گلگت میں قدرتی حسن کا شاہکار صرف نلتر نہیں، بلکہ نظروں سے اوجھل “ہلتر” بھی ہے!

گلگت میں قدرتی حسن کا شاہکار صرف نلتر نہیں، بلکہ نظروں سے اوجھل “ہلتر” بھی ہے!

20 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہدایت اللہ اختر

اللہ نے اپنی یہ کائینات بڑی خوبصورت بنائی ہے اور سارا حُسن اس میں سمو کے رکھ دیا ہےفطرت کی یہ خوبصورتی کچھ ظاہر ہے اور کچھ مخفی اور انسان کی آنکھ اس خوبصورتی کی کھوج میں لگی رہتی ہے۔۔خوبصورتی تو ہر جگہ موجود ہے پر یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس خوبصورتی کو دیکھ پاتے ہیں یا نہیں ۔۔۔ چناچہ  اپنی آنکھوں سے مخفی  خوبصورتی کو پانے کے  لیئے  گلگت سے بیس کلومیٹر دور دس ہزار فٹ کی بلندی پر فطرت کے حسین ترین نظاروں سے لطف اٹھانےکا  سوچا اور اس کے لیئے تیاری شروع کر دی۔ اس سفر میں دال چوریٹی تک دریائے گلگت آپ کے نظروں کے سامنے ہوتا ہے ،جب ہم گھر سے نکلے تھے اس وقت صبح کے سا ت بج چکے تھے پروگرام یہ طے تھا کہ فجر کے فورا بعد روانگی ہوگی لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا ایک ساتھی کے کچھ ایسے تقاضے پیش آئے کہ ہمارا یہ سفر پونے نو بجے شروع ہو سکا۔۔فجر نماز کے بعد سفر شروع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ دھوپ کی شدت سے بچا جا سکے اب چونکہ ایسا نہ ہو سکا جس کے باعث وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ایک تو چڑھائی چڑھنا اور اوپر سے دھوپ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایسے میں چڑھائی کا سفر کتنا دشوار ہوتا ہے ۔۔ہینزل گائوں تک آپ گلگت شندور پکے روڈ کا لطف اٹھا سکتے ہیں یہاں سے دو راستے ہلتر کی طرف نکلتے ہیں ایک راستہ جاگیر بسین اور ہینزل کی حدود سے اور دوسرا ہینزل بربوچ سے ۔بربوچ سے ہلتر کی طرف جو راستہ ہے وہ نسبتاً دوسرے راستے سے دشوار اور تنگ گھاٹی والاہے جبکہ دوسرا راستہ بھی اتنا آسان نہیں پرذرا نظارے والا ہے۔ چونکہ ہم تو بطور سیلانی ہلتر کی طرف رواں تھے اس لئے ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ نظارے والا راستہ اختیار کیا جائے اور بربوچ ہینزل کے راستے واپسی ہو ۔۔ جی ہاں ہمارا سفر اب شروع ہو چکا تھا اور اب اس راہ پہ چل پڑے جہاں ہموار راہوں کا دور دور تک نشان نہیں ہوتا ہے اور نہ اس کا سوچا جا سکتا ہے ۔ زگ زیگ کا لفظ تو روز مرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے اور پہاڑی علاقوں میں سفر کرنے والے اس کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ زگ زیگ راستے کیسے ہوتے ہیں کبھی کبھار تو ایسے مقام بھی آتے ہیں کہ گاڑی ہر منٹ بعد کبھی ادھر اور کبھی اُدھر اور انسان کا سر گھوم کے رہ جاتا ہے۔۔لیکن یہاں سر گھومنے والی بات نہیں تھی بلکہ یہاں پہاڑ چڑھتے وقت ان زگ زیگ راستوں میں سانس پھول اور ٹانگیں گھوم جاتی ہیں ۔ دال چوریٹی کے پاس پہنچے تو اندازہ ہوا کہ اب ہم کافی بلندی پر ہیں بس یہی کوئی ایک ہزار میٹریا اس سے تھوڑا زیادہ یا کم ۔ ایک مرحلے میں میرے ساتھی تاج میر نے بتا یا کہ ابھی آگے چار ہزار میٹر اور اونچائی چڑھنا ہے ۔اسی جگہ ہم نے تھوڑا دم لیا اوراپنے بیگوں کی جامعہ تلاشی لینی شروع کر دی اور ہمارے ہاتھ کچھ فروٹس لگے جن کو ہم نے دبوچ لیا۔ اب ان کے ساتھ جو سلوک ہونا تھا آپ خود دانا ہیں اندازہ لگائیں ہم ذرا فروٹس سے کچھ پوچھ گچھ شروع کر دیں۔

تھوڑی دیر دم لینے اور پھل سے شکم کو بہلا کر اپنے سفر کا دوبارہ آغاز کیا۔فیروز صاحب بڑے دیندار آدمی وہ ہمیں اسلامی معلومات کے ساتھ ساتھ دال چوریٹی اور ٹیمر گائوں کے متعلق بھی معلومات فراہم کر رہے تھے ۔ہلتر اور کارگاہ گلگت والوں کی چراگاہیں اورایندھن لکڑی مہیا کرنے کے ذرائع ہیں اور ابھی تک لوگ اس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ ہمارا موضوع بھی یہی ایندھن تھا اب اس ایندھن کو پورا کرنے کے لئے ان خوبصورت جنگلوں کا کیا حال بنا ہے وہ ایک الگ کہانی ہے جس کا ذکر آگے جاکر آئیگا ۔۔مجھے یاد پڑتا ہے جب میں سکول میں تھا تو میں گلگت بازار میں لکڑی سے لدھے گدھوں کو اکثر دیکھا کرتا تھا اور جو لوگ اس کام سے منسلک تھے انہیں شینا زبان میں  جُکوٹھیکیدار(لکڑی کے ٹھکیدار) کہا جاتا تھا ۔یہ ستر کی دھائی کی بات ہے۔اور آج اللہ کا کتنا کرم ہے کہ لوگ کھاتے پیتے کہلاتے ہیں ۔یہ اللہ کی دین ہے جسے چاہئے چھپر پھاڑ کے دے۔چلتے چلتے فیروز نے ایک اور بات بھی بتائی کہ اس راستے میں( راستہ کیا ہے پل صراط کہا جائے تو مناسب ہوگا )اور اسی پل صراط میں ہزاروں گدھوں نے انسانی خدمت بجا لاتے ہوئے اپنی جانوں کو اسی انسان پہ نچھاور کیا جو اپنے آپ کو اشراف المخلوقات کہلاتا ہے لیکن کام ایسے کرتا ہے گدھے بھی اس سے دور رہنے لگے ہیں وہ اس لئے کہ اب یہ انسان خود ایک دوسرے کو گدھا کہتے ہیں ایسے میں ان گدھوں نے سوچا ہوگا کہ اب یہ خود گدھے ہیں تو ہماری کیا ضرورت ہے ۔۔باتوں باتوں میں وہ پل صراط بھی آہی گئی جہاں ہزاروں گدھے لقمہ گھاٹی بن گئے تھے۔اس جگہ کا نام دم دروش پچ ہے ۔یہاں پہنچے تو تھوڑا سا خوف طاری ہوا ۔ایک تو پگڈنڈی تنگ اور دوسری ہزاروں فٹ نیچے تنگ گھاٹی ۔اف میرے خدا کیسے ان گدھوں کو لکڑی سمیت کراس کیا جاتا تھا ۔اب تو ماشااللہ یہ تنگ پگڈنڈی کچھ بہتر بھی ہے بحر الحال ہم نے یہ پگڈنڈی پار کرلی یہ تقریباً تین سو سے چار سو میٹر پر مشتمل ہے اگر حکومت اس حصے کو تھوڑا چوڑا کرے تو لوگوں اور چوپایوں کے لئے گزرنے میں آسانی ہو اور راستہ بنانا خلق خدا کے لئے بڑا ثواب کا کام بھی ہے

اب جو آگے منزل آنے والی تھی اسے یہاں کے لوگ ٹیمر کے نام سے جانتے ہیں ،یہ گلگت اور ہلتر کے درمیاں واحد گائوں ہے جہاں گجرات لوگ جنگل میں منگل ڈالے ہوئے ہیں ۔جب ہم یہاں پہنچے تو پتہ چلا کہ اتنے کم فاصلے پر بھی موسموں کا اتنا تغیر گلگت میں درختوں کی کونپلیوں سے ثمرات نمودار ہو رہے تھے اور ٹیمر میں کونپلیں ابھی پھوٹ رہی تھیں یہ انیس بیس کا فرق نہیں تھا بلکہ یوں کہیں کہ گلگت میں اپریل اور یہاں فروری اسی سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے  ہیں کہ بالائی علاقوں میں موسموں کے تیور کس قسم کے ہوتے ہیں اس لئے تو سیانے کہہ گئے ہیں کہ سفر کے دوران اپنا کھانا اور لباس اس نیت سے کبھی نہ چھوڑیں کہ بس اب ان کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ٹیمرکی یہ عارضی آبادی بھی اکتوبر کے آخر تک اس گائوں کو رونق بخشتی ہے اس کے بعد پھر اگلے مارچ تک یہ ایک ویرانے میں تبدیل ہوتا ہے ۔ٹیمر میں ہم نے گلیئشیر کے ٹھنڈے پانی سے اپنے آپ کو سیراب کیا ایک عجب مٹھاس کا احساس ہوا۔پانی حلق سے انڈلتے ہوئے جب اس پانی کو گائوں تک پہنچانے کا انداز دیکھا تو ذہن میں جوئے شریں کا منظر بھی گھوم آیا۔جی ہاں فرہاد جو شیرین کا عاشق تھا اور خسرو پرویزرقیب پہاڑ سے نہر کھودنے چلا تھا لیکن شرین کی موت کی جھوٹی خبر سن کر تیشے سے سر مار کر مرگیا تھا۔۔۔لیکن یہاں جن فرہادوں نے اس نہر کو ان پہاڑوں سے نکالی ہے انہیں اپنی زمینوں سے عشق تھا اور انہوں نے تیشہ اپنے سر پر نہیں بلکہ ان چٹانوں پر برسائے اور اپنی زمینوں کی آبیاری کرنے میں کامیاب ہوئے یہاں تو بس یہ تشبیہ صرف ان جانبازوں کی کوہ کنی کے زمرے میں آئی ہے۔ اس جوئے فرہادکے پاس تھوڑا سستانے کے بعد ہلتر کی جانب چل پڑے۔

چاروں طرف قدرت چھلک رہی ہو اور قدرت کے ان حسین نظاروں کے بیج چائے کی ایک دیگچی چڑھی ہو اور چائے کا جوش اور اسے بنانے والا اور دور پہاڑوں میں چروہا اپنے ریوڑ کے ساتھ سیٹیاں نکالتا ہوا کیسا منظر ہوگا۔یہ تو وہی جان سکتا ہے جو ان راہوں کا مسافر ہوتا ہے اور خوش قسمتی سے آج ہم بھی ایسے راہی بن گئے تھے اور حقیقت میں ایسے ہی منظر سے لطف اٹھا رہے تھے۔جو شاہد ہمیں خواب میں بھی نہ ملتے۔چائے جوش آچکی تھی اور ہمارا ساتھی چائے کو پیش کرنے کے لئے اسے پیالوں میں انڈیل رہا تھا۔ اور میں دور پہاڑوں کو ٹکٹکی باندھے قدرت کے شہکار اور کاریگری پہ دم بخود نہ جانے کس اور چلا گیا اور ساتھی کی آواز پہ چونکا تو میرے سامنے چائے تھی۔۔۔چائے نوش کرتے ہوئے گپ شپ کا اپنا ایک الگ مزا ہوتا ہے۔تاج میر مجھے بتا رہا تھا کہ گرمیوں کے موسم میں غالی (یہ شینا لفظ ہے جس کو تین مختلف زمروں میں استعمال کیا جاتا ہے ۔۔ایک تو یہ درہ کے لئے دوسرا راستے اور تیسرا چوٹی کے لئے ) ہلتر غالی کی  بات ہو رہی  تھی اس غالی کو صرف جولائی اور اگست کے مہنے میں مخصوص جگہوں سے کراس کیا جا سکتا ہے ۔ باقی سارا سال یہ برف سے ڈھکی رہتی ہے۔اس غالی سے متعلق یہ بتا دوں کہ اس کے دائیں طرف سے جب آپ سفر کرینگے تو شکیوٹ اور شروٹ کی چراگاہیں زوڑمن۔ کاں دار سے ہوتے ہوئے شروٹ شکیوٹ تک رسائی پا سکتے ہیں جبکہ اس کے بائیں راستے سے غالی کراس کرتے ہوئے آپ کارگاہ کی حسین اور دلفریب وادی لنگ اور جُت کے حُسن کا دیدار کر سکتے ہیں ۔لیکن اس کے لئے آپ کو دودھ پینے والا مجنون نہیں خون دینے والا مجنون بننا پڑیگا۔۔میرا مطلب یہ ہے کہ یہ حسین نظارے مہم جوئی ہی سے دیکھے جا سکتے ہیں ۔ہماری مہم جوئی بھی ہلتر تک ہی کی تھی اور اسی مہم جوئی میں ہم ہلتر غالی کے درمیانی حصے تک ہو آئے اور اپنی زندگی کے حسین یادوں کے باب میں ہلتر کا عنوان کا اضافہ کر دیا۔

چائے نوش  ہوچکی تھی   تازگی لوٹ آئی تو دل نے چاہا کہ ذرا    قدرت  کی بیش بہا دولت جنگلات  کو بھی ایک نظر دیکھا جائے اس خیال سے ہم لوگ اٹھ کھڑے ہوگئے اور اس جنگل کی خوبصورتی کے  ذرائع برف گلیشئر اور درختوں کے جھنڈ  کی راہ لی ۔ٹھنڈی ہوا اور قطار در قطار درخت  کے نیچے   ہماری ٹہل قدمی میرے اندر کے وجود کو ایک فرحت  بخشنے کے ساتھ  ساتھ اس خالق حقیقی سے  جوڑ کا باعث بھی بن رہی  تھی اور ایک روحانی مسرت  پہنچا رہی تھی  جو  الفاظ میں بیان  کرنے سے قاصر ہوں۔۔سوچ رہا تھا  میں  تو روز خالق سے ملتا ہوں  لیکن  میں  نے تو کبھی دھیان   دیا ہی نہیں اور احساس ہورہا تھا کہ ہم  کتنے نادان ہیں ۔  خداروز ہمیں  اپنے ساتھ بٹھا نا چاہتا ہے لیکن ایک ہم ہیں  کہ اپنا دامن اللہ سے  چھڑا کراس بے ثبات دنیا کی رنگینیوں  میں کھو جاتے ہیں اور خالق  کی بنائی ہوئی مخلوق سے آس لگائے بیٹھے ہیں ۔  ۔میرے سامنے پہاڑوں میں جمی ہوئی  نہ جانے کتنے ٹنوں پڑی ہوئی برف  کون شمار کر سکتا ہے اور اس سے رستہ ہوا پانی اور   تازہ ہوا پھر جنگل ایسے میں  اللہ کا فرمان بھی ذہن مں  گردش کرنے لگا  بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اورتمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا اور پھر اُس کے ذریعے وہ خو شنما باغ اُگائے جس کے درختوں کو اُگانا تمہارے بس میں نہیں ۔ (سورہ نمل آیت  نمبر ۶۵)  ایسے میں  کون کافر یہ نہ کہے واہ رےتیری قدرت میرے رسول  نے بھی تو  درخت  کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے۔۔۔۔لیکن افسوس اس بات کا   تھا کہ  ہلتر میں   جنگل جتنا   پہلے موجود تھا اب وہ   برائے نام جنگل ہے ۔ایک وقت تھا  کہ   جنگل سے گزرتے  ہوئے آسمان   نظروں سے اوجھل رہتا تھا اور اب  ان درختوں  کے جھنڈ میں   بڑے فاصلےپیدا ہوئےہیں  ۔۔مجھے یوں لگا کہ  جس طرح شہروں میں   لوگ دہشت گردی سے  خوف زدہ  ہیں  اسی طرح جنگل کی دنیا کے  کے رکھوالے درخت   جو سیلاب کی روک تھام اور  موسموں کی تبد یلی اور آکسیجن  مہیا  کرنے کے ضامن ہیں  حضرت انسان کی جنگلات کٹائو دہشت گردی کا شکارہیں  ۔میں نے بہت سارے درخت ایسے دیکھے   جو انسانوں کے ستم کا نشانہ بنے  تھے اوران کے جسموں میں بڑے بڑے  زخم  کم از کم میرے  لئے ناقابل برداشت   تھے۔۔میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا  کیوں بھائی   یہاں  محکمہ جنگلات کا  عمل داخل نہیں ہے جو ان بے چارے درختوں کی  یہ حالت ہوگئی ہے  کم از کم ان کی حفاظت کا بندوبست تو ہونا چاہئے۔۔۔اس نے جو کہانی سنائی   وہ کچھ اس طرح سے تھی ۔ہوتا یہ ہے کہ  کچھ لوگ  پہلے درختوں کو زخمی میرا مطلب ہے  کہ درختوں  کے تنوں کو روز تھوڑا تھوڑا کاٹتے ہیں  تاکہ یہ  درخت  ناکارہ ہو جائیں ۔ جب یہ سر سبز  درخت ان زخموں کی تاب  نہ لاتے ہوئے  آہیستہ آہیستہ  اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بٹھتے ہیں  یعنی  سوکھ جاتے ہیں تو ایندھن کی ضرورت کے لئے ان درختوں کو  مکمل طور پر اپنی جگہ سے اٹھایا جاتا ہے۔جہاں میں  قدرت کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا وہاں دل میں    ملال  لئے  اپنے حکمرانوں  کی کار کردگی اور بے حسی پر   ماتم بھی کر رہا تھا۔۔کہ لاکھوں اور کروڑوں روپوں کے منصوبے  کدھر گئے  اور ہر سال شجر کاری کے نام پہ فنڈز بٹورنے والوں نے کیا  گلگت بلتستان کے  جنگلوں کی حالت زار دیکھی ہے۔   کسی بھی ملک کے لئے ضروری ہے کہ ان کے جنگلات  کا رقبہ کم از کم پچیس فیصد   ہونا چاہئے  لیکن بدقسمتی دیکھئے کہ پاکستان میں  جنگلات کا کل رقبہ پانچ فیصد ہے  اس حساب سے  اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گلگت بلتستان میں جنگلات کا کل رقبہ کی کیا  صورت حال ہوسکتی ہے  ۔اب اگر میں ان جنگلات کی بے دردی  اور بے دریغ  کٹائی اور اس میں  ملوث لکڑی جنگلات مافیا   کا تذکرہ لے کے بیٹھو ں تو نہ جانے کتنے اور قرطاس کی ضرورت پڑے گی ۔میں نے اپنے ساتھی سےپوچھا کہ کیا محکمہ جنگلات کے ذمہ دار یہاں آتے ہیں   تو اس کا  جواب نفی میں  تھا جو کہ ایک المیہ  ہے۔ پاکستان بننے کے بعد سے  ان جنگلات کی بے دریغ کٹائی جاری ہے اور  اس کے مقابلے آج تک ان جنگلوں میں  کوئی درخت لگائو مہم کم از کم میں نے نہں دیکھی ۔البتہ شہروں میں   فوٹو سیشن ، تجوری اور جیب بھرو مہم کے تحت  ہر سال شجر کاری مہم   چلائی جاتی ہے   اس کے نتائج بھی عوام کے سامنے ہیں ۔سورج پہاڑوں کی اوٹ میں ہوا تھا اور ہم نے سوچا کہ اب  واپسی کا سفر شروع کیا جائے

ہلتر سے واپسی ہینزل کے راستے طے کرتے ہوئے جب بر بوچ چشمے کے قریب پہنچے تو چشمے کے منبع کو دیکھا اور قدرت کے کرشموں کا جیتے جاگتے نظارہ کیا۔ہزاروں فٹ بلندی پر نظر پڑی جہاں پہاڑ برف کی چادر تانے کھڑے اور اس سے نیچے ہزاروں فٹ سنگلاخ پہاڑ لیکن قدرت اتنی مہربان کہ اپنی مخلوق کے لئے ان سنگلاخ پہاڑوں کے نیچے سے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے انسانوں اور زمینوں کو سیراب کرنے کے لئے مہیا کر رہی ہے ۔سبحان اللہ ۔ پیاس کی شدت تھی میں چشمے کے قریب ایک پتھر کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھ گیا اورساتھ ہی گہرے پانی میں اتر گیا۔ اور پانی پلانے کے ثواب کی اہمیت کا اندازہ اور احساس بھی ہوا۔پانی پلانا ثواب کا کام ہے اور پیاسے کو پانی پلانا اور بھی زیادہ ثواب کا کام ہے آنحضرتؐ کو اسی لئے ساقی کوثر کہا جاتا ہے۔اسی سوچ کے ساتھ میں اندر سے پانی پانی تھا کہ ایک ہم نا شکرے کہ اپنے اللہ کی نعمتوں کو استعمال بھی کرتے ہیں اور اس کا شکر ادا کرنے کے بجائے نافرمانی میں لگے ہوئے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسی ایسی نعمتوں سے نوازا ہے جس کا شمار ممکن نہیں ۔۔ پانی ہوا روشنی اور درخت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں  ہیں  ۔ ایک لمحے کیلئے سوچئے۔۔ اگر دنیا میں  یہ چیزیں نہ ہوں تو  اس دنیا کی کیا حثیت باقی رہتی ہے۔

واپسی کے سفر میں  بربوچ چشمے  سے ذرا آگے شام کے دھند لکے پھیلنے لگے  کچھ چرواہے بھی اپنے ریوڑ کے ساتھ ہمارے ساتھ آملے  اور ریوڑ کے ساتھ ساتھ  ہم جب سفر کر رہے تھے۔ چرواہے ریوڑ کے لیئے اپنے منہ سے مخصوس سیٹیاں اور آوازیں لگاتے تھے  جن سے ہم بڑے محظوظ ہو رہے تھے  اور یوں ہم گلگت شندور روڈ ہینزل کے مقام میں پہنچ کرایک بار پھر چائے کے ساتھ شغل کر رہے تھے ۔۔تھوڑی دیرکا آرام تھا  پھر اس کے بعد  ہم گاڑی میں سوار تھے اور  ہلتر کی حسین وادی کے حسین یادوں کے ساتھ   اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔