وزیر اعظم کا دورہ گلگت بلتستان

وزیر اعظم کا دورہ گلگت بلتستان

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے دورہ گلگت کے موقع پر گلگت بلتستان میں عوامی فلاح وبہبود کے متعدد منصوبوں کے اعلان سے مجھے 28ستمبر2009کا وہ دن یاد آیا جب اسی مقام پر اسی طرح کے ایک عوامی اجتماعی سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی کچھ اس قسم کے ہی اعلانات کئے تھے۔ گیلانی صاحب نے علاقے کی تعمیروترقی کے لئے متعدد منصوبے شروع کرنے کے اعلان سے ہٹ کر ایک خوبصورت جملہ کے زریعے اس بے آئین سرزمین کے باسیوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی تھی جو آج بھی میری ذہن میں تقش ہے۔ وہ جملہ یہ تھا کہ ’’آج آپ لوگوں کو شناخت مل رہی ہے‘‘۔ ساتھ ہی ساتھ وہ یہ کہہ کر عوام پر احسان جتانے کی بھی کوشش کررہے تھے کہ یہ گلگت بلتستان کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا جو ہم پورا کرنے جارہے ہیں اور یہ آپ کا حق بھی ہے۔ گیلانی صاحب بھی میاں صاحب کی طرح ایک ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر میں گلگت بلتستان کے عوام کو سبزباغ دکھاکر رخصت ہوئے اورآج تک ان کے اس ایک جملے پر عملدرآمد ہوا نہ ہی ان ڈھیر سارے اعلانات پر ماسوائے چند ایک کے۔ آج پھر میاں نواز شریف نے عوام کی نفسیات جان کر گیلانی والا وہ جملہ دہراتے ہوئے کہا کہ’’آپ کی آئینی حیثیت کے تعین کے لئے میرے مشیرسرتاج عزیر کی سربراہی میں کمیٹی کام کررہی ہے، کمیٹی جو سفارشات پیش کریں گی ان پر من وعن عملدرآمد کیا جائیگا‘‘۔ اس کے علاوہ میاں صاحب نے بھی وہی اعلانات پھر دہرائے جو یوسف رضاگیلانی نے کئے تھے۔انہوں نے تو پاکستان مسلم لیگ(ن) کی صوبائی قیادت کی جانب سے پیش کردہ سپاسنامہ میں دئیے گئے31مطالبات پر بھی کوئی خاص دھیان نہیں دی۔

Safdar Logoپاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے وزرائے اعظم کی جانب سے گلگت بلتستان کے لئے کئے جانے والے اعلانات میں مماثلت کچھ اس طرح دکھائی دی کہ دیامر بھاشا ڈیم اور بونجی ڈیم کی تعمیر اور اس سے حاصل شدہ فوائد کا تذکرہ گیلانی نے بھی کیا تھا اور میاں صاحب نے بھی کیا۔شاہراہ قراقرم کی توسیعی منصوبے کا اعلان بھی گیلانی نے کیا تھا ا ور نواز شریف نے بھی اسے توڑمروڑ کر دہرایا۔گلگت اور سکردو ایئرپورٹس کو اپ گریڈ کرکے پی آئی اے کی اضافی پروازے چلانے کا اعلان گیلانی کا بھی تھا اور نواز شریف کا بھی۔ہنزہ نگر کو ضلع بنانے کا اعلان مشرف دور کا تھا جس پر عملدآمد کے لئے گیلانی نے اپنے خطاب میں اس ضلع میں فوری طور پر ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی عمل میں لانے کے احکامات جاری کئے۔ جس پر پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں ہنزہ نگر کے ضلعی ہیڈکورٹر کے لئے مناسب جگہ کا تعین نہیں کیا جاسکا تو نواز شریف نے میر آف ہنزہ کی خواہش پر ہنزہ کو الگ ضلع بنانے کا اعلان کردیا۔

شگر اور کھرمنگ کو اضلاع کا درجہ دینے کا اعلان تو سابق وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ نے سال 2012میں کیا تھا جس پر بقول حافظ حفیظ الرحمن کے، اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی پرنسپل سکریٹری نرگس سیٹھی نے یہ اعتراض لگا کر فائل واپس کردی تھی کہ گلگت بلتستان کی موجودہ آبادی کے تناسب سے تو پہلے سے موجود سات اضلاع بھی بہت زیادہ ہیں۔ بلتستان میں یونیورسٹی کے قیام کا اعلان سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے دورہ سکردو کے موقع پر کیا تھا جبکہ جگلوٹ سکردو روڈ کی مرمت اور توسیعی منصوبے پر کام تو سابق دور حکومت میں ہی شروع ہونے والا تھا لیکن پیپلز پارٹی رہنماؤں کے بقول سابق وفاقی سکریٹری مواصلات سیف اللہ چٹھہ نے مہدی شاہ کے ساتھ ذاتی رنجش کی بنیاد پر جان بوجھ کر اس منصوبے کو التواء میں ڈال دیا تھا اور اب نواز شریف نے اس کا بھی کریڈٹ لے لیا۔ اس کے علاوہ چند ایسے منصوبوں کا وزیراعظم نے اعلان کیا جو وہ اعلان نہ بھی کرتے تو پی ایس ڈی پی کے فنڈ سے شروع ہونے تھے۔

وزیراعظم کے دورے سے قبل گلگت بلتستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں پر یہ خوف طاری تھی کہ وہ گلگت بلتستان کے لئے مجموعی طور پر کسی بڑے مالیاتی واصلاحاتی پیکیج کا اعلان کرکے آنے والے الیکشن میں عوامی حمایت حاصل کریں گے ۔لیکن عین وقت پر وزیراعظم نے سابق وفاقی حکمرانوں کے کئے ہوئے اعلانات کو پھر سے دہرانے اوراپنی جماعت کے بااثر رہنماؤں کی سفارش چند اعلانات کرنے سے سیاسی حریفوں کے حوصلے پست ہونے کی بجائے مذید بلند ہوئے جبکہ خود لیگی رہنما اور عوام میں سخت مایوسی پھیل گئی ۔ وزیراعظم کے ان اعلانات سے سکردو اور ہنزہ کے عوام خاصے خوش اور مطمعین نظر آئے جبکہ گلگت ،غذر،استور اور دیامرکے عوام خاص طور نوجوان اس قدر طیش میںآگئے کہ یک دم انہوں نے سوشل میڈیا اور موبائل فون پر ایس ایم ایس کے زریعے اپنے اپنے علاقوں میں مسلم لیگ نواز کی طرف سے الیکشن کے امیدواروں کے خلاف باضابطہ مہم شروع کردی۔

اگرچہ یہ ایک جذباتی مہم لگتی ہے مگر آنے والے الیکشن میں اس کا لیگی امیدواروں کے ووٹ پر ضرور اثر پڑسکتا ہے۔ کیونکہ ان امیدواروں نے وزیراعظم کے دورے سے قبل اپنے انتخابی حلقوں میں عوام کو یہ باور کرایا تھا کہ وزیراعظم صاحب اپنے دورہ گلگت کے موقع پر تمام حلقوں کے لئے الگ الگ پیکیجز کا اعلان کررہے ہیں ۔ لیکن عین وقت پر وزیراعظم کی جانب سے ان اضلاع کا نام تک نہ لئے جانے سے عوام کو لیگی رہنماؤں کے اوقات کا بخوبی اندازہ ہوا ۔حقیقت بھی یہی ہے کہ عوام وزیراعظم کے منہ سے اپنے علاقوں کے لئے کوئی اعلان سننے کے لئے بے چین تھے، بعد میں جو ہوگا اس سے عوام کو کوئی واسطہ نہیں۔ جبکہ لیگی قیادت کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم نے گلگت بلتستان کے لئے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرکے عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمانی کی اور یہ پیپلز پارٹی والوں کی طرح محض اعلانات ہی نہیں بلکہ ان پر فوری طور پر عملدرآمد بھی شروع ہوگا۔

خیرکسی کو خوش کسی کو ناراض کرانا ،کسی کو فائدہ کسی کو نقصان پہنچانا اور جھوٹے اعلانات کے زریعے سیاست چمکانا پاکستانی سیاستدانوں کا شیوہ ہی ہے اور اس بار بھی حسب روایت وزیراعظم کے کچھ اعلانات پر عملدرآمد کیا جائیگا اور کچھ وہی کے وہی رہ جائیں گے ۔ سوال یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے اس قومی مسلے کا کیا ہوگاجو گزشتہ68برس سے ایک اہم سوالیہ نشان بنتا جارہا ہے اور پاکستان میں ہرآنے والی حکومت اس اہم مسلے کے حل سے آنکھیں چراتی جارہی ہے۔ اسی ایک مسلہ سے دیگر تمام چھوٹے بڑے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ جب تک اس مسلے کا حل نہیں نکالا جاتا اس وقت تک یہ تمام مسائل جوں کے توں رہیں گے اور جب یہ مسلہ حل ہوا تو دیگر مسائل خود بخود حل ہوسکتے ہیں۔ وہ مسلہ ہماری شناخت یعنی آئینی حیثیت کا ہے جس کے حل کے لئے نہ وفاقی حکمران سنجیدہ نظر آتے ہیں اور نہ ہی مقامی سیاستدانوں کو اس کا کوئی احساس ہے۔ وفاقی حکمران انتخابات کے وقت گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین اور خطے کو شناخت دینے کے دعوے تو کیاکرتے ہیں مگر عملی اقدامات کے لئے کوئی پیش رفت نہیں ہوپاتی۔اسی وجہ سے ہم لوگ نہ ادھر کے نہ ادھر کے ہوکررہ گئے ہیں اور وفاقی حکمران ہماری متنازعہ حیثیت سے فائدہ اٹھاکرہمیں اعتماد میں لئے بغیر ہمسایہ ممالک کے ساتھ نت نئے معائدوں پر دستخط کرتے ہیں۔ جس کی تازہ مثال پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی ہے جس کے لئے گلگت بلتستان کا سینہ چیر کرپاکستان کے دوسرے صوبوں کو فائدہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔جبکہ وزیراعظم صاحب ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اکنامک کوریڈور کے بننے سے یہاں کے پھل فروٹ کے کاروبار اور سیاحت کوفروغ ملے گا۔پھر اوپر سے یہ بھی کہتے ہیں کہ میرا دل گلگت بلتستان والوں کے ساتھ دھڑکتا ہے اور ہم اس پر خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں کہ واہ جی واہ کیابات کہی میاں صاحب نے۔

کاش اگرکوئی ان سے یہ سوال پوچھ لیتا کہ جناب اگر واقعی میں آپ کا دل ہمارے ساتھ دھڑکتا ہے تو کیوں نہ اس غریب علاقے میں بھی اکنامک کوریڈور کے تحت ایک اکنامک زون کے قیام کا اعلان کرلیتے۔ لیکن سیاستدان اس طرح کے قومی ایشوز کے حوالے سے سوالات کیونکرپوچھیں گے کیونکہ انہیں آگے الیکشن میں آنا ہے۔ الیکشن جیتنے کے لئے ان کے نزدیک اقتصادی راہداری منصوبے میں حصہ دار بنانے اور آئینی حقوق کے مطالبے سے ایک ضلع،سب ڈویژن اورتحصیل کے قیام اور سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کے اعلانات کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ اگریہی سوالات کوئی پوچھ سکتا ہے تو وہ علاقے کے صحافی ہی ہیں جنہیں اس خوف سے وزیراعظم کے دورے کی کوریج سے دور رکھا گیاکہ کہیں یہ لوگ تلخ سوالات پوچھ کر وزیراعظم کی شان میں گستاخی کے مرتکب نہ بن جائیں۔

ایک اور ڈرامہ دیکھ لیں کہ گزشتہ ایک عرصے سے گلگت بلتستان کونسل کا بجٹ اجلاس جناب وزیراعظم کی مصروفیت کے باعث بار بار ملتوی ہوتا رہا اور لے جاکر اس وقت بلالیا گیا جب چھ میں سے چار اراکین کی رکنیت کی مدت ہی ختم ہوچکی تھی۔ رہ گئے صرف دو مقامی اراکین جن میں سے بھی امجد حسین ایڈووکیٹ نے اجلاس کا بائیکاٹ کرکے چلے گئے وزیراعظم نے وفاق سے آنے والے ممبران کی رائے پر کونسل کے بجٹ کی منظوری دیدی۔

سوال یہ پھر یہی ہے کہ کیا ہمارا فائدہ وفاقی حکمرانوں کی جانب سے ہمارے ساتھ اس قدر امتیازی سلوک رواں رکھنے کے باوجود چپ رہ کر ہر آنے والے ان کی تقریر سن کر تالیاں بجانے میں ہے یا جھوٹے اعلانات اور نام نہاد پیکیجز کے زریعے عوام کو بے وقوف بناکر خطے کے وسائل لوٹنے والوں کے خلاف کوئی مشترکہ حکمت عملی اپنانے میں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔