ضلعی انتظامیہ تھک داس کے 20ہزار عوام کو ڈنڈے کے زورپر نکالنے کی سازشوں میں لگی ہوئی ہے، مقررین

ضلعی انتظامیہ تھک داس کے 20ہزار عوام کو ڈنڈے کے زورپر نکالنے کی سازشوں میں لگی ہوئی ہے، مقررین

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

11063251_728109797309266_48990363_n

چلاس(عمرفاروق فاروقی) تھک نیاٹ یوتھ قومی مومنٹ و عمائندین تھک بابوسر کا تھک داس میں ایک اہم ہنگامی اجلاس زیر صدارات حاجی شاہ خان،صدر ضیاء اللہ تھکوی، حاجی میون زیب عالم،نمبردار زبیر، نمبردار باراک،نمبردار ثامیر،نور ولی ،بشیر،حاجی جمشید،مجیب الرحمن موسی خان ،محمد مشتاق،اسحاق ہاشم،جعفر جمالی،محمد ندیم،کالا خان،میاں تاج محمد و دیگر منعقد ہہوا ۔اجلاس میں دیامر کی ضلعی انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اور تھک کے عوام کو بلا جواز تنگ کرنے پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حاجی شاہ خان،نمبردار زبیر،حاجی جمشید،زیب عالم و دیگر نے کہا کہ دیامر کی ضلعی انتظامیہ تھک داس کے 20ہزار عوام کو بزور ڈنڈا نکالنے کی سازشوں میں لگی ہوئی ہے ،اور پولیس کو ہر وقت تھک داس میں بھیج کر وہاں کے عوام کو تنگ کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ تھک داس تھک نیاٹ کے عوام کی ملکیتی ٓراضی ہے اور یہاں صدیوں سے رہ رہے ہیں ،تھک نیاٹ کے عوام نے تھک نالے میں بابوسر روڑ ،سیلاب،اور برف باری کی وجہ سے متاثر ہوکر تھک داس میں اپنی آبادی کو بڑھا دی ہے ،اور اس وقت سینکڑوں گھرانے اپنے بال بچوں کے ساتھ وہاں پر مقیم ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دیامر کی ضلعی انتظامیہ 50 سال بعد میں متاثر ہونے والوں کیلئے 10سال پہلے سے متاثر کیمپوں اور کھوکھوں میں زندگی بسر کرنے والوں کو اُن کی اپنی ہی ملکیتی زمین سے بے داخل کرنے کا منصوبہ بناچکی ہے ،اگر حکومت نے تھک نیاٹ کے عوام کو تھک داس سے بے دخل کرنے کی کوشیش کی تو تھک نیاٹ،اور بابوسر کے عوام میں سخت مایوسی اور بے چینی پھیل جائیگی اور وہ ہجرت کرنے پر مجبور ہونگے ،کیونکہ تھک نیاٹ میں بسنے کیلئے اب کوئی جگہ باقی نہیں رہی ہے ۔

،جو کچھ تھوڑی بہت زمنئیں تھی وہ بابوسر کاغان روڑ،سیلاب اور برف باری کی نظر ہوچکی ہیں ،اب تو تھک نیاٹ اور بابوسر میں لوگوں کودفنانے کیلئے قبر کھو دینے کی جگہ باقی نہیں بچی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت تھک نیاٹ کے عوام کی مجبوریوں کو سمجھیں اور مزید یہاں کے مظلوم عوام کو تنگ کرنے کا سلسلہ بند کرے ۔انہوں نے کہا کہ اگر دیامر کے تمام آراضی خالصہ سرکار ہے تو حکومت نے ایک مخصوص قبیلے کو کیوں نوازاہے ،کیونکہ دیامر ڈیم سے دیامر کے اندر بسنے والے تمام طبقات متاثر ہورہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ واپڈا اگر ڈیم بنانے میں مخلص ہیں تو وہ زبردستی کرنے کی بجائے عوام سے بات چیت کریں ،اگر زبردستی کسی قوم کی ملکیتی ٓراضی پر قبضہ جمانے کی کوشیش کی گئی اس کے بعد پیش آنے والی صورت حال سے دیامر ڈیم کی تعمیر میں حکومت کو مشکلات کا سامنا کرناپڑے گا۔انہوں نے چیف سیکرٹی،فورس کمانڈر،اور دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نوٹس لیکر تھک نیاٹ کے عوام اور متاثرین کے اوپر ہونے والی ظلم اور زیادتی کا نوٹس لیں ۔تاکہ وہاں کے عوام سکھ کا سانس لے سکیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔