دعوی اکیڈیمی کے دن رات

دعوی اکیڈیمی کے دن رات

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

hayatدعوی اکیڈیمی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈپٹی ڈائر یکٹر جنرل نے اپنے لکچر کے آخر میں روتے ہوئے کہا۔۔۔۔ہمیں اپنی پہچان کی ضرورت ہے ہمیں اپنی پہچان کی فکر نہیں ۔۔۔اس کے انسوؤں نے لکچر ہال افسردہ کرنے کی بجائے ایمان کی حلاوت اور یقین کی خوشبو سے بھردیا شرکائے محفل تڑپ اُٹھے۔بات دل سے نکل کردل میں اترگئی تھی۔اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد دنیائے اسلام کا معروف تعلیمی ادارہ ہے جہان پر تمام عصری اور سائنسی علوم کے علاوہ اعلیٰ دینی علوم سے طلباء کو مستفید کیا جاتا ہے۔یہاں کے سکالرز مختلف زبانوں میں کتابوں،تحریروں،رسالوںCDsوغیرہ کے ذریعے دین اسلام کو دنیا کے سامنے واضح اور آسان مفہوم میں پیش کرتے ہیں۔اسلام دین فطرت ہے اور اللہ پاک کا سچا دین ہے۔جو اس سے بے خبر ہے وہ اپنی جگہ مگر جو اس سے باخبر ہے اس کے زمے یہ فرض ہے کہ وہ دین کو تمام بے خبروں اور تمام عالم انسانیت کے سامنے درست ،واضح ،عام فہم اور مدلل انداز میں پیش کرے ۔تاکہ پوری عالم انسانیت اس کے دائرے میں داخل ہوجائے۔ورنہ قیامت کے دن اس دین کو ماننے والے باز پرس سے بچ نہیں سکتے۔۔۔مسلم امہ کو اللہ پاک نے خیر الا ت کہا۔اور اس کے زمے عالم انسانیت کی رہنمائی کاکام لگادیا۔دعوت کاکام عجیب ،جان گسل،صبر آزما،مسلسل اور محنت طلب ہے۔مگر اس کام میں اطمنان کا مزہ ہے۔اسودگی ہے نصرت ہے اور شکستگی میں بھی حوصلہ ہے۔غور کیا جائے تو بہت پیارا کام ہے۔۔۔خالق کی حقیقت مخلوق کے سامنے پیش کرنا۔۔۔۔خالق خود سب کچھ کرسکتا ہے مگر اپنی پہچان کمزور مخلوق سے کرارہا ہے۔کیا ہی دلنشین کام ہے۔بیٹا اپنے بھائیوں کو سمجھا رہا ہے کہ یہ ہمارا ابو ہے اس کا احترام کرو۔شاگرد ساتھیوں کو بتارہا ہے یہ ہمارا استاد ہے۔یہ تو انسانی رشتے ہیں۔خالق اور مخلوق کا رشتہ کتنا عظیم ہے۔اب خالق سے مخلوق کا اور مخلوق سے خالق کا تعارف کرانا کتنا اچھنبے کا کام ہے۔ااسلامک یونیورسٹی میں دعویٰ اکیڈیمی ایک ایسا شعبہ ہے۔جو دعوت کے کام میں لگاہوا ہے۔اللہ کا دین اس کی پوری آب وتاب کے ساتھ عالم انسانیت کے سامنے کس طرح پیش کیا جائے۔اس کی عظمت اور شان وشوکت لوگوں پر کس طرح واضح ہوجائے۔1978ء میں دعوت کے کام کا آغاز ہوا پہلے یہ قائداعظم یونیورسٹی کے اندر ایک چھوٹا سا شعبہ تھا اس کا نام شریعت اینڈ لا تھا۔ڈاکٹر انیس احمد نے1984میں اسلامک یونیورسٹی کے اندر ’’دعویٰ پروجیٹ‘‘کے نام سے ایک پروجیکٹ کا آغاز کیا اس وقت ڈاکٹر صاحب یونیورسٹی کے ڈین تھے۔مارچ1985ء کو اس کا نام دعویٰ اکیڈیمی رکھا گیا۔اس اکیڈیمی کے تحت انٹرنیشنل ٹریننگ پروگرامز،انٹرنیشنل ہیومن ریسورس ٹریننگ پروگرام جن کے تحت تربیت یافتہ لوگ غیر مسلموں کے درمیان رہتے ہوئے دعوت کاکام کررہے ہیں انٹرنیشنل دعویٰ کورسس فارنیو مسلم،تربیت اساتذہ ،تربیت ائمہ اور ان کے علاوہ صحافی،وکلاء اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو تربیت کے لئے یہاں پر بلایا جاتا ہے۔10مختلف زبانوں میں قرآن حکیم کے تراجم شائع ہوئے ہیں۔24سے زیادہ کتب شائع ہوئے ہیں۔مختلف رسائل شائع ہورہے ہیں۔جن کے ذریعے مطالعاتی کوسس کرائے جارہے ہیں۔CDSہیں۔مطالعہ قرآن ،حدیث اور سیرت کے کورسس ہیں۔ملاشیاء اور یوگنڈھا میں سنٹرز ہیں۔تربیت اساتذہ کے سلسلے میں62وان تربیتی پروگرام میں شرکت کا موقع ملاتھا۔فیصل مسجد کے احاطے میں داخل ہوتے ہی ایک سکینہ ایک اطمنان دلوں اور ذہنوں پر نازل ہوتا ہے۔حالانکہ یہ اسلام آباد کا ایریا ہے۔جہاں پر بانت بانت کے لوگ بستے ہیں ۔حوا کی بے حجاب بیٹیاں ،آزاد نشین نوجوان ،زندگی کی حقیقت بے خبر بوڑھے،اپنے انجام سے نابلد غیر ممالک کے لوگ ۔۔۔چاہئیے تھا کہ اس قضا سے ایسی خوشبو نہ آتی مگر یہیں کہیں اسلام اپنی اصل حقیقت اور آب وتاب کے ساتھ موجود ہے۔اس لئے اس علاقے کی فضا میں اسلام کی خوشبو رچی بسی ہے۔دعویٰ اکیڈیمی میں دعوت الااللہ کاکام ہورہا ہے۔اس لئے اس کے درودیوار سے اسلام کی خوشبو آتی ہے۔ہوسٹل میں جاؤ ہر طرح کی سہولیات اپنی جگہ مگر ساتھی لوگ سہولیات بھول کر طمانیت میں مست ہوجاتے ہیں۔کھانے میں عام دال کے دانوں میں اتنی لذت ہے کہ کھانے کو ہی دل کرتا ہے۔خدمت کرنے والے بھائیوں کی آنکھوں سے خدمت کا نور پھوٹ رہا ہے۔اکیڈیمی کے اندرکا سارا عملہ اخلاق وکردار کا چمپین ہے۔بابو روایتی بابو نہیں،کلرک روایتی کلرک نہیں۔کلاس فور روایتی کلاس فور نہیں۔بڑا افیسر کلاس فور کوبھائی کہہ کر پکارتا ہے۔کیا شان ہے اسلام کی۔۔۔بہت بڑے اسکالر سے اس کا تعارف پوچھو تو’’ناچیز‘‘ کہہ کر صرف نام بتائے گا۔چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے والے یہ چاند تارے بھی عجیب ہیں۔آپ کو گلے لگانے میں بخل نہیں کریں گے۔کوئی چیز اس دل نادان کو ان کی طرح کھینچ کے لے جاتی ہے۔یہ عجیب لوگ دلوں میں گھر بناتے ہیں۔دلوں کے مکین بنتے ہیں۔روح وبدن پر خیالات واحساسات پر حکومت کرتے ہیں۔اپنا گرویدہ بناکے چھوڑ دیتے ہیں۔انسان ان کی سحر سے آزاد نہیں ہوسکتا۔ان کے پاس اخلاق وکردار کا خزانہ ہے جو مخلوقات پر کھل کرخرچ کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ’’انسان‘‘ثابت کرنے کے لئے اپنی ہر صلاحیت ،ہرعظمت ،ہر عہدہ اور ہرکام چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کو اگر ڈرہے تو اس بات کا کہ کوئی ان کو روایتی افیسر روایتی پروفیسر اور روایتی سکالرنہ سمجھے۔بس’’انسان‘‘سمجھے۔فخرِموجوداتؐکا اعزاز آپؐ کا ’’بندہ‘‘ہونا تھا اور قرآن نے اس لئے کہا کہ میں نے تمہیں مومینن کے لئے روف الرحیم بنایا ۔ورنہ یہ تم سے بھاگ جائے۔دعویٰ اکیڈیمی میں 7دن رہے۔لکچر سنتے رہے سرد ھنتے رہے ان لوگوں کے اخلاق وکردار کی خوشبو سونگھتے رہے۔ان کا درد اور خلوص جذب کرتے رہے۔سایے کی طرح ان کے ساتھ رہے اور اسلام کو اپنی اصلی روح کے ساتھ دیکھ کر مچلتے رہے۔اسلام اللہ کا دین ہے دنیا میں ہر کہیں زندہ ہے۔مگر زمین کا یہ ٹکڑا اسلام کی خوشبو سے معطر ہے۔اللہ پاک اپنے دین کے صدقے یہاں پرکام کرنے والے خوش قسمتوں کی خصوصی مدد فرمائے۔اور ان کو اجر عظیم دے جنہوں نے ہمارے دلوں کو اسلام کی روح اور اپنے کردار سے مزین کیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔