ادب پارے: من کی دنیاکالٹیرا شاعر 

ادب پارے: من کی دنیاکالٹیرا شاعر 

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 حاجی سرمیکی

ادبِ بلتستان کا سحر خدایوں ہی تابندہ و درخشاں رکھے۔یہاں کی ہرصبح صبا شناس ہو اور ہمارے خیال کے پرندے کوکمال و دانش کی رفعتیں نصیب ہو ں۔ یہاں کے شعراء کوجرا ء تِ اظہار کی وہ طاقت عطا ہو کہ بلتستان کے ادب و تہذیب کا اثر و نفوذ قائم و دائم رکھ سکے۔ مٹی سے انسان کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ مٹی انسان کی ماں ہے اور انسان اسی خاک کا ایک پتلا۔ تاہم اس میں آگ، پانی اور ہوا کی تاثیر بھی مٹی سے کسی طور کم نہیں۔ سو جس پتلے میں جس عنصر کا اثر زیادہ ہوگا اس کی خصلت ویسی ہو گی۔ باقیوں کا تو خدا شاہد، مٹی کے باپ سے تو ہمیں گہری عقیدت ہے۔ ہم مٹی سے اٹھے لوگ ہیں اور مٹی پر بیٹھے لوگ خوب بھاتے بھی ہیں۔کرسیوں والے ان کو دیکھنے یا ان کو سننے کی حد تک رغبت رکھتے ہیں۔ شاید کرسی والوں میں ہوا کی تاثیر کی کثرت کا دخل ہو کہ ٹکی رہنے والی کرسیوں سے بھی بیزار ہوکر اب ہوا میں گھومنے والی کرسیاں بھی متعارف ہو چکی ہیں۔ ہماری ثقافت میں بھی کرسی کہیں بھی شامل نہیں رہی، چہ جائیکہ کوئی مکان ہو، دیوان ہو یا کوئی چوپال، ہمارے اسلاف مل جل کر بیٹھنے کے عادی تھے۔

ہمیں ایسے ہی ایک ادبی بیٹھک میں شریک ہونے کا شرف ملا۔جہاں شعراء مشاعرے کی غرض سے نشستاً بہفرش تھے۔ شب نوروزکومنعقدہ اس مشاعرے میں بلتستان کے کم و بیش بہترین شعراء کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔ جن میں سے اکثر کو سننے کا اتفاق پہلی دفعہ ہوا تھا۔ محفل میں رنگ جمانے کے لئے شعراء کے ساتھ ساتھ چند اشرافیہ و افسرشاہی بھی براجمان تھے۔ جن میں سے چند ایک کو اپنے حسن پر نازاں اور بلتی زبان پر نالاں بھی دیکھا کہ آنکھوں آنکھوں میں کچھ اشارے کئے اور بیچ مشاعرے کے چلتا کئے۔

کوئی چاہے نہ چاہے، یہ مشاعرے کا اصول ہوتا ہے کہ پہلے پہل نوخیز اور نووارد تلامذہ ادب کو موقع دیا جاتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ان افسران ِ شاہی کو بھی یہ کوئی بازیچہء اطفال ہی لگا ہو۔ یہ دعویٰ تو کسی طور سچا نہیں ہو سکتا کہ انہیں محبوب کی یاد ستا نے لگی تھی۔ خیر صوفے کی نرم وگداز سطح پر بیٹھے جمائیاں لینے سے تو فرار بہتیرے۔ ہال کا سٹیج گو کہ ایک اچھے خاصے احاطے پر مشتمل ہے تا ہم کثرت تعداد کی وجہ سے شعراء اکڑوں بیٹھے ہوئے تھے۔ کوئی تھا سینہ تانے آلتی پالتی مارے بیٹھا ہوا ہے تو وہ صاحب ِ بیاض تھے کہ جنہوں نے مائیک پر آکر اپنا کلام سنانا تھا۔ شاید یہ جگہے کی کشادگی اور طلب سکون ہو کہ ہر وہ جو مائیک پر پہنچتا تھا ہٹنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ خیر کچے شعراء اور تلامذہ ابھی اس فن کے کھلاڑی تو تھے نہیں اور ان کے کلام ابھی صعیفی سے مستند کی طرف گامزن تھے۔ تاہم بعض وہ شعراء جن کی گلگت بلتستان میں دھوم ہے ان کے کلام سننے سے تعلق رکھتے تھے۔

نوروز کی مناسبت سے شاعری میں فن کے ساتھ ساتھ ثقافتی پہلوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ پھر بات روشنی تک کہاں ٹھہری کہ فرمان خیال نے تو روشنی دینے والے محکمے پر برق پاشی کی دعا بھی مانگی۔ گھائل نے رہنماؤں کو آئینہ دکھایا۔جراء ت نے طفلان ادب کو روبہ قبلہ کیاتو دانش نے بوڑھوں کے لئے بلتی اور جوانوں کے لئے اردو زبان میں شگوفے پیش کئے۔ بڑے شعراء کو روایتی جذبے سے داد وتحسین ملی۔ نوجوانوں کے جوش و جذبے نے یہ واضح پیغام دیا کہ یہاں ادب کے دلدادے ابھی موجود ہیں۔ نوجوان شعراء بھی اتنے باصلاحیت ہیں کہ اگر بادہ وجام تک بات بڑھی توان میں زمانے کی تلخیاں اگلنے کا ہنربدرجہ اتم موجود ہے۔ ان شعراء میں ہر عمر، ہر طبقے اور ہر علاقے کے نمائندے موجود تھے۔ کچھ سندھی ٹوپی کے ساتھ شاہانہ لاجوردی خلعت میں تھے تو کچھ پتلون کے ساتھ اوور کوٹ پہنے اور کچھ گلے میں رومال ڈالے ہاتھ میں بیاض تھامے۔ ان میں سے کچھ ایسے شعراء بھی موجود تھے جن کے چہرے ہی شعر و شعور سے بیزار نظر آتے تھے۔ ان کی ظاہری سر وقامت، حلیہ و کلیہ اوررکھ رکھاؤ سے اتنی دور سے بھی شاعر نہیں لگتے تھے جتنی دور ہم بیٹھے ہوئے تھے۔ گو یا ہم ان سے اتنے ہی فاصلے پر تھے کہ کئی بار موبائل نکالنے کے لئے قمیض کی جیب میں ہاتھ ڈالااور غلطی سے ساتھ بیٹھے شاعرکی جیب میں گھس گیااور موبائل کی بجائے ان کا نسخہ ء کلام نکل آیا۔ ایک بار کھول کر دیکھا ایسی لکھائی تھی کہ لکھے موء سا پڑھے خود آ۔

ان میں سے ایک کو تو میں قریب سے جانتا ہوں۔ یہاں میری قربت سے مراد فاصلاتی دائرہ نہیں بلکہ رشتہ و پیوند مراد ہے۔ موصوف کو علی محمد کہتے ہیں۔ علی محمد اپنے نام کے ساتھ خالص تخلص کرتے ہیں۔ انہیں یہ تخلص راجہ صبا شگری نے بڑے مان سے عنایت کی ہے۔ کیونکہ خالص کا تعلق بھی شگر سے ہے اور بلتی زبان کے شاعر ہیں۔ بلتی زبان میں علی محمد اپنی کم علمی کے باوجودبلتی شاعری میں بلغاری اور شیخ سحر کے پائے کا گنج معانی ہے۔ خوداتنے کچے شاعر ہے کہ ادھر کوئی دھچکا لگا کہ ادھر ٹوٹا۔مگر شاعری کے تانے بانے اتنی مضبوطی سے جوڑتے ہے کہ وزن و بحر میں بھاری اشعار بھی سہولت سے سہہ سکتے ہیں۔ ان کی میری دوستی بھی زیادہ پکی نہیں کیونکہ میرے ان کے تانے بانے بہت کم ہے، البتہ جب بھی ان کے اڑو س پڑوس میں پہنچتا ہوں ان کی زیارت کا تڑپ مچل اٹھتا ہے۔خالص ادبی بورڈ شگر کے ممبر بھی ہیں اور خودپیشے کے اعتبار سے نعلین ساز ہے۔ جتنی پکی وہ شاعری کرتا ہے اتنی پکی اس کے کام کی عادت بھی ہے۔ شرمیلا شرمیلا سا ہے۔ ان کی طبعیت شعرانہ چلبلاپن سے تہی ہے۔ لوگوں سے کھچاکھچاسا رہتا ہے۔زلف پریشان، چہرہ تھکا اورتھیکا سااور اس پر حسب مصروفیت چھٹی داڑھی جو کسی خودرو جنگلی بوٹی کی طرح جابجااگ آئی ہو۔نہایت ہی کم گو شخصیت حتیٰکہ ان کی عمر اور ان کے حلیے کو دیکھ کر نوخیز دوشیزائیں بھی کوئی اثر نہ لے لیکن خود بہت حلیم الطبع اور سادہ ترین انسان ہیں۔کام کے حوالے سے اپنے خیال کی مانند ان کا اپنا پتہ بھی عنقا ہے جہاں دل لگے ٹھکانہ بنا لیتے ہیں البتہ شام کو تھکے ہارے پرندے کی طرح گھر کو لوٹتے ضرور ہیں۔ ادبی بورڈ شگر کے ساتھ ساتھ بزم علم و فن سکردو کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ایسے کئی گمنام ہیروں کی کاٹ چھانٹ کرکے انمول نگینوں میں ڈھال دیئے ہیں۔

یوں تو اس محفل میں نامور شعرا ء موجود تھے، بعض نئے شعراء نے بھی کمال کا جوہر دکھایا۔ مگر راہی اور خالص کی شمولیت سے اس محفل کو چار چاند لگا۔ راہی بھی بھلے انسان ہیں۔ ان کی باتوں سے چنبیلیاں تو جڑتے ہی ہیں مگر خالص وہ شاعر تھا کہ جس نے من کی منکا لوٹ لی۔ خالص شہرت اور ناموری میں حسین بلغاری کے پیروکار ہیں انہیں شہرت و ناموری سے گھن آتا ہے۔ پس آئینہ سبب یہ ہے کہ ناموری اور شہرت میں جہاں انسان خودمہنگا ہوجاتا ہے اور اس کا محبوب بہت معمولی سا لگنے لگتا ہے، یوں محبوب کی اداؤں میں بھی فطرتی حسن نہیں رہتا اور خو ِ جانان متغیرہو جاتا ہے۔جو ایک شاعر کے لئے ایک المیہ ہے۔دوسری طرف جاننے والوں میں اضافے سے دوستوں میں کمی اور عدو و رقیبوں میں پیشرفت ہوجاتی ہے۔ ایک بار شگر میں منعقدہ کسی مشاعرے میں خالص نے کیبل والے کو عکس بندی سے پابند کر دیا۔ ادھر اس نے بلتی زبان کی ٹھیٹھ تشبیہات، استعارات اور اختراع کے وہ جوہر دکھائے الالقیاس یہ کہ سکردو کے حالیہ مشاعرے میں اسی زعم کے مارے وہ مظاہر پنہاں رکھا۔ تاہم اسی کلام پر بھی سامعین ششدر رہ گئے۔ ان کے کئی مصروں پر تو ایسی خاموشی چھاجاتی تھی جیسے سامعین کو کوئی سانپ سونگھ گیا ہو۔ ان کے بہت سارے الفاظ اور محاورات صرف سننے کی حد تک نہیں بلکہ اتنی فکر انگیز ہیں کہ لب بستہ کر دیتے ہیں۔ان دو کے علاوہ بھی چند ایسے آدمی نما شعراء تھے کہ ان کے جذبہ بقائے زبان و ادب کو داد نہ دی جائے تو ادبی توہین ہوگی۔ ان کے معصومانہ لب و لہجے اور سادہ وغیر شاعرانہ حلیہ وکلیہ میں جذبے کی جو خالصیت ہے اور حب الوطنی کی وہ عظمتیں پنہاں ہیں کہ زبان کھلنے کی دیر ہے پھر جی چاہتا ہے کہ ہفتوں ہفتوں حلقہ بدوش رہیں۔ تاہم ہمارے شعراء کو مختلف روایات، ثقافت اور ادبی معمولات سے آگہی اور تجربے کی ضرورت ہے جس کے لئے ایسی ادبی محافل اولین درسگاہوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی انتظامیہ کو بین الثافتی اور مشترکہ محافل کے اہتمام کی ضرورت ہے۔ خالص، راہی اور دیگر سادہ لوح شعراء لائبریریوں میں پھلنے پھولنے والے شعراء نہیں ہیں۔ بلکہ یہ وہ سادہ بہار پودے ہیں جو پہاڑوں کی بلندیوں پر، برف و باران کے ٹھٹھرتے ماحول اور لق ودق صحراؤں میں تنہا اور بے نوا پرورش پاتے ہیں۔ یہ عام لوگ جیسے خاص افراد ہیں جن کی صلاحیتیں تہذیب و ثقافت کے لئے کرامات ہیں۔ ان کی قدردانی وہ کر سکتے ہیں جو محبت کے مطالب سے آگاہ ہیں۔ جن میں جذبات ضرورت سے مبریٰ پیدا ہوتے ہیں۔ جن کی آنکھیں دھن و دولت کی بجائے الفت و یگانگت کو تلاش کرتی ہیں۔ اس فتنہ ساز دور میں آشوب وآلام کے بیچ راحت کے چند خالص ساعتوں،جومختصر مگر دورس تاثر سے لبریز تھیں، کے لئے ہم تمام شعراء کو دادوآفرین پیش کرتے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author