ہنزہ کو قانون ساز اسمبلی میں دوسری نشست نہیں دی گئی تو انتخابات کا بائیکاٹ کیا جائیگا، آل پارٹیز کانفرنس

ہنزہ کو قانون ساز اسمبلی میں دوسری نشست نہیں دی گئی تو انتخابات کا بائیکاٹ کیا جائیگا، آل پارٹیز کانفرنس

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ نگر ( اجلال حسین ) ہنزہ میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد، چار نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کیا منظوری . مطالبات میں سرفہرست قانون ساز اسمبلی میں ہنزہ کو دوسری نشست دیںے کا دیرینہ مطالبہ ہے. دوسرا مطالبہ ہنزہ کو نگر سے الگ کر کے علاقے میں دو اضلاع قائم کرنے کاہے. تیسرا مطالبہ ہنزہ کے درجنوں نوجوانوں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت قائم مقدمات کا فی الفور خاتمہ ہے.  چوتھا مطالبہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہے. کانفرنس میں کہا گیا ہے اگر یہ مطالبات منظور نہیں کیے گئیے تو ہنزہ میں تمام پارٹیاں، عمائدین و نمبرداران ہنزہ بشمول پاکستان مسلم لیگ ن ہنزہ الیکشن کے بائیکاٹ سمیت مختلف طریقوں سے احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گی.

ہنزہ آل پارٹیز ، عمائدین و نمبردارارن ہنزہ کا گزشتہ روز ہنزہ نگر کے غیر اعلانیہ ہیڈ کواٹرعلی آباد میں کانفریس کا انعقاد کیا جس میں ہنزہ کے ساتھ گزشتہ کئی سالوں سے ہونے والی ناانصافیوں پر غور وخوض کیا گیا. وفاقی و صوبائی حکومت کو چار نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔ کانفرنس میں کہا گیا کہ پچھلے 25سال سے زائد عرصے سے مختلف حکومتوں کی جانب سے عوام ہنزہ کو جھوٹی تسلیاں دلاتے ہوئے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں اضافی سیٹ سے محروم رکھا گیا ہے. تمام پارٹیاں عوام کو بے قوف بناتے چلے آرہی ہیں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے اپنے دورہ گلگت بلتستان کے موقع پر مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ انتخابات سے قبل ہنزہ کو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں اضافی سیٹ کا اعلان کر اور انتخابات میں ہنزہ کے دو حلقوں میں الیکشن کرائیں تاکہ عوام ہنزہ پاکستان مسلم لیگ ن وفاداری کا صلہ دیتے ہوئے ہنزہ کے دونوں سیٹ پاکستان مسلم لیگ ن کو تحفے میں دیا جائے گا۔ آل پارٹیز کانفرنس میں مزید کہا کہ 1974 میں راجگی نظام کے خاتمے کے ساتھ ہی اس وقت کے حکمرانوں نے ہنزہ کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کا درجہ دیا تھا تاہم بعد میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کا خاتمہ کردیا گیا کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ ہنزہ اور نگر دو الگ الگ ریاستیں رہ چکی ہیں . اس لیے دونوں کو الگ الگ اضلاع کا درجہ دیا جائے۔

سانحہ علی آباد میں متاثرین عطاآباد نے اپنے حق کی خاطر ایک چھوٹی سی احتجاج اس وقت کے وزیر اعلیٰ کو ریکارڈ کرا رہے تھے مگر مد قسمتی سے ضلعی انتظامیہ کی غلط پالسیوں کی وجہ سے باپ اور بیٹے کو گولی کا نشانہ بنا دیا گیا. مشتعل مظاہرین نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جس کے بدلے میں ہنزہ کے پر امن عوام پر صوبائی حکومت کی جانب سے بے گناہ معصوم نوجوانوں پر ATAکے تحت مقدمات درج کئے اور ہنزہ کے درجنوں جوان اس وقت جیلوں میں سزائیں کاٹ رہے ہیں وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان بے گناہ ایسروں کی شفاف تحقیقات کرتے ہوئے ان درجنوں معصوم نوجوانوں کی رہائی کو یقینی بنائے جائے۔ کانفرنس میں کہا گیا کہ گلگت بلتستان کا سیاحتی مقام ہنزہ جو کہ بجلی کی بدترین لوڈ شڈ نگ کے عذاب میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے نہ صر ف عوام ہنزہ کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے بلکہ سیاحت کے شعبے کو بھی شدید نقصان ہونے کا خدشہ ہے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے لئے میگا منصوبوں کے علاوہ التو شدہ منصوبے جو کہ حال ہی میں ٹینڈ ر سٹیج پر ہے ایمرجنسی بنیادوں پر ان منصوبوں پر کام کیا جائے تاکہ لوڈ شیڈ نگ کا خاتمہ ہوسکے۔ آل کانفرنس میںیہ بھی فیصلہ کیا کہ وفاقی و صوبائی حکومت کی جانب سے ان مطالبہ پر عمل نہ کرنے کی صورت میں نہ صرف آئندہ انتخابات کا بائیکاٹ کرینگے بلکہ مختلف طریقوں سے احتجاج کے راستے اپنائے جائیگا ۔آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ ن سب ڈویثرن ہنزہ کے صدر کے علاوہ ، پاکستان پیپلز پارٹی سب ڈویثرن ہنزہ، پاکستان تحریک انصاف ، پرگریسیوں یوتھ ،ہنزہ کے نمبرداران اور عمائدین کثیر تعداد میں شریک ہوئے ۔ کانفرنس میں آئندہ لائحے عمل کے لئے مختلف پارٹیوں ، نمبرداروں اور عمائدین پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔