جامعہ نصرۃ الاسلام میں مہتمین کا جلسہ، تقریری مقابلوں کا اہتمام

جامعہ نصرۃ الاسلام میں مہتمین کا جلسہ، تقریری مقابلوں کا اہتمام

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Logo of Jamia Nusratul islamگلگت(ترجمان نصرۃ الاسلام) دینی وملی معاملات میں ایک دوسروں کا دست و بازو بننے پر اتفاق، حرمت رسول و صحابہ کرام اور دینی شعائر کی حفاظت ہر حال میں ممکن بنایا جائے گا۔ امن و امان ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم میں بھی بھر پور توجہ دیا جائے گا۔ علماء اسلام پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں کی دینی و رفاہی اور ملی و ملکی مفادات کا حفاظت کریں اور لوگوں کی درست رہنمائی کریں۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ نصرۃ الاسلام عیدگاہ روڈ گلگت میں منعقد ایک اہم تقریب میں علماء کرام نے کیا۔جامعہ نصرۃ الاسلام میں وفاق المدارس العربیہ سے ملحق مدارس و جامعات کا ایک غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا ۔ جس میں گلگت بلتستان سے سینکڑوں علماء کرام نے شرکت کی۔ وفاق المدارس العربیہ کے گلگت بلتستان کے نمائندے اور نگران مولانا قاضی نثار احمد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے پرفتن دور میں مدارس اسلامیہ وجامعات دینیہ پر کفر اور ان کے چیلوں کی یلغار ہے۔ مدارس اسلامیہ کے نظم و نسق اور تعلیم وتربیت کے لئے اکابرین علماء کرام نے وفاق المدارس العربیہ کے پلیٹ فارم کی داغ بیل ڈالی ہے۔ وفاق المدارس کے حالیہ غیرمعمولی اجلاس میں اکابر علماء نے وفاق المدارس سے ملحق مدارس و جامعا ت کے سربراہوں کے مابین ربط و تعلق کو شدت سے محسوس کیا ہے اور اس کی تلقین کی۔ بنا بر ایں آج گلگت بلتستان کے مدارس و جامعات کے مہتممین و دیگر علماء کرام کا یہ غیر معمولی اجلاس منعقد کیا گیا ہے۔قاضی نثاراحمد نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں اہل سنت کے حقوق اور محرمیوں کے ازالے کے لیے ہم علماء کرام کا فرض بنتا ہے کہ آپس میں مل بیٹھ کر مشاورت سے معاملات کو آگے بڑھائے۔ آپ سے امید ہے کہ مدارس اسلامیہ اور آپس کے دینی و ملی اغراض کے حصول کے لئے جد وجہد کریں گے اور دینی و ملی اور تعلیمی پروگرام کو آگے بڑھائیں گے۔ مدارس کے مہتمین اور دیگر علماء نے بھی اس عزم کا اظہا رکیا کہ تمام معاملات مشاورت سے چلائیں گے اور مدارس و مساجد پر ہونے والے مظالم کا ازالہ و مقابلہ اتحاد ویکجہتی سے کریں گے۔

مدارس و جامعات کے مہتمین کے بعد جامعہ میں ایک جلسہ عام ہوا ، جس میں جامعہ کے طلبہ نے تقریری مقابلوں میں حصہ لیا۔ دس طلبہ نے اردو میں تقریریں کی جبکہ جامعہ کے تین طلبہ نے انگریزی میں تقریر کی۔یہ جلسہ مولانا حبیب اللہ فاضل دارالعلوم دیوبند کی زیر صدارت منعقد ا ہو ا جبکہ اس کے مہمان خصوصی جمیعت علماء اسلام گلگت بلتستان کے سرپرست اعلی مولانا لقمان حکیم تھے۔شیخ الحدیث مولانا خلیل الرحمان داریلی نے درس قرآن کا آخری درس دیا۔ اس تقریب سعید میں گلگت بلتستان کے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جن میں مولانا عطاء اللہ شہاب، مشیروزیراعظم، مولانا مفتی شیر زمان مہتمم دارالعلوم غذر، مولانا سید محمد صاحب، رہنماء جے یو آئی ومتہمم جامعہ عائشہ صدیقہ جگلوٹ، مولانا خان بہادر صاحب مہتمم دارالعلوم جگلوٹ، مولانا عبدالروف صاحب، ناظم مدرسہ انوارالصحابہ گونرفارم، مولان عبدالکریم صاحب مہتمم تعلیم القران داریل، مولانامفتی ہارون الرشید صاحب، مہتمم جامعہ ابوہریرہ مناور، مولانا نادر شاہ مہتمم حدیقہ الاسلام چٹور کھنڈ اور گلگت کے نام خطباء اور مفتیان کرام نے اس اجلاس میں خصوصی شرکت کی۔ جامعہ نصرۃ الاسلام کے رئیس قاضی نثاراحمد نے تمام علماء اور مہمانوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔تقریری مقابلے میں اول پوزیشن طالب علم عمر فواد درجہ سادسہ ، دوسری پوزیشن طالب علم اسامہ درجہ متوسطہ اور تیسری پوزیشن حافظ ابرارالدین درجہ اولی نے حاصل کی۔ جامعہ نصرۃ الاسلام کی طرف سے ان کو نقد اور کتابیں انعام میں دی گئی۔ اور تقاریر، نعت اور حمد وتلاوت میں حصہ لینے والے تمام طلبہ اور درس قرآن دینے والے اساتذہ کو بھی انعامات دیے گئے۔اسٹیج سیکرٹری کے فرائض معروف کالم نگار امیرجان حقانی نے انجام دیے۔ جبکہ دیگر انتظامات جامعہ کی منیجنگ کمیٹی کے اراکین و اساتذہ نے انجام دیے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔