کراچی، بھگت سنگھ اور نوآبادیات میں نوجوان جدوجہد کے موضوع پر این ایس ایف گلگت بلتستان کے زیر اہتمام سیمینارمنعقد

کراچی، بھگت سنگھ اور نوآبادیات میں نوجوان جدوجہد کے موضوع پر این ایس ایف گلگت بلتستان کے زیر اہتمام سیمینارمنعقد

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

11091046_890555014334606_287405452_o

کراچی: نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن گلگت بلتستان ، سندھ زون کے زیرِ اہتمام ایک سیمینار برصغیر کے سوشلسٹ انقلابی ہیرو بھگت سنگھ کی نو آبادیاتی نظام کے خلاف کی گئی جدوجہد کے حوالے سے کراچی میں منعقد کیا گیا۔ جس میں مختلف جامعات کے طلبہ و طالبات ، پاکستانی بائیں بازو سے مُنسلک رہنماوں اور دیگر مقامی افراد نے شرکت کی۔نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے رہنماء کامریڈ ناصر منصور نے نوآبادیاتی نظام کی ساخت اور اُس کے طریقہءِ عمل پر تفصیلی بحث کی۔ انھوں نے بتایا کہ برصغیر پاک و ہند جس طرح پہلے برطانوی نوآبادیاتی نظام میں جکڑا ہوا تھا آج بھی پاکستان اور ہندوستان کی حالت اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ بھگت سنگھ اس بات پر یقینِ کامل رکھتے تھے کہ اگر ہم گورے سرکار کی غُلامی کے چُنگل سے نکل کر برصغیر کی مقامی اشرافیہ کے ہاتھوں یر غمال بنتے ہیں تو یہ تمام محنت کش طبقوں کے جدوجہد کی تذلیل ہوگی اور ایسی آذادی ہمیں ہر گز قبول نہیں کرنی چاہیئے۔ آج اُن کی بات حرف بہ حرف دُرست ثابت ہوگئی ہے، ایسے میں ہمیں پہلے سے کئی زیادہ بھگت سنگھ کے کردار وں کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی موجودہ حالت زار کا ذمہ دار سرمایہ دارانہ نظام ہی ہے جو محکوم قومیتوں کو اپنے نو آبادیاتی زنجیر میں جکڑے رکھنے کو اپنی بقاء کی ضمانت سمجھتا ہے۔انھوں کے کہا کہ کامریڈ بابا جان کا کردار گلگت بلتستان میں بھگت سنگھ جیسا ہی ہے اور گلگت بلتستان کے عوام کو چاہیئے کہ وہ بابا جان کی سوچ کی حمایت میں نکلیں اور اپنے اوپر ہونے والے تاریخی مظالم کو دیگر محکوم قومیتوں کے ساتھ مل کر ختم کرنے کی سعی کریں۔ عوامی ورکرز پارٹی سندھ کے صدر اور معروف قانون دان کامریڈ اختر حُسین(ایڈوکیٹ) نے تحریکِ آذادی ہند میں بھگت سنگھ اور دیگر نوجوانوں کے کردار کو واضح کیا اور ان کی جدوجہد کو آج کے گلگت بلتستان اور پاکستان کے حالات سے موازنہ کرایا۔ انھوں نے کہا کہ آج گلگت بلتستان، کشمیر اور بلوچستان میں غُلاموں کے غُلام مُسلط ہیں اور عوام کو محکومیت کے اندھیروں میں دھکیل رہے ہیں۔ ایسے میں نوجوانوں کو بالخصوص دیگر محکوم قومیتوں سے رابطے بڑھانے اور بین الاقوامی سامراج کے خلاف مُشترکہ جدو جہد کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے گلگت بلتستان میں بائیں بازو کی جماعت کی تشکیل پر زور دیا اور کہا کہ سامراجیت کے خلاف جنگ سیاسی ہے اور ایک منظم سیاسی پارٹی ہی یہ جنگ لڑ سکتی ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے NSFگلگت بلتستان کے جنرل سیکرٹری کامریڈ عنایت بیگ نے گلگت بلتستان میں نوآبادیاتی نظام کے ساخت اور اُس کے اثرات پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ ہماری محکومیت کا ذمہ دار کوئی ایک مُلک نہیں بلکہ سامراج کی پراکسی وارکے کئی گروپ شامل ہیں۔ امریکہ ، سعودی عرب اور ہندوستان، چین، ایران اور پاکستان سب اپنے ناجائز مفادات کی تکمیل کیلئے گلگت بلتستان کے سرزمین کو بے دردی سے استعمال کر رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کا ذکر پاکستان کے آئین میں نہیں تو پھر پاکستان کی سیاسی تنظیمیں کس قانو ن کے تحت وہاں انتخابات لڑ رہی ہیں؟انھوں نے امریکہ اور چین کی گلگت بلتستان کے اندونی معاملات میں مداخلت پر بھی تنقید کی۔NSFGB کی طرف سے کامریڈ رحمت جلال نے بھگت سنگھ کی زندگی پر خلاصہ کیااور ساجدہ شاہ نےNSFGB کے اغراض ومقاصد اور سرگرمیوں کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا ۔این ایس ایف گلگت بلتستان کے صدر کامریڈ احتشام علی نے تمام شُرکاء کا شُکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہماری تنظیم طبقاتی بُنیادوں پر طلبہ کو اپنے حقوق کیلئے متحرک کرنے میں ہر ممکن کوشش سے دریغ نہیں کرے گی، انہوں نے تمام گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ آئیں اور ترقی پسند سوچ سے وابستہ ہو کر NSFکو مزید فعال بنائیں اور ایک نئی صبح کی آمد کے سبب بنیں، انہوں نے گلگت بلتستان میں موجود بائیں بازو کے عظیم رہنماء کامریڈ بابا جان کو خراجِ تحسین بھی پیچ کی۔ سیمینار کا احتتام انقلابی گیت سے ہُوا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔