گلگت بلتستان کو پیکجز کی نہیں، آئینی حقوق کی ضرورت ہے، ڈاکٹر شبیر حسن مثیمی

گلگت بلتستان کو پیکجز کی نہیں، آئینی حقوق کی ضرورت ہے، ڈاکٹر شبیر حسن مثیمی

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

GBNE PIX 1

گلگت( کامریڈ ارسلان) شیعہ علماء کونسل پاکستان کے پارلیمانی بورڈ اور سیاسی سیل کے ممبر اور منشور کمیٹی کے سربراہ علامہ ڈاکٹر شبیر حسن مثیمی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو پیکیجز کی ضرورت نہیں آئینی حقوق کی ضرورت ہے ۔ سابقہ حکومتوں نے آئینی حقوق کے حوالے سے پیچیدہ گیاں پیدا کئے ۔ جب گلگت بلتستان کو حقوق دینے کی بات ہوتی ہے تو متنازعہ قرار دیا جاتا ہے اور فوجی عدالتوں اور سزاؤں کی بات کی جاتی ہے تو جی بی کو پاکستان کا حصہ قرار دیا جاتا ہے ۔ گلگت بلتستان کا سب سے بڑا مسئلہ آئینی حقوق کا تعین ہے آئینی حقوق نہ ملنے کے باعث عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گلگت کے ایک مقامی ہوٹل میں تنظیمی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تنظیمی کنونشن میں گلگت کے عہدیداروں اور کارکنان کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ڈاکٹر شبیر حسن مثیمی نے مزید کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بناہے مسلمانوں کو قید کرنے کیلئے نہیں ،ملت جعفریہ ملک کیلئے بڑی قربانیاں دیتے آرہی ہیں ، ہم شہادتوں سے گھبرانے والے نہیں ملت تشیع ہمیشہ شہادت کی منتظر رہتی ہے ۔تحریک جعفریہ پاکستان نے ہمیشہ امت مسلمہ اور ملت جعفریہ کی نمائندگی کی ہے ۔ اتحاد بین المسلمین کیلئے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ مشکلات کے باوجود اسلامی تحریک نے ملی یکجہتی کونسل اور ایم ایم اے کو فعال رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ بیلنس کی پالیسی ختم کی جائے ۔ہم نے لاشیں اٹھا کربھی اتحاد امت کا درس دیا، لیکن اس کے باوجود قومی پلیٹ فارم پر پابندی لگائی گئی ۔ آج اسلامی تحریک صرف ملت جعفریہ کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی حفاظت کررہی ہے ۔ تنظیمی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل گلگت بلتستان کے سینئر نائب صدر علامہ شیخ مرزاعلی نے کہا کہ تحریک جعفریہ ایک گروہ نہیں یہ ایک نظریہ اور سوچ کا نام ہے ،اسلامی تحریک ملت تشیع کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اور مسلسل زیادتیوں کے بعد سیاسی عمل میں حصہ لیا ہمارے عقیدے کے حقوق سلب ہورہی تھیں اور ملت جعفریہ کو تیسرے درجہ کا شہری قرار دیا جارہا تھا ایسے میں تحریک جعفریہ نے سیاسی میدان میں حصہ لیکر اپنا لوہامنوایا ، ملت اسلامیہ کی تاریخ تب تک پوری نہیں ہوتی جب تک مکتب تشیع کو شامل نہ کیا جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملت جعفریہ کی تحفظ ریاستوں کی ذمہ داری بنتی ہے افسوس سے کہنا پڑ رہاہے کہ ہمیں تحفظ فراہم نہیں کیا جارہاہے ۔ فرقہ وارانہ بنیاد پر الیکشن لڑنے پر پابندی لگانے کی باتیں ہورہی ہیں ۔ سیاسی جماعتیں خود فرقہ وارانہ بنیاد پر الیکشن لڑرہی ہیں ہم صرف ملت جعفریہ کی نہیں پورے عالم اسلام کی نمائندگی کررہے ہیں۔ حکومت فرقہ وارانہ بنیاد پر الیکشن لڑنے پر پابندی کے حوالے سے وضاحت کرے ۔ اس موقع پر شیعہ علماء کونسل گلگت ڈویژن کے صدر شیخ سجاد حسین قاسمی نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک جعفریہ کو پروان چڑھانے میں شہید آغا ضیاء الدین رضوی کا کلیدی کردار رہاہے۔ آغا ضیاء الدین رضوی کی قیادت میں تحریک جعفریہ پاکستان میں دو مرتبہ کامیابی حاصل کی اور ملت ایک منظم قوم بن کر ابھری TJPجب عروج پر تھی تو ایک ڈکٹیٹر نے توازن کی پالیسی اپناتے ہوئے اس پر پابندی لگائی ،انہوں نے کہا کہ قائد ملت جعفریہ سید ساجد نقوی ملت اسلامیہ اور مکتب جعفریہ کے حقوق کے لئے جد و جہد کررہے ہیں۔کارکنان میں اگر یہی جزبہ رہا تو آئندہ انتخابات میں 1994ء کی تاریخ دوبارہ دہرائی جائے گی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔