وفاق کی من مانیاں

وفاق کی من مانیاں

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان وہ خطہ ہے جس کے باسی اپنی مدد آپ کے تحت علاقے کو ڈوگرہ راج سے آزاد کراکے بلا مشروط پاکستان سے الحاق کرنے کی سزا گزشتہ اٹھاسٹھ سالوں سے کاٹ رہے ہیں۔ یہاں کے باسی گذشتہ نصف صدی سے زائد عرصے کے دوران پاکستان کے مکمل شہری بننے کی شدید خواہش کے باوجود اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ پاکستان کے ارباب اختیار نے مسلہ کشمیر کابہانہ بنا کر یہاں کے باسیوں کو روز اول سے آئینی اور سیاسی حقوق سے محروم رکھا ہے۔ 1947سے 1974 تک یہ علاقہ وفاق کے زیر نگرانی ایجنسی کی حیثیت سے ایف سی آر کے ماتحت رہاجبکہ اس کے بعد مختلف اوقات میں وفاق سے جاری کردہ ایل ایف او زکے تحت یہاں کا نظام چلایا جاتا رہاہے ۔ اگست 2009 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے علاقے میں گلگت بلتستان امپاور منٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر 2009 کے نام سے سیاسی اصلاحات متعارف کرائے اور اس علاقے کو صوبائی طرز کا سیٹ اپ دیا گیا جن میں اس علاقے کی اپنی قانون ساز اسمبلی اور گلگت بلتستان کونسل کے علاوہ مقامی گورنر ،وزیر اعلیٰ ، صوبائی کابینہ ،الگ پبلک سروس کمیشن، سروسز ٹریبونل، آڈیٹر جنرل، الیکشن کمیشن سمت دیگر اصلاحات شامل تھے۔ یہاں کے باسیوں کی اکثریت اس حوالے سے اطیمنان کا اظہار کرتے رہی کہ شاید اگلے مرحلے میں پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی علاقے کی نمائندگی ہوگی اور یہ علاقہ یہاں کے ان باسیوں کی خواہش کے مطابق پاکستان کا مکمل آئینی صوبہ بن جائے گا یا کم از کم کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیکر خود اختیاری کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔ مگر وفاق میں (ن) لیگ کی حکومت کے آنے کے ساتھ ہی علاقے کو امپاور کرنے کے عمل کا ریورس گےئر لگ گیا۔ چونکہ مذکورہ آرڈر جس کے تحت گذشتہ پانچ سالوں سے گلگت بلتستان کا نظام چلایا جاتا رہاہے کی بنیادی خامی یہ ہے کہ یہ ایک انتظامی حکم نامہ ہے اور اس میں ترمیم کا سارا اختیار وفاق کے پاس ہے ۔ پی پی پی نے یہ اصلاحات تو متعارف کرائے تھے مگر ان اصلاحات کو قانونی تحفظ حاصل نہیں تھا اور اس خدیشے کا اظہار اس وقت بھی کیا جا چکا تھا کہ پی پی پی کی وفاق میں قائم حکومت کے جانے کے بعد اگلی آنے والی حکومت اس آرڈر کے ساتھ اپنا من پسند سلوک کرے گی ۔ یہ خدیشہ سچ ثابت ہوا اور مسلم لیگ (ن) نے اس کے ساتھ وہ سلوک کیا جس سے گلگت بلتستان کے عوام میں ایک دفعہ پھر سے محرومی کا احساس پیدا ہونے لگا ہے۔

israrمذکورہ آرڈر میں اس کے نفاذ کے دوران نگران سیٹ اپ کا ذکر نہیں تھا چنانچہ مسلم لیگ کی وفاقی حکو مت نے وفاقی وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کی سفارش پر اس آرڈر میں پہلی ترمیم دسمبر 2014 میں کر کے اس میں نگران سیٹ اپ کی شق شامل کرلی اور نگران حکومت کی تقرری کا اختیار وزیر اعظم پاکستان کو دے دیا گیا۔ جب پی پی پی کی گلگت بلتستان میں قائم صوبائی حکومت اپنے پانچ سال مکمل کر کے رخصت ہوئی تو مذکورہ ترمیم کے تحت وزیر اعظم نے گلگت بلتستان کے پہلے نگران وزیر اعلیٰ کی تقرری کا نو ٹفکیشن جاری کر دیا۔مذکورہ ترمیم کے مطابق نگران کابینہ کے وزراء کا تقرر نگران وزیر اعلیٰ کی مشاورت سے ہونا تھا مگر وفاق نے بغیر مشاورت کے اپنی مرضی سے گلگت بلتستان میں بارہ رکنی نگران کابینہ کی تقرری عمل میں لایا۔ نگران کابینہ کی تقرری کے دوران اس بات کا بھی خیال نہیں رکھا گیا کہ آئین پاکستان کی اٹھارویں ترمیم کے مطابق وفاق یا کسی بھی صوبے میں نگران حکومت اس صوبے کی اسمبلی کی کل نشستوں کی گیارہ فی صد اراکین پر مشتمل ہوگی۔ اس حساب سے گلگت بلتستان کی نگران حکومت صر ف تین وزراء پر مشتمل ہونی چاہئے تھی کیونکہ جی بی اسمبلی کل تینتیس اراکین پر مشتمل ہے۔ مگر وفاق نے یہاں بارہ وزراء کا تقرر عمل میں لایا۔ حالانکہ رخصت ہونے والی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور وزیر اعلیٰ نے نگران حکومت میں تین وزراء سے زائد نہ لینے کی سفارش کی تھی۔ نگران کابینہ کی تقرری کے حوالے سے دوسری بڑی غلطی یہ کی گئی کہ اس میں غیر جانبدار افراد کی بجائے سفارشی بنیادوں پر مختلف سیاسی جماعتوں سے وابسطہ افراد لئے گئے ہیں جن میں سے دو جماعت اسلامی، ایک تحر یک انصاف اور دو مسلم لیگ (ن) کے باقاعدہ عہدیدار ہیں جبکہ دیگر اراکین کی بھی وابسطگیا ں مختلف سیاسی جماعتوں سے پائی جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے نگران کابینہ کو جانبدار قرار دے دیا گیا اور اس کے خلاف پی پی پی اور وحدت المسلمین نے عدالت سے بھی رجوع کیا ہے۔نگران کابینہ کی تقرری کے بعد مسلم لیگ (ن) کو گلگت بلتستان میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد مسلم لیگ نے بس نہیں کیا بلکہ گورننس آڈر کے آرٹیکل۲۰ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مقامی گورنر کو ہٹاکر وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان بر جیس طاہر کو گورنر گلگت بلتستان کی اضافی زمداریاں سونپی گئیں۔ حالیہ دنوں وہ بیک وقت وفاقی وزارت اور گلگت بلتستان کی گورنر شپ کے مز ے لوٹ رہے ہیں جو کہ نہ صرف آئین پاکستان بلکہ گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کی بھی خلاف ورزی ہے ۔ کیونکہ آئین پاکستان کی رو سے کوئی بھی رکن اسمبلی یا وزیر کسی بھی صوبے کا گورنر بننے کے بعد اس کی اسمبلی رکنیت اور وزارت خود بخود ختم ہو جاتی ہے ۔ یعنی آئین پاکستان کے آرٹیکل103 میں لکھا گیا ہے کہ

“Constitution of Governor’s Office- (1) The Governor shall hold any office of profit in the service of Pakistan or occupy any other position carrying the right to remuneration for the rendering of services. (2) The Governor should not be a candidate as a member of parliament or a provincial assembly and, if a member of parliament or a provincial assembly is appointed as Governor, his seat in parliament or, as the case may be, the provincial assembly shall become vacant on the day he enters up on his office.

اسی طرح جی بی امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر2009 کے آرٹیکل ۲۰ کی شق نمبر ۸ اور۹ میں بھی وہ ہی الفاظ درج ہیں جو آئین پاکستان کے آرٹیکل 103 میں ہیں۔

اگر کوئی شخص یہ کہہ کر مذکورہ من مانیوں کے کئے گنجائش بناتا ہے کہ چونکہ آئین پاکستان کا جی بی میں اطلاق نہیں ہوتا ہے اس لئے وفاق کی مذکورہ کارروئی جائز ہے تو ان سے گزارش ہے کہ ما ن لیا کہ گلگت بلتستان اور یہا ں کے باسیوں پر آئین پاکستان کا اطلاق نہیں ہوتا ہے مگر وفاق اور برجیس طاہر سمیت پاکستان کے دیگر شہریوں پر تو اس کا اطلاق ہوتا ہے۔پھر وہ کیو ں بار بار آئین پاکستان کی اٹھارویں ترمیم اور شق نمبر 103 کی دھجیاں اڑاتے ہیں؟اور اگر آئین پاکستان کا یہاں اطلاق نہیں ہوتا ہے تو دیگر تمام قوانین جو کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے بنے ہوئے ہیں وہ یہا ں نافذ العمل کیوں ہیں؟ گویا اپنے کمزوریوں اور خامیوں کو چھپانے کے لئے دئیے جانے والے مذکورہ دلائل کی کوئی قانونی و اخلاقی گنجائش نہیں ہے۔

وفاقی حکومت نے اپنی غلطی چھپانے کے لئے گورنر کی تقرری سے متعلق جواز یہ بھی پیش کیاہے کہ چونکہ 2009 میں پی پی پی نے اس وقت کے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمرالزمان کاہرہ کو جی بی کا پہلا عبوری گورنر مقرر کیا تھا اس لئے ہم نے بھی وفاقی وزیر امور کشمیر کو گورنر مقر ر کیا ہے۔ حالانکہ اس وقت نئے نئے اصلاحات تھے اس لئے اس آرڈر کے آرٹیکل ۲۰ کی شق۲ میں اس بات کا یوں خصوصی ذکر کیا گیا تھاکہ “پہلے گورنر کی تقرری تک وفاقی وزیر برائے امور کشمیر ، گلگت بلتستان کے گورنر کے فرائص انجام دیں گے” اس آرڈر کے نفاذ کے چند مہینوں بعد اس وقت کے صدر مملکت آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کی ایک مقامی خاتون ڈاکٹر شمع خالد کو گلگت بلتستان کی گورنر مقرر کیا تھا۔ تاریخ میں پہلی مر تبہ مقامی گورنر کی تقرری کو گلگت بلتستان میں خوب سراہا گیا تھا۔ ڈاکٹر شمع خالد کی وفات کے بعد ایک اور مقامی شخص پیر سید کرم علی شاہ کو گورنر مقرر کیا گیا تھا جو کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبر بھی تھے اور گورنر بننے کے بعد انہوں نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

فروری 2015 کومسلم لیگ (ن ) نے ان کو فارغ کرنے کا باضابطہ اعلان کئے بغیر اچانک نئے گورنر کو زمداریا ں سونپ دی ۔ اچانک مقامی گورنر کو فارغ کرکے ایک غیر مقامی شخص کو گورنر بنائے جانے کے فیصلے پر مقا می لوگوں نے تعجب اور غصے کا اظہار کیا ہے۔گلگت بلتستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا مو قف ہے کہ غیر مقامی گورنر کا تقرر اس لئے کیا گیا ہے تاکہ مسلم لیگ (ن) کو دھاندلی کے ذریعے گلگت بلتستان کے اگلے انتخابات میں کامیابی دلائی جائے۔ جبکہ قوم پرست جماعتوں نے برجیس طاہر کو گلگت بلتستان کا وائے سرائے قراردے دیا ہے ۔جو کہ اس وقت گلگت بلتستان کے سیاہ و سفید کا مالک ہے۔

وفاقی حکومت نے گذشتہ تین ماہ کے اندر جی بی امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر 2009 میں تین سے زائد ترامیم کئے ہیں جن میں گلگت بلتستان کے عوام کی رائے شامل نہیں ہے۔ حالانکہ جی بی امپاور منٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر 2009 گلگت بلتستان کے عبوری آئین کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ گلگت بلتستان کا سیاسی سیٹ اپ اسی آرڈر کے تحت چلایا جاتا ہے ۔ گلگت بلتستان میں غیر مقامی گورنر اوربھاری حجم والی متنازعہ نگران کابینہ کا قیام اور گورننس آرڈر میں من پسند ترامیم نے علاقے میں مایوسی اور احساس محرومی کے جذبات کو ابھارا ہے جس کا اظہار مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے برجیس طاہر کی گلگت بلتستان کے دورے کے موقع پر احتجاج اور اس موضوع پر پی پی پی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کے موقع پر مذمتی قرارداد کی صورت میں کیا گیا ہے جس میں مسلم لیگ (ن ) کے علاوہ دیگر تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی تھی۔ جبکہ پی پی پی اور دیگر کئی سیاسی جماعتوں نے گورنر کی تقرری کو گلگت بلتستان کی عدالت عالیہ میں چیلنج بھی کیا ہے۔

دوسری طرف آئین پاکستان اور جی بی امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر 2009کے تحت نگران حکومت کی زمداری ہے کہ وہ 90 دنوں کے اندر انتخابات کے انعقا د کو یقینی بنائے ۔ نگران حکومت کا قیام 12 دسمبر 2014 کو عمل میں آیا تھا۔ 12 مارچ کو نگران حکومت کے تین مہنے مکمل ہونے کے بعد موسم کا بہانا بنا کر نگران کابینہ کی مدت میں تین مہنے کی توسیع کی گئی ہے ۔ گورننس آرڈر میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر مذید تین مہنے کے لئے انتخابات کا التواء کیا جاسکتا ہے۔مگر یہ عمل بار بار نہیں دہرایا جاسکتا ہے۔ اب تو گلگت بلتستان میں بہا ر اور کاشت کاری کا موسم شروع ہوا ہے سردی کی شدت میں کمی آئی ہے اس کے باوجود تا حال انتخابات کے انعقا د کے لئے تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ اس صورتحال نے مسلم لیگ (ن)کی گلگت بلتستان کے حوالے سے نیت کو مذید مشکوک بنا دیا ہے۔ جبکہ یہ سارا عمل علاقے میں جمہوری عمل کو سبو تاژ کرنے اور محرومیوں کو مذید بڑھانے کا باعث بنتا جا رہاہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments