سکردو حلقہ تین کے پسماندہ علاقے

سکردو حلقہ تین کے پسماندہ علاقے

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

محترم قارئین جیسے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ خطے میں الیکشن کی تیاریاں عروج پر ہے گاوں گاوں قریہ قریہ الیکشن کے شادیانے بچ رہے ہیں امیدروان نت نئے وعدوں اور بلند بالا دعوں کے ذریعے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں گہماگہمی کے اس عالم میں راقم نے بھی سوچا کہ کیوں نہ ہم بھی پرنٹ میڈیا کی وساطت سے متعلقہ امیدارکو اپنے علاقے کے مسائل کی طرف توجہ مرکوز کرائیں۔

Sher Ali Anjum کیونکہ ماضی میں یہاں کے لوگ ہمیشہ ایک ہی نمائندے کوہر بار ووٹ دیکر خاموشی اختیار کر لیتے رہے ہیں یہی خاموشی اور عوامی لاشعوری کے سبب نمائندے کا الیکشن کے بعد عوامی مسائل حل پر توجہ دینا تو دور کی بات عوام سے ملنا بھی پسند نہیں کرتے ۔ ہمارے علاقے میں ایک اور خاص بات یہ بھی ہے کہ یہاں مخصوص لوگ ہی ووٹ کے سودا گر ہوتے ہیں جو عوامی ووٹ کا ہر بار انفرادی مفاد کیلئے بیوپاری کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس علاقے میں آوے کا آوے بھگڑا ہوا ہے۔جی ہاں میرا آبائی گاوں سکردو حلقہ نمبر تین مو ضع غاسنگ منٹھوکھا اور ملحقہ علاقہ جات جہاں کے عوام آج بھی سیاسی شعور اور معاشرتی ذمہ داریوں کی سوجھ بوجھ سے کوسوں دور رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ علاقے دوسرے علاقہ جات کی نسبت معاشرتی ترقی اور تعمیر کے حوالے سے آج بھی بہت پیچھے ہیں البتہ کچھ لوگوں کی زندگیوں میں نمائندے کی چمچہ گیری کے سبب تبدیلی ضرروردیکھنے کو ملتا ہے جس کی قیمت بھی یقیناًعوامی ووٹ ہیں جو اجتماعی فوائد کیلئے استعمال کرنے بجائے بیوپاروں کو ہی فائدہ پونچاتے رہے ہیں۔ اس علاقے میں زرعی ترقی، ہیلتھ ، تعلیم ، بلدیاتی نظام، آبپاشی کا نظام،لنک روڈ اورنکاسی آب کا مسلہ گھمبیر ہوتی جار ہی ہے البتہ جس طرح پورے گلگت بلتستان کی سطح پرلوگ گندم کو حقوق سمجھ کر خوش ہوتے ہیں بلکہ اسی طرح ہمارے علاقے کے لوگ بھی گندم ڈپو کو ایک تاریخی کارنامہ سمجھ کر اُس احسان کے تلے دبے ہوئے ہیں حالانکہ اگر حلقے کا نمائندہ پانچ سالہ بجٹ کا صرف تیس فیصد حصہ بھی حلقے میں خرچ کریں تو عام آدمی کی نظام زندگی میں بہتری آنے کے ساتھ علاقے میں معاشی انقلاب آسکتا ہے لیکن بدقسمتی آج تک ایسا ہو نہیں سکا جو کہ ایک المیہ ہے۔ اس وقت غاسنگ منٹھوکھا میں ترقیاتی حوالے بات کرتے ہوئے اگر ہم سب سے پہلے غاسنگ نالہ روڈ کی بات کریں تو اس سڑک کی تعمیر کیلئے مختلف اوقات میں دو دفعہ فنڈ زمنظور ہوئے لیکن کنٹریکڑز کی کرپشن کے سبب یہ روڈ آج بھی خستہ حالی کاشکار ہے اور مقامی لوگ کیلئے سہولت کے بجائے تکلیف کا باعث بن رہے ہیں کیونکہ اس روڈ کی تعمیر کے وقت موسمی اثرات اور برفباری سے ممنکہ خطرات ملحوظ خاطر رکھا نہ ہی تعمیراتی کام کے دوران معیار کو چیک کیا گیا یوں یہ سڑک تعمیر کے چند مہنیوں بعد ہی خراب ہونا شروع ہوکر اب بلکل ہی ناقابل استعمال ہوچکی ہے ۔ اسکے علاوہ اس سڑک کوچھوچن نالہ تک توسیع کرنا بھی علاقے کے لوگوں کی اولین ضرورت تھی کیونکہ مقامی لوگ گاوں کے نسبت بالائی نالوں میں زراعت اور کاشت کاری پر ذیادہ منحصرہوتے ہیں ،اسی طرح پولی کنال غاسنگ کی ایک اہم ضرورت ہے کیونکہ جس طرح گلگت بلتستان بھر میں آبادی میں اضافے کے ساتھ زمینیں سکڑتی جارہی ہے بلکل یہی مسلہ اس علاقے کا بھی ہے غاسنگ کی زمینیں بڑھتی ہوئی آبادی اور نوآبادیاتی نظام کا نہ ہونے کے سبب سکٹرتی جارہی ہے لیکن نہ ہی علاقے کے عمائدین کا اس اہم مسلے کے حوالے کوئی سوچ بچار کرتے ہیں اور نہ عوامی نمائندے کا اس سلسلے میں کو کردار نظر آتا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ کثیر عوامی مفاد میں پولی کنال کو یہاں کے عوام میں منصافانہ طور پر تقسیم کرکے دوبارہ بحالی کیلئے حکومتی سطح پر کوشش کریں اس طویل رقبے کی بحال کیلئے دریائے سند ھ کے پانی کو قلیل سرمائے کے ساتھ پائپ لائن کے ذریعے قابل استعمال بنا یا جاسکتا ہے ضرورت صرف مخلص قیادت کی ہے جو عوامی فلاح و بہبود کو عبادت سمجھ کر کرے ۔بلکل یہی صورت حال اخونپہ کا بھی ہے دریا کی کٹائی کے باعث یہ گاوں ختم ہونے کے قریب ہے اور یہاں عرصہ دراز تک بغیر کسی منصوبہ بندی کے پیسے دریا برد کرتے رہے جس سے کچھ ٹھیکداروں کے دن بدل گئے لیکن گاوں کے لوگوں کی دوبارہ آباد کاری کیلئے کوئی مناسب انتظام نہیں کیا گیا اسی طرح ہم اگر منٹھوکھا کی طرف چلیں تو یہاں بھی حالات کچھ مختلف نہیں منٹھوکھا نالے کا طغیانی پانی ہر سال علاقے کے عوام کیلئے قہر بن کر آتا ہے لوگوں کے سال بھر کی محنت ایک ہی دن میں ندی پر مناسب واٹر شیڈ نہ ہونے کی وجہ سے پانی کے بہاو کا شکار ہوجاتے ہیں، یہاں بھی گزشتہ دہائیوں سے اس ندی کے نام پر کچھ لوگ نجی فلاحی اداروں اورحکومت سے نمائندے کی ملی بھگت سے لاکھوں کا فنڈز ہضم کرچُکے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔حالانکہ بہت ہی کم بجٹ کے ساتھ اس ندی کے بہاو کو ایک ڈائرکیشن دیکر ندی کے اطراف کو مقامی کاشت کاروں کیلئے قابل استعمال بناکر عوامی معیشت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے آج تک ایسا ممکن نہیں ہوسکاجو کہ گاوں کے عمائدین اور نمائندے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔اسی طرح منٹھوکھا ندی سے متصل آبشار جو کہ اس وقت سیاحتی حوالے سے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان کی سطح پر بہترین سیاحتی مقام تصور کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاحوں کی آمد کا سلسلہ بھی ہر سال بڑھتے جارہے ہیں لیکن یہاں پرنکاسی کا مناسب بندوبستنہ ہونے سبب منٹھوکھا ندی کا پانی جو ایک وقت میں لوگ دواء کے طور پر استعمال کرتے تھے آج مضر صحت بنتے جارہے ہیں اس صورت حال پر محکمہ صحت ،ماحولیات اور سیاحت کے ذمہ داران کی لاعلمی یا اس حوالے سے آنکھ بند رکھنے کی وجہ سے خدشہ کیا جارہا ہے کہ آئندہ چند سالوں میں منٹھوکھا نالے کا قدرتی طور پر صاف شفاف پانی گٹر نالے کی شکل اختیارکرجائے گا لہذا اس حوالے سے مناسب اقدمات کرنے کی ضرورت ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس مقام پر منشیات کا استعمال اور فحاشی بھی بڑھتی چلی جارہی ہے لیکن متعلقہ پولیس سٹیشن بھی اس حوالے سے بے خبر نظرآتے ہیں ۔ اسی طرح منٹھونالہ سڑک بھی اس وقت خستہ حالی کا شکار ہے جسے بہترین عوامی مفاد میں اپ گریڈکرنے کی ضرورت ہے لہذا یہاں کے عوام آنے والے الیکشن میں جیتنے والے نمائندے سے توقع کرتے ہیں کہ ماضی کی طرح اس علاقے کو نظرانداز کرنے کے بجائے اس علاقے کی معاشی اور فلاحی ترقی کیلئے بھی کچھ اقدام اُٹھائیں گے۔حاجی فدا محمد ناشاد کو اس حلقے کا ونر کہا جاتا ہے لیکن گزشتہ الیکشن میں کچھ سیاسی وجوہات کی بناء پر ایک ایسے شخص کو میدان سیاست میں موقع ملاجن کیلئے سیاست کے دروازے بند ہو چکے تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اُس انتخاب کو اپنے لیے بہتر مستقبل کی تلاش کیلئے سیڑھی کے طور پر استعمال کرکے عوامی اُمنگوں پر پانی پھیر دیا۔لہذ�آنے والے ایکشن میں جو بھی امیدوار اس علاقے میں ووٹ لینے کیلئے آئیں گے اُنہیں ان تمام مسائل کو اہمیت دیتے ہوئے آئندہ پانچ سالوں میں غاسنگ منٹھوکھا کے اندر ترقی کی ایک نئی اُمنگ نظر آنا چاہئے جس میں اولین ترجیح یہاں پر بوائز اینڈ گرلز ہائی سکولز اور جدید طبی سہولیات سے آراستہ ہسپتال کی تعمیر اور علاقے کیلئے سرکاری سطح پر ایمبولنس سروس کا شروع کرنا ہے۔آخر میں یہاں کے عوام سے بھی گزارش ہے کہ گرم چائے اور گوشت کی بوٹی کیلئے ووٹ دینے کے بجائے علاقائی ضرورت کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں۔ اللہ ہم سب کو اپنی بساطکے مطابق معاشرتی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

از۔شیرعلی انجم

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔