المرکزالاسلامی للبنات گلگت میں تقریب ختم بخاری وخماربندی

المرکزالاسلامی للبنات گلگت میں تقریب ختم بخاری وخماربندی

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Qazi pic for mailگلگت(خصوصی نامہ نگار) المرکزالاسلامی للبنات گلگت میں تقریب ختم بخاری ،خماربندی سے خطاب کرتے ہوئے قاضی نثاراحمد( چانسلر جامعہ نصرۃ الاسلام) نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے دین کے ساتھ آخرت کی فلاح وابستہ رکھی ہے۔ دنیا کی ساتھ آخرت کی فلاح کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی ہے تاہم اللہ دنیا کے ساتھ آخرت میں بھی کامیاب کرنا چاہیے تو اللہ کی مرضی ہے۔ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ جو بچہ کیڈٹ کالج اور پبلک سکول سے ناکارہ ہوتا ہے یا وہاں نہیں چل سکتا ہے اس بچے کو مدرسے میں داخل کیا جاتا ہے تاکہ دین سیکھ لیں۔ یہ سراسر دین کے ساتھ زیادتی ہے۔ ہمیں سب سے اعلیٰ اور مقدس علم کے حصول کے لیے قابل اور ذہین بچوں کو مدرسے میں داخل کرنا ہوگا۔ ورنہ ہمارا معاشرہ دینی اعتبار سے برباد ہوکر رہ جائے گا۔قاضی نثار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم گلگت کے الیکشن میں ہمیشہ غیر جانبدار رہے ہیں۔ تاہم میری گزارش ہوگی کہ عوام الناس ذاتی رنجشوں کو بھلا کر ایسے امیدواروں کو کامیاب بنوائے جو دین دنیا دونوں کے لیے مفید ہوں اور مقتدر اداروں میں پہنچ کر ملی وعلاقائی مفادات کا تحفظ کرسکیں۔ذاتی مفادات کو اجتماعی مفادات پر قربان کرنا چاہیے۔۔ انہوں نے اپنے اختتامی درس ختم بخاری میں فاضل طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح امام بخاری رحمہ اللہ نے بخاری شریف کو لکھنے میں طہارت و تقویٰ اور اخلاص کا مظاہرہ کیا اور اس کا حق ادا کیا ہے اس طرح تمام درس نظامی (دورہ حدیث) سے فارغ ہونے والی فاضلات بھی اخلاص و طہارت سے حدیث اور قرآن کی تعلیم وخدمت کو کو جاری رکھیں۔ہمارے اکابر نے بنات کے مدارس ضرورت کی وجہ سے قائم کیے ہیں۔ پردے کا سخت اہتمام کریں اور جہاں جہاں جائیں درس کا اہتمام کریں اور اپنے والدین کی خدمت کریں۔عورت گھر کے نظام کے لیے انسانیت کی روح ہے۔ اسلام نے عورت کو سب سے بڑا مقام دیا ہے۔ماں کے پاؤں تلے جنت بتایا ہے اور مغرب بوڑھی ماں کو اولڈ ہاوس میں داخل کرتے ہیں۔ بہن بیٹی اور بیوی کو اسلام نے حیا، عزت اور رحمت کا درجہ دیا جبکہ جدید دنیا نے اسے ویٹر، ائیر ہوسٹس اور کمپنی اور دفتر کے استقبالیہ میں شوپیس بنا رکھا ہے اور ساتھ سمجھتے ہیں کہ ہم نے عورت کو مقام دیا۔ سچ یہ ہے کہ یہ مقام نہیں بلکہ عورت کی عصمت اور اس کے مقام کے ساتھ مزاق ہے۔عورت کا اس کا اصل مقام ملنا چاہیے وہ یہ ہے کہ وہ گھر کی ملکہ ہے۔قاضی نثاراحمد نے درس بخاری کے دوران علماء کرام کو مخاطب کرتے ہوئے کہ کہا احقاق حق اور ابطال باطل کے لیے ہمیشہ تیار رہو۔

ارباب بست و کشاد سے بھی کہا کہ مدارس اسلامیہ کے طلبہ و طالبات اور علماء ہر گزحکومت مخالف نہیں اور نہ ہی کبھی ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دینی مدارس و علماء کرام کو بدنام کرنا سراسر زیادتی اور ناانصافی ہے۔ہم نے ہر دور میں ریاست پاکستان اور افواج پاکستان کی نہ صرف قدر کی ہے بلکہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے بھی ہوئے ہیں باوجویکہ اس کے ہماری قربانیوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ المرکزالاسلامی کے ترجمان مولانا عبدالجبار نے کہا کہ اس سال دو طالبات نے درس نظامی (ایم اے اسلامیات وعربی) کا کورس مکمل کی ہیں ان کی خمار بندی ہورہی ہے۔ ائندہ ہفتے المرکز اسلامی کی تمام طالبات وفاق المدارس العربیہ کی سالانہ امتحان میں شریک ہونگی۔اس سال بیالیس طالبات وفاق کے امتحان میں شریک ہونگی۔

المرکز الاسلامی کے مدیر مولانا محمدرفیع نے آخر میں تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ تقریب ختم بخاری کی اس مجلس میں مفتی لطف الرحمان ، مولانا قاضی قربان، شیخ الحدیث مولانا خلیل الرحمان داریلی، قاری حبیب اللہ، مولانا جعفر طیار(خطیب) مفتی اویس(خطیب)مولانا قاسم (اما م خطیب)مولا نا حبیب اللہ مسؤل وفاق المدارس العربیہ اور معروف کالم نویس پروفیسر امیرجان حقانی نے خصوصی شرکت کی۔قاری دلدار نے نعت نبی اور حمد باری تعالیٰ ’’متاع دل بہار ۔لاالہ الااللہ ج‘‘ جیسے حمدسے محفل کو گرمایا۔

دریں اثنا کلمہ چوک کشروٹ میں خطبہ جمعہ کے دوران مجلس ختم قرآن کے ایک بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے قاضی نثار نے یہ بھی کہا کہ آج امت مسائل اور پریشانیوں کا شکار ہے اس کی وجہ قرآن اور قرآن تعلیمات سے دوری ہے۔ آپس میں ناچاکی ہے۔ امن معاہدہ اور ضابطہ اخلاق سے بغاوت کرکے واضح طور پر اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی اور انتظامیہ بھی خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ امن معاہدے اور ضابطہ اخلاق اس لیے بنتے ہیں کہ ان پر سختی سے عمل کروایا جائے مگر ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ حکومت ان لوگوں کو تحفظ دینے میں لگی ہوئی ہے جو امن معاہدہ اور ضابطہ اخلاق اور نیشنل ایکشن پلان کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ان کو کیفرکردار تک پہنچانے کے بجائے انہیں پولیس سیکورٹی دی جاتی ہے اور پروٹوکول سے نوازا جاتا ہے۔ اس سے علاقے میں امن کے بجائے بدآمنی پھیل جاتے ہیں۔ حساس اداروں اور انتظامیہ کو اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔