ن لیگ استور کے ضلعی رہنما ناکام ہونے کے بعد استعفی دیںے کا ڈھونگ رچارہے ہیں، خالد خورشید آزاد امیدوار

ن لیگ استور کے ضلعی رہنما ناکام ہونے کے بعد استعفی دیںے کا ڈھونگ رچارہے ہیں، خالد خورشید آزاد امیدوار

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

11157923_424089094420685_1225989373_nگلگت ( بیورورپورٹ) مسلم لیگ ن کی ضلعی قیادت نے ناکامی کے بعد اجتماعی استعفوں کا ڈرامہ رچاناشروع کردیاہے ،شونٹر ٹنل جیسے اہم منصوبے کے حصول میں ناکامی کے ذمہ دار ن لیگ کی ضلعی قیادت ہے یہ بات استور حلقہ ایک سے آزاد امیدوار خالدخورشید خان نے بدھ کے روز گلگت پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نوزاز شریف کے دورہ گلگت ایک اہم موقع تھا جس میں مسلم لیگ ن ضلع استور کی قیادت اپنے رہنماء سے شونٹر ٹنل منصوبے کی منظوری سمیت دیگر اہم ایشوزحل کراسکتے تھے لیکن ضلعی قیادت عوامی نمائندگی اور علاقائی مسائل کے حل میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی جس کی وجہ سے استور کے عوام کو ایک بار پھر مایوسی اور محرومیوں کے سوا کچھ نہ مل سکااپنی بدترین ناکامی کے بعد عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے مسلم لیگ ن ضلع استور کی قیادت نے اجتماعی استعفوں کا ڈرامہ رچانے لگے ہیں لیکن استور کے باشعور عوام ایسی چالبازیوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور آئندہ انتخابات میں اسکا بدلہ ن لیگ کو ناکام کرکے لیں گیں خالد خورشید خان نے کہااکہ وزیر اعظم کے دورہ کے موقع پر سکردو،ہنزہ اور گلگت کے رہنماؤں نے اپنے مسائل بیان کئے اور انکے مطالبے پر نواز شریف نے اعلانات کےئے لیکن استور کی قیادت نے اپنی زبان پر تالے لگائے رکھے۔شونٹر ٹنل انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے جس کی تعمیر کا اعلان ہوناچاہئے تھا اگر یہ منصوبہ شروع کرکے پائیہ تکمیل تک پہنچایاجائے تو نہ صرف گلگت بلتستان کے عوام کو سفری سہولیات میسر آئیں گی بلکہ اس سے سیاحت کو فروغ دینے اور آذادکشمیرسے زمینی رابطے کی بحالی اور آپس کی دوریوں کو ختم کرنے میں بھی مدد ملے گی خالد خورشید نے کہا کہ ضلع استور کا شمار پسماندہ ترین اضلاع میں ہوتاہے جہاں 75 فیصدسڑکیں کچی ہیں اور 25 فیصدسڑکوں پر بڑی گاڈیوں کا داخلہ ممکن نہیں ہے جو سڑکیں مٹل کی گئی ہیں وہ ناقص تعمیرات کی وجہ سے جواب دے چکی ہیں اور انکی خستہ حالی عروج پرہے گزشتہ 10 سالوں میں شروع کےئے گئے تمام منصوبے آج تک ادھورے پڑے ہیں انہوں نے کہا کہ رٹو روڈ تباہ ہو چکاہے اور اس منصوبے لاگت کی رقم مکمل اداکی جاچکی ہے ، انہوں نے کہا کہ قمری منی مرگ کو تحصیل بنانے اعلان 6 سال پہلے کیا گیا تھا اسکا نوٹیفکیشن تاحال جاری نہ ہوسکاہے قمری منی مرگ کلشئی اور میرملک ،ضلع بالا،داسخرم سیمت دیگر علاقے سخت برف باری کی وجہ سے سردیوں کے موسم میں 4سے6 ماہ تک دنیا سے کٹ کر رہ جاتاہے اور انکی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو جاتاہے یہ لوگ مشکل ترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں انکے مسائل ترجیحی بنیادوں پر ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ استور کے عوام محب وطن اور باشعور ہیں انکو مسائل میں ڈالنا ملک کو مسائل میں دھکیلنے کے مترادف ہے انہوں نے مزید کہا کہ منتخب سیاسی نمائندے نے آج تک عوامی مسائل کے حل پر کوئی توجہ نہ دی سیاسی رہنماء نے خلاف میرٹ بھرتیوں اور من پسندوں کو ٹھیکے دلوانے تک محدود رہے اور آج بھی ٹھیکوں کی بندر بانٹ کی سیاست کی جارہی ہے میرے آس پاس کوئی ٹھیکیدار نہیں ہے نہ ہی میں خلاف میرٹ کام پر یقین رکھتاہوں عوام نے منتخب کیا تو حلقہ کی تعمیروترقی اور عوام کی خوشحالی کیلئے کام کروں گا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔