چترال، صوبائی وزیر برائے آبپاشی محمود خان کا دورہ چترال،متعلقہ افسران اوراہلکاروں سے ملاقات

چترال، صوبائی وزیر برائے آبپاشی محمود خان کا دورہ چترال،متعلقہ افسران اوراہلکاروں سے ملاقات

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

DSC09512

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) خیبر پختونخواکے وزیر برائے آبپاشی محمود خان نے محکمہ کے متعلقہ افسران اور اہلکاروں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ ضلع چترال میں محکمہ آبپاشی کے جاری اور نئی منصوبوں میں اعلیٰ میعار کو برقرار رکھتے ہوئے مقررہ مدت میں پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔یہ ہدایت اُنہوں نے ضلع چترال کے دورے کے دوران محکمے کی جانب سے دئیے گئے بریفنگ کے موقع پر دی۔اس موقع پر انجینئر سوات سرکل شفیق احمد نے چترال میں آبپاشی کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ182ملین روپے کی لاگت سے مختلف منصوبوں پر تیزی سے تعمیراتی کام جاری ہے جن میں سیلاب سے بچاؤ کے حفاظتی پشتوں کی تعمیر اور ایریگشن چینل کی تعمیر ومرمت بھی شامل ہیں۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ اس طرح 44ملین روپے کی لاگت سے نئی منصوبوں کی فیزبلیٹی اسٹڈی کی جارہی ہے۔صوبائی وزیر نے بریفنگ پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زراعت کی ترقی میں آبپاشی کا انتہائی اہم رول ہے۔اس لئے موجودہ تحریک انصاف کی حکومت صوبے میں دیگر شعبوں کی طرح محکمہ آبپاشی کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کرنے کا پختہ عزم کررکھا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے ترقیاتی منصوبوں میں کمیشن مافیا ،رشوت خوری،اور بدعنوانیوں کے خاتمے کے لئے انقلابی اقدامات اُٹھائی ہے۔اُنہوں نے کہا قومی خزانہ قوم کی امانت ہے اب لوگوں کے ذاتی جیبوں میں نہیں جائینگے بلکہ ایک ایک پائی کو عوام کی فلاح وبہبود کے منصوبوں پر خرچ کئے جائینگے۔صوبائی وزیر محمود خان نے منتخب نمائندوں اور علاقے کے لوگوں سے کہا کہ حکومت کی جانب سے عوام کی فلاح وبہبود کے لئے جاری منصبوں پر کڑی نظر رکھیں۔تاکہ تمام منصوبے معیاری اور بروقت مکمل ہوجائیں اور اُن کے ثمرات زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہوسکے۔محمود خان نے اس موقع پر یہ ہدایت کی کہ دریائے چترال کے سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لئے حفاظتی پشتوں کی تعمیر کی منصوبوں پر جلد از جلد کام کرکے مکمل کیا جائے۔اجلاس میں ایم پی اے فوزیہ بی بی ،ضلعی صدر پی ٹی آئی عبداللطیف،ADCچترال اور XENایریگیش بھی موجود تھے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔