کم رہی ۔ جبکہ سکول کھلنے کے باوجود خراب موسم کے باعث طلباء کی بڑی تعداد سکولوں میں حاضر نہیں ہو سکے ۔ برفباری نے ٹریفک اور کاروبار کو بھی متاثر کیا ۔اور بازاروں میں لوگوں اور گاڑیوں کی تعداد بہت کم رہی ۔ سردی کی شدت میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوا ہے ۔ اور جلانے کی لکڑی کی نایابی کا سامنا ہے ۔ جس کی وجہ سے سوختنی لکڑی کی منہ مانگی قیمت وصول کی جاتی ہے ۔دوسری طرف لواری ٹنل کے راستے این ایچ اے کی طرف سے ٹرکوں کی آمد پر پابندی سے چترال میں خوراک کی قلت پیدا ہو گئی ہے ۔ اور لوگوں کو دستیاب اشیاء خوردونوش اور اشیاء صرف کی دوگنی قیمت ادا کرنا پڑتا ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔