یہ وقت قلم کاہے، بندوق کا زمانہ چلا گیا، چلاس نجی سکول میں تعلیمی تقریب سابق وزیر بشیر احمد کا خطاب

یہ وقت قلم کاہے، بندوق کا زمانہ چلا گیا، چلاس نجی سکول میں تعلیمی تقریب سابق وزیر بشیر احمد کا خطاب

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(عمرفاروق فاروقی سے) دیامر کے اوپر لگے بدنما داغ کو تعلیم کے ذرئیعے مٹایا جاسکتا ہے ۔نوجوان نسل تعلیمی میدان میں اپنا لوہا منوائیں اور اپنی روایات و تہذیب کو علم کی نور سے منور کریں ۔دیامر تعلیمی انقلاب کی جانب گامزن ہے ۔حکومت بدنام کرنے کی بجائے شرح خواندگی بڑھانے پر توجہ دیں ۔ان خیالات کا اظہار سابق وزیر تعمیر ات بشیر احمد خان نے پیر کے روز سن رائز پبلک سکول چلاس کے سالانہ نتائج کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر دیامر کو تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے ۔دیامر کے لوگ ذہین اور بڑے دماغ رکھتے ہیں ،لیکن بدقسمتی سے روز اول سے دیامر کو تعلیمی اعتبار سے پسماندہ رکھنے کی سازش ہوئی ہے اور یہاں کے طلبہ و طالبات کو سازش کی تحت مواقع فراہم نہیں کئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ وقت قلم کا ہے بندوق کا زمانہ چلا گیا ہے علمی مقابلے اور مباحث کے ذرئعے سماجی تبدیلی و ترقی ممکن ہے ۔انہوں نے سکول انتظامیہ کے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کم وقت میں سن رائیز کو معیاری تعلیمی ادارہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں مجھے اُمید ہے کہ یہ ادارہ مستقبل میں دیامر کے اندر تعلیمی انقلاب کا باعث بنے گا

11076635_726848937435352_302973917_o

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیامر رائیٹر فورم کے صدر و معروف کالم نگار فیض اللہ فراق نے کہا کہ دیامر میں تعلیمی انقلاب کی ضرورت ہے ۔ماضی میں دیامر کے تعلیمی اداروں کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت نظر انداز کیا گیا ہے ۔کاروان علم کو منظم اور مربوط بنانے کیلئے تعلیمی اداروں کے انفراسڑیکچراور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ چلاس کا واحد ڈگری کالج آج بھی کسی مسیحا کا منتظر ہے نہ کالج کی عمارت مکمل ہے نہ چاردیواری اور نہ ہی ہاسٹل کا نظام ہے ۔ارباب اقتدار کو چاہئے کہ دیامر پر صرف الزامات اور جہالت کا علاقہ کہنے کی بجائے تعلیمی شعور کو فروغ دیں ۔انہوں نے کہا کہ جن معاشروں میں شرح خواندگی نہ ہونے کی برابر ہے وہاں منفی سرگرمیوں کا وجود جہالت کا رد عمل ہوتا ہے ۔گلگت بلتستان میں ماضی کے حکومتوں نے دیامر کو تعلیمی لحاظ سے پسماندہ رکھا ہے اور جن کے نتائیج آج بھی ہمیں مل رہے ہیں انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام کو مربوط بنانے کیلئے عوام اور والدین کو بھی اداروں کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ دیامر کو نظر انداز کرنے والے آج آکر دیکھیں کہ یہاں تو طلبہ و طالبات معیاری علوم سے بہرہور ہونا چاہتے ہیں ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل سن رائیز پبلک سکول چلاس عمران نے کہا کہ تمام طلبہ و طالبات کامیاب ہوئے ہیں اور گزشتہ سال کے نسبت اچھا نتیجہ ہے انہوں نے کہا کہ سکول سے چھٹی کے بعد والدین اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں ۔

11029693_726848920768687_40905688_o

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔