چھوٹے نہیں بولتے!!

چھوٹے نہیں بولتے!!

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

محمد حسن جوہری

johari00اردو کی یہ کہاوت ہے کہ’’جب بڑے بات کررہے ہوں تو چھوٹوں کو (ادب کے لحاظ کرتے ہوئے) نہیں بولنا چاہئے‘‘نہ جانے مجھے کیوں یہ کہاوت ہضم نہیں ہوتا! آخر کیوں؟ جب چھوٹوں کو بات کرنے ہی نہیں دینا ،چھوٹوں کا بولنا بے ادبی ہے تو کیوں وہ ذات جو خود سب سے زیادہ باادب ہے، چھوٹوں کو بولنے کی طاقت عطافرما ئی ہے؟ایک حد مقررکرتے ! جب واجبات کے لئے حد مقرر کرسکتے ہیں تو بولنے کابھی ،اور فرماتے او چھوٹے میاں اب تم بڑے ہو چکے ہو اور بول بھی سکتے ہو!لیکن ایسا نہیں بلکہ چیخنے چلانے کی طاقت کے ساتھ دنیا میں بھیجا ،اس معصوم کے پاس دوسروں کو بلکہ کائنات کی سب سے مہربان ہستی ماں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے بولنے کے سوا کوئی اور ذریعہ ہی نہیں اس کا مطلب یقیناًنہ سہی تقریبا یہ ہے کہ اولاً بولنا بے ادبی نہیں ہے ، ثانیاً یہ جو تقسیم بندی ہے کہ یہ بڑے ہیں اور یہ چھوٹے یہ کس حد تک صحیح ہے جنہیں بڑے کہتے ہیں وہ بڑے کیوں ہیں؟کس نے بنایا ہے؟کیسے بنا ہے ؟اور جو چھوٹے ہیں وہ چھوٹے کیوں ہے ؟کس نے بنایا ہے اور کیسے بنا ہے؟اگرچہ ہمارے پاس اتنے سارے دلائل ہیں کہ جن کے ذریعے چھوٹے اور بڑے کے تقسیم بندی کے تاریخی حیثیت اور اس کے پس منظر کو سامنے لاکر اس مکروہ ذہنیت کو بے بنیاد قرار دے سکتے ہیں لیکن قارئین کرام چونکہ مصروف رہتے ہیں نہیں چاہتا کہ ان کے قیمتی وقت کو ضائع کروں لہذا جو عین مقصد ہے اسے پیش کرنا چاہوں گا،سب سے پہلے میں بڑے اور چھوٹے کی تعریف پیش کرتاہوں۔

بڑا: یعنی بزرگوار اگر عمر کے حوالے سے ہو تو

بڑا :یعنی دانشور اگر علم کے حوالے سے ہوتو

بڑا:یعنی مفکر اگر فکر کے حوالے سے ہوتو

بڑا:یعنی عاقل اگر عقل کے حوالے سے ہوتو

بڑا :یعنی ایماندار اگر زہد وتقوی کے حوالے سے ہوتو

بڑا :یعنی ہنر مند اگر کام اور ہنر کے حوالے سے ہوتو

بڑا: یعنی جرات مند اگر غیرت اور شجاعت وبہادری کے حوالے سے ہوتو

بڑا:یعنی امین اگر امانت ودیانت کے حوالے سے ہوتو

اور

چھوٹا:یعنی بچہ اگر عمر کے حوالے سے ہوتو

چھوٹا :یعنی بے وقوف اگر عقل وشعور کے حوالے سے ہوتو

چھوٹا :یعنی بزدل اگر شجاعت وبہادری کے حوالے سے ہوتو

چھوٹا :یعنی جاہل اگر علم ودانش کے حوالے سے ہوتو

چھوٹا :یعنی خائن اگر امانت ودیانت کے حوالے سے ہوتو

چھوٹا :یعنی مفت خور بے کار اگر کام وہنر کے حوالے سے ہوتو

چھوٹا :یعنی بے ایمان اگر زہد وتقوی وپرہیز گاری کے حوالے سے ہوتو

ان کے علاوہ دسیوں ایسی تعریفیں ہیں جن سے چھوٹے اور بڑے واضح ہوجاتے ہیں ،مثال کے طور پر وہ بچہ جس نے حضرت یوسف کے حق میں گواہی دی وہ چھوٹا بچہ تھا اور حضرت ذلیخا بڑی یا عزیز مصر بڑا تھا لیکن اس بچے نے حق کی گواہی دیکر بڑے پنے اور تہمت اور افتراء لگانے کی وجہ سے عزیز مصر بڑا ہونے کے باوجود چھوٹانظر آیا !

حضرت عیسی جو ماں کی گود میں ان کی پاک دامنی کی گواہی اور دشمنوں کے الزامات کو مسترد کرکے چھوٹے عمر میں بڑے پنے اور اس وقت کے بڑوں نے چھوٹے پنے کا مظاہرہ کیا ۔

حضرت موسی وہارون جب پہلی مرتبہ فرعون کے دربار میں پہنچے ہیں تو ان سے یہی کہا گیا کہ دیکھو یہ دوچھوٹے لوگ مجھ جیسے بڑے لوگوں کی حکومت گرانے کی باتیں کررہے ہیں! ذرا انکا لباس دیکھیں اور ان کے بدنی وضع وقطع ! قرآن کریم ان جیسے سینکڑوں قصوں کو احسن القصص کے نام سے بیان فرماتے ہیں ان کہانیوں کو ذکر کرنے کا ایک ہی مطلب ہے وہ یہ کہ بدنی اور عمری اورمقام کا بڑے اور چھوٹے ہونے کا کوئی تمیز نہیں! ہاں اگر کوئی چھوٹے اور بڑے کا کوئی فرق ہے تو شعور وآگاہی ،فکر واندیشہ ،حق طلبی وحق گویائی میں ہے !

جی ہاں ایسا ہی ہے لہذا ہزار بار اپنے بے ادبی اورچھوٹے پنے کا اعتراف کرتے ہوئے ان چند ایک سطور پر نگاہ مرحمت فرمائیں!

خطہ محروم ومظلوم گلگت بلتستان ستاسٹھ برسوں سے حق تلفی کا شکار ہیں ،کبھی نہ تھم نے والے مصلحتوں اور نظر نہ آنے والے ہاتھوں اور کبھی بڑے نہ بننے والے بڑوں اور کبھی حق لکھنے اور بولنے کی جرات نہ رکھنے والے قلم کاروں اور زبانوں کے ہاتھوں پر یرغمال تھے اورہیں شاید ہمیشہ ایسا ہی رہیں کیوں کہ یہاں کے چھوٹے کبھی بڑے اور نہ ہی بڑے کبھی ختم ہوتے ہیں!صوبائی سیٹ اپ پر کشمیر کو، آئنی خود مختاری پر وفاق کو اور پانچواں صوبہ بننے پر متعصب اقوام اور دیگر ملکوں کو تکلیف ہیں ،اوران ساروں کو تکلیف دینے کے بجائے صرف ہمیں تکلیف دی جاتی رہی ہیں اور اس تکلیف کو سمجھنے کے لئے بڑا ہونا چاہئے جبکہ ہمارے ہاں بڑے بنائے جاتے ہیں فقط انہی کو جو حس تکلیف نہیں رکھتیں !رہا ہم بچے تو بچہ تکلیف حقوق اور آزادی جیسے چیزوں سے بے خبر ہوتے ہیں اگر بھولے سے بھی حقوق ودیگر مراعات کے بارے سوال پوچھا جائے تو کہا جاتاہے خاموش رہو کیوں ہم بڑے بول رہے ہیں چھوٹے مت بولا کریں ! ہم ماضی کو دیکھنے کے بجائے مستقبل کو دیکھیں کے نعرے لگانے والے بچے حال کو بھول جاتے ہیں اور آپس کی لڑائی میں سارا مٹی کچرا اپنے محلے کے بچے پر ڈالتے ہیں کیوں اس بڑے پر نظر نہیں کرتے جس کا نام چیف سکیریڑی ہے جسے وفاق امپائر کے عہدہ دیکر ہم پر مسلط کرتے ہیں اور ہر ایک بال پر صرف ہمارے کھلاڑی آوٹ کر تاہے !غیروں کے بڑے اورہمارے درمیان کے نادان بچے مل کر قدرت کے عطاکردہ ذخائر سے کھیلنے اور ہمارے جیبوں میں ماوں نے گھروں سے جو چیزیں بھوک مٹانے کے لئے ڈالی ہیں ان کو بھی چھین کر لے جاتے ہیں لیکن بڑوں کو نظر نہیں آتے اور بچہ شکایت نہیں کرسکتا اور اگر شکوہ کرے بھی تو یہ کہہ کر ڈان دی جاتی ہے کہ بڑے بول رہے ہیں چھوٹے مت بولا کریں!!

سیاحت اور معدنی وسائل اور وافر پانی ہمارے پاس پہلے سے ہی موجود ہیں صرف اس سال ہمارے ہاں نہیں جمع ہوئے! ہم پہلے سے ہی خوبصورت تھے صرف اس سال خوبصورت نہیں ہوئے، اگر یہاں ذرا توجہ دیں تو ایسا ہوگاویسا ہوگا کے طرح کی باتیں کرنے والے لوگ ہمارے جذبات، اقدار اور حقوق سے کھیلتے ہیں تو فقط اس لئے کہ بڑوں کے دور ونزدیک کی نظر یں کمزورہوچکے ہیں ،ساتھ یاداداشت بھی ’’ایک بلتی دوپٹھان الامان الامان ‘‘کے نعرے بھول چکے ہیں!آخر ان لوگوں سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ جناب والا آپ کو کب سے ہم سے ہمدردی ہونا شروع ہوا ہے؟ ہم کئی عرصوں سے اس کسمپر سی کی حالت میں تھے اور کوئی پر سان حال نہیں تھا! آخر اتنے رحم وترس اور مہربان کیوں ؟ وہ بھی الیکشن کے قریب ہر پارٹی کا ایک عوام فریبانہ سوچ پر مشتمل جھوٹے وعدے ! پرانے وعدوں کو غلاظتوں کو میرے بڑے بھول چکے ہیں اگر یاد ہے تو فقط بچوں کو جنہیں یاددلانے کی حق نہیں کیونکہ بڑے بول رہے ہیں بچے بولا نہیں کرتے !

سنہ 88 کے افغان درندوں کے ہاتھوں ہزاروں بے گناہوں کے لہو اور کارگل محاذ پر جام شہادت نوش فرمانے والے ہمارے بہادر وں کو گھس بیٹھے اور گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے جیسے منحوست باتیں ،اتنے بڑے خطے سے قحطی الرجالی(باصلاحیت افراد کی کمی) کی وجہ سے گونر کی پنجاب سے در آمد،آئنی حقوق طلبی پر غداری کے مقدمات میں فرزند گلگت بلتستان سید حیدر شاہ( خدا انہیں شفا دیں) کو قید با مشقت اور ان جیسے ہزاروں ناانصافیوں کو بڑے بھول چکے پر بچوں کو یاد ہے مگر بچے نہیں بول سکتے کیونکہ بڑے بول رہے ہیں !!

پانچ سالہ حکومت کے ڈرامے، منتخب نمائندوں کے بے حسی اور بے ایمانی، مقام معلمی جیسے عظیم عہدے کو گلی وکوچہ میں پاپڑ کی طرح فروخت کرنے ،اقرباء پروری پر روزگار کی فراہمی، اتنے وافر مقدار میں پانی ہونے کے باوجود بجلی کی کمی، سیسووں اور کوٹھیالوں کے من مانیاں، پولیس اور پٹواریوں کی عیاشیاں، میڈیکل اور گوشت کے ٹھیکداروں کے ہاتھوں عوام کے اترے ہوئے چمڑے، پبلک سکولز کے نام پر تعلیم جیسی عظیم نعمت کی بولیاں، محکمہ منفعت عامہ کے عوامی واجتماعی رقوم کو بدعنوان بددیانت ٹھیکداروں میں تقسیم، سڑکوں کی خستہ حالی دیگر مراعات عامہ سے خیانتیں، سرکاری آفسران کے عوامی حقوق پر ذاتی پراپرٹیز اور وکیلوں اور مختاروں کے ہاتھوں شرعی وقانونی دھجیاں اڑنے کے باوجود بہرے، گونگے بنے بیٹھے بڑے بول رہے ہیں بچے مت بولیں !!!

لیکن ہم بولیں گے کیونکہ بولنا ہمارحق ہے اور اسی طاقت سے ماں کی دودھ حاصل کی ہے تو بچہ بولے گا کہ ہر وہ تنظیم ہر وہ عناصر جو ہمیں بچہ سمجھتا ہے اسے مستردکردو ،تعلیم اور دیانت کے ساتھ بے داغ ماضی اور روشن مستقبل، تعلیم اور غریب دوست کو ووٹ دیں نہ کہ ان کو جو فقط جہل، فتنہ،غارت گری اقرباء پر وری کے بڑے ہیں! یہ بڑے نہیں بلکہ قرآن کی نظر میں مستکبر ین ہیں اور کبر وغرور وہی کرتا ہے جو احساس کمتری میں مبتلا ہو جو شخص اپنے آپ کے وجود پر شرم محسوس کرتے ہوئے کبر وغرور کرتا ہے آپ اسے کیوں بڑا کہتے ہیں سب سے بڑا وہ ہے جس کا نفس پاک ہو نہ کہ پارٹی بڑی ہو ،عوام کے حقوق غنڈہ گردی سے بدتمیزی سے قتل وغارتگری سے نہیں بلکہ تعلیم وآگاہی اور شعور سے حاصل کی جاسکتی ہے، ہم سب محب وطن پاکستانی ہیں اس ملک میں اسلام و ایمان اور سب کچھ ہے لیکن ایک چیز کی کمی ہے وہ یہ کہ بچے نہیں بولتے بڑے بولتے ہیں اور تمام بڑے اس ملک کے غدار ہیں جو ہمیشہ اس ملک کو توڑ نے فوڑنے اور جلانے کی سوچ رکھتے ہیں

چند شرارتی بچے اخبار کے نام سے چھپنے والے ذاتی کوائیف ناموں میںیہ بیان دے رہے ہیں کہ اس الیکشن میں ہماری پارٹی کلین سویپ کرے گا لیکن یہ بچہ ان سے یہ کہتا ہے کہ کو ن کلین سوپ پیے گا اور کون کارن سوپ یہ وقت بتاے گا کیونکہ ہر جیت جیت نہیں اور نہ ہی ہر ہار ہار ہے جس طرح ہر بڑا بڑا نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر چھوٹا چھوٹا ہوتا ہے ،اور نہ ہربات بے ادب ہوتی ہے اور نہ ہی ہر بات با ادب ہوتی ہے۔

خدایا تو گواہ رہ! جو ہاتھ تونے بخشااور جوقلم جس کا تو قرآن میں قسم کھاتا ہے اس کے ذریعے اس بچے نے وہ سب باتیں بولنے کی جسارت کی ہے جو یوسف کے گواہ، مریم کی گواہ اور دربار فرعون میں موسی وہارون، اور کسی زمانے میں رسول کی اکلوتی بیٹی پھر رسول کی شیر دل نواسی اور نواسا نے مطلق العنان بنے بڑوں کو بے نقاب کرتے ہوئے فرما ئے تھیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔