جامعہ اسلامیہ ریحانکوٹ کی طرف سے امتحانات میں نمایاں پوزیشن ہولڈر طلباء کو ایوارڈ دینے کی محفل

جامعہ اسلامیہ ریحانکوٹ کی طرف سے امتحانات میں نمایاں پوزیشن ہولڈر طلباء کو ایوارڈ دینے کی محفل

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Madras jpg

چترال ( بشیر حسین آزاد) ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر چترال عبد الاکرم نے کہا ہے ۔ کہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانوں سے بہت محبت کرتے تھے ۔ اور اُن کی عزت کرتے تھے ۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم فروغ اسلام کیلئے لوگوں سے محبت کرنا اور اُنہیں عزت دینا سیکھیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ اسلامیہ ریحانکوٹ کی طرف سے امتحانات میں نمایاں پوزیشن ہولڈر طلباء کو ایوارڈ دینے کی محفل میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جس میں سابق امیدوار صوبائی اسمبلی اپر چترال مولانا حسین احمد نے صدر محفل کے فرائض انجام دی ۔ مہتمم مدرسہ و امیر جے یو آئی چترال مولانا عبدالرحمن قریشی ، ڈسٹرکٹ خطیب چترال مولانا فضل مولا ، مولانا مفتی عبد العزیز ،ڈی ایف سی چترال شیرفیاض کے علاوہ علماء مقامی عمائدین اور طلباء کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ انہوں نے کہا ۔کہ اغیار نے ایک سازش کے تحت مدرسوں کو دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرکے اسلام کو بدنام کرنے کی مذموم کو شش کی ہے ۔ اسلئے اس منفی پہلو کو زائل کرنے کیلئے ہمیں اس قسم کے دینی محافل میں حکومت کے ذمہ دار آفیسروں کو مدعو کرنے چاہیں ۔ تاکہ اُن کو اس حقیقت کا ادراک ہو سکے ۔ کہ مدرسے حصول علم کے ادارے ہیں ۔ اور دہشت گردی کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ عبد الاکرم نے کہا ۔ کہ اسلام کے پھیلاؤ کیلئے زبان وعلم سے زیادہ اعمال کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ عمل کے بے غیر علم بے ثمرشجر کے ہے۔انہوں نے کہا ۔ کہ دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ہمیں دینی اور عصری علوم پر مکمل عبور حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ آنے والا وقت آج کی نسبت زیادہ مشکل ہونے کے خدشات ہیں ۔ مولانا حسین احمد نے اپنے خطاب میں اس امر کا اظہار کیا ۔ کہ دنیا میں انسانوں کیلئے رول ماڈل رسول پاکؐ کی ذات گرامی ہے ۔ آج دنیا میں انسانی حقوق کی جتنی باتیں اقوام متحدہ اور یو رپین ممالک کر رہے ہیں ۔ وہ چودہ سو سال پہلے رسول پاکؐ کا وہ عظیم خطبہ ہے ۔ جسے اُنہوں نے حجتہ الوداع کے موقع پر دیا تھا ۔ انہوں نے کہا ۔کہ دنیا میں دو کروڑ تیس لاکھ حفاظ موجود ہیں ۔ جو کہ مدرسوں کی پیداوار ہیں ۔ اور علم کی یہ روشنی اُس چراغ کا تسلسل ہے ۔ جو غار حرا میں روشن ہوئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں تہذیب و تمدن اور کلچر کے یلغار آئیں گے ۔ لیکن قوم اُس کو کہا جاتا ہے ۔ جو اُس یلغار کے سامنے بند باندھے ۔ اُس کو قوم نہیں کہا جا سکتا ۔ جو ہر یلغار کا حصہ بنے ۔ اس موقع پر مدرسے کے ششماہی امتحان میں نمایاں پوزیشن لینے والے طلباء میں انعامات تقسیم کئے گئے ۔ اور کامیابی پر انہیں مبارکباد دی گئی ۔ خطیب فضل مولا نے اپنے خطاب میں علاقے میں پینے کے پانی اور سیوریج کے مسائل سے متعلق مہمان خصوصی کو آگاہ کیا ۔ اور مطالبہ کیا ۔ کہ اس پر توجہ دی جائے ۔ جس پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر نے مسئلے حل کرنے کی یقین دھانی کی ۔ اس بابرکت محفل میں طلباء نے قرآن پاک کی تلاوت کی اور حمد و نعت شریف پیش کرکے حاضریں سے داد وصول کی ۔محفل کی نظامت ممتاز عالم مفتی مولانا شفیق احمد کی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔