وزیر اعظم جگلوٹ سکردو روڈ تعمیر نو کا علامتی افتتاح کریں گے، عمران ندیم شگری

وزیر اعظم جگلوٹ سکردو روڈ تعمیر نو کا علامتی افتتاح کریں گے، عمران ندیم شگری

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

11079306_560503934089950_1243006765_nسکردو(جونئیر شگری سے ) سابق مشیر صحت وسیاحت اور پاکستان پیپلز پارٹی بلتستان کے مرکزی رہنما عمران ندیم نے انکشاف کیا ہے۔وزیر اعظم پاکستان اپنے دورہ گلگت بلتستان کے موقع پر جگلوٹ سکردو روڈکا علامتی افتتاح کریں گے جس کے لئے وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان خط لکھ دیا ہے اس طرح مسلم لیگ ن نے 2015کے انتخابات جیتنے کے لئے گلگت بلتستان کے عوام کو ایک بار مامو ں پھر بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور وزیر اعظم کے متوقع دورہ کے موقع پر ہوائی اعلانات کریں گے تاکہ گلگت بلتستان کے عوام کو بے وقوف بنا کر ووٹ حاصل کرسکیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا تھا کہ یوں تو گلگت بلتستان کے عوام گزشتہ 67سالوں سے وفاقی حکومت اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے ہاتھوں مامو بنتے چلے آرہے ہیں موجودہ ن لیگ کی وفاقی حکومت بھی گلگت بلتستان کے عوام کو مامو ں بنانے کی تیاریو ں میں مصروف ہیں عمران ندیم کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے انتخابات ہائی جیک کرنے کے لئے پہلے غیر قانونی گورنر کو گلگت بلتستان پر مسلط کرکے آئین اورقانون کی دھجیاں اڑا دی گئی اور اب وزیر اعظم اپنے دورے کے موقع پر بہت سارے اعلانات کرنے جارہے ہیں جس کی خوشخبری گزشتہ دنوں گلگت بلتستان کے غیر آئینی گورنر نے اپنے دورہ گلگت بلتستان کے موقع پر دیا تھا گورنر نے جن اہم اعلانات کی خوشخبری دی ہے ان میں سے اہم منصوبہ گلگت سکردو روڈ کی توسیعی منصوبہ سر فہرست ہے اس منصوبے سے متعلق حال ہی میں وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان نے نیشنل ہائی وے اٹھارٹی کے چیرمین اور وفاقی سیکرٹری وزارت مواصلات کوایک مراسلہ لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم میاں محمد شریف رواں ماہ گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے تو جگلوٹ سکروو روڈتوسیعی منصوبے کا علامتی افتتاح کریں گے جس کے لئے جگہ اور وقت کے تعین کے ساتھ تقریب کا انتظام کیا جائے ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی یہ ہے کہ یہ منصوبہ کئی برسوں سے وزارت مواصلات اور نیشنل ہائی وے اٹھارٹی کے درمیان گھوم رہی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ابھی تک اس کی پی سی ون کی دوبارہ نظر ثانی ابھی تک نہ تو cdwpمیں پیش ہوا ہے اور نہ cdwp سے منظوری کے بعد ایکنک کونسل میں منظوری کے لئے پیش کردی گئی ہے اس منصوبے کی ایکنک سے منظوری کے بعد eadکے ذریعے چائنا کی کمپنی examنیک کو قرضے کی منظوری کے لئے خط لکھنا ہے اس لئے الیکشن سے قبل افتتاح کرکے عوام کو مامو بنانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے اسی طرح شتونگ نالے منصوبے کی بات کی گئی ہے جس کی ابھی تک نہ تو پی سی ون بنا ہے اور نہ ہی پی سی ون فورم سے منظوری ہوئی ہے ایسے ہی کئی اور منصوبے شامل ہوں گے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ چین کے صدر سے معاہدے کے لئے جن منصوبوں کی ترجیحی فہرست تیار کرلی گئی ہے جس میں یہ منصوبہ شامل ہی نہیں اس کے بغیر چائینا سے لون مل ہی نہیں سکتا ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے اب تک کے انفراسچکٹر کی ترقی ہوئی ہے تو بقول سیاسی جماعتوں کے آمروں کے دور ہوئی ہے اور اگر سیاسی ترقی ہوئی ہے تو پاکستان پیپلز کے دور حکومتوں میں ہوئی ہے ۔مسلم لیگ ن کے اب تک کے آنے والی تین دور حکومتوں میں کوئی ایسا قابل اقدام عمل نہیں جس سے علاقے کو سیاسی اور تعمیری مفاد حاصل ہوئی ہو سوائے اس کے کہ اس علاقے میں ایک والسرائے کے ذریعے عملا گورنر راج کا نفاز کیا گیا ہے جوکہ آئین پاکستان کی رو سے غیر آئینی و غیر قانونی ہے اور وہ قومی اسمبلی کی نشست سے ناہل ہوچکے ہیں لیکن وہ بڑ ے دوم دھام سے گلگت بلتستان میں سرکاری خرچے پر ن لیگ کے لئے انتخابی مہم چلا رہے ہیں انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہ حال ہی میں گورنر نے سابق چیف سیکرٹری کو حکم دیا تھا کہ وزیر اعظم کے دورے کے موقع پر منعقدہ جلسے کے لئے ایک کروڑ روپے دئیے جائیں تاہم چیف سیکرٹری سلطان سکند ر راجہ نے حکم ماننے سے نکار کردیا اور گورنر نے حکم عدولی کی شکایت وزیر اعظم کو کرکے ان کو فارغ کروا دیا ان کا کہنا تھا کہ گورنر نہ صرف گورنینس آرڈر2009کو فالو نہیں کررہے ہیں بلکہ گلگت بلتستان رولز آف بزنس کو پاوں تلے روندھا جارہا ہے وہ صرف اور صرف الیکشن جتانے کے جنون میں مبتلا ہوکر نگراں حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں ۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔