BISEکیمپ آفس چترال میں بیٹھے بااثر افراد کی من مانیاں۔ ایک مظلوم استاد کی فریاد۔ ایڈیٹر کے نام کھلا خط

BISEکیمپ آفس چترال میں بیٹھے بااثر افراد کی من مانیاں۔ ایک مظلوم استاد کی فریاد۔ ایڈیٹر کے نام کھلا خط

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

میں گزشتہ 29سالوں کے طویل عرصے سے محکمہ تعلیم میں بحیثیت ٹیچر خدمات انجام دے رہا ہوں اور میری 29سالہ سروس کے دوران پہلی دفعہ مجھےSSCسالانہ امتحان 2015میں BISEپشاورکیطرف سے بحیثیت نگران سنٹر نمبر481GHSارکاری بھیجا گیا۔ میں ارڈر کی تعمیل کرتے ہوئے تحصیل دروش سے طویل مسافت طے کرکے GHSارکاری روانہ ہوگیا۔ جب ادھا راستہ طے کیا تو راستے میں برفانی تودہ گرنے کی وجہ سے روڈ بلاک تھا جس کی وجہ سے باقی اٹھ گھنٹے کا سفر پیدل طے کرکے انتہائی تکلیف اور مشقت اٹھانے کے بعد جب اپنے متعلقہ امتحانی سنٹر پہنچاتو وہاں سنٹر سپرنٹنڈنٹ شاکر احمد SSTساکن بکر آباد چترال اپنے چند ہم خیال اور منظور نظر اساتذہ کے ایک لابی کے ساتھ پہلے سے موجود تھا۔ ان اساتذہ میں سے اکثر ماضی قریب میں اس سکول کے سٹاف بھی رہ چکے ہیں اور اب اپنی ٹرانسفر کے کچھ مدت بعد پھر اپنی خواہش کے مطابق BISEپشاور کے کیمپ آفس چترال سے اپنے نام ارڈر جاری کرواکر GHSارکاری گئے ہوئے تھے۔جب میں وہاں پہنچا تو سنٹر سپرنٹنڈنٹ نے مجھے وہاں ٹھہرنے نہیں دیا۔ اور کہا کہ یہاں طلباء کی تعدا د کم ہے۔ پہلے سے موجود عملہ کافی ہے اور 113کی تعداد کو دو امتحانی ہالوں میں تقسیم کرکے دو دو نگران مقرر کرکے مجھے فارغ کردیا اور وہاں موجود عملے کے پاس کیمپ ارڈر تھے اور سنٹر سپرنٹنڈنٹ نے BISE پشاور کے اوریجنل ارڈر پر کیمپ ارڈرزکو فوقیت دی، یہ بات قابل غور ہے۔جبکہ میں اپنا فرض نبھانے کی خاطر Turn by Turnڈیوٹی کرنے کو بھی تیار تھا لیکن سنٹر سپرنٹنڈنٹ متعلقہ سکول کے ہیڈ ماسٹر نے کہا کہ سٹاف کی کثرت سے طلبا ء پر بوجھ پڑتا ہے اور طلباء پر بوجھ پڑنے کی بات توجہ طلب ہے کیونکہ ایک نگران کو بورڈ کیطرف سے TA,DAمل جاتا ہے۔جو کہ اس امتحانی ڈیوٹی کے دوران ہونے والے اس کے سارے اخراجات کو پورا کرتا ہے۔ اس کے باوجود وہ طلباء پر بوجھ کیسے بنتے ہیں۔ اور متعلقہ سکول کا ہیڈ ماسٹر اتنی کراہت کیساتھ ان لوگوں کا بوجھ طلباء پر کیوں ڈالتا ہے؟ اور آخر کار میں مجبور ہوکر دوبارہ کئی میلوں کا سفر طے کرکے انتہائی مایوسی کیساتھ دوبارہ GHSارکاری سے جو کہ افغان سرحد بدخشان سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ، ضلع چترال کے ایک دوسرے کونے میں واقع اپنے گھر تحصیل دروش کیلئے روانہ ہوگیا۔ لہذا میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ،ڈاکٹر محمد شفیع صاحب چیرمین BISEپشاور ،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور دوسرے متعلقہ حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ میرے ساتھ ہونے والے اس زیادتی کا نوٹس لیں اوراس حرکت کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچائیں اور کیمپ آفس چترال میں موجود ذمہ دار افراد سے وضاحت طلب کریں تاکہ یہ لوگ آئندہ کیلئے ایسے غیر ذمہ دارانہ حرکتوں سے باز آئیں کیونکہ موجودہ صوبائی حکومت معیار تعلیم کو بلندکرنے اور اساتذہ کو ان کا جائز مقام دلوانے اور معاشرے میں انصاف عام کرنے کا نعرہ بلند کرکے حکومت حاصل کی ہے۔مگر دوسری طرف معماران قوم کو اس طرح سرِ عام ذلیل ورسوا کیا جارہا ہے۔

رحمت نواز
سی ٹی ٹیچر گورنمنٹ مڈل سکول کلکٹک دروش
ضلع چترال

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔