شہر نا پرسان ….. چترال کے سیاسی افق پر سلیم خان کی بے مثا ل شخصیت

شہر نا پرسان ….. چترال کے سیاسی افق پر سلیم خان کی بے مثا ل شخصیت

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

Salim Khan 3بلند قامت ،خوبصورت چہرہ ،سمارٹ پرسنیلیٹی، خوش گفتار، بااخلاق، با مروت، انتہائی ملنسار، آدم شناس، محب وطن اور انسان دوست شخصیت ،بلند پایہ سیاست دان۔اللہ تعالی نے انہیں بہت جلد سیاست میں اعلی مقام عطا فرمایا ہے ۔ سیاسی وفاداری ،پارٹی سے بے پناہ محبت اور پر خلوص جدوجہد نے انہیں سیاست میں بام عروج تک پہنچادیاہے ۔ چترال کی سر زمین سے تعلق رکھنے والا اور یہاں پل کر جوان ہونے والا وہ واحدسیاست دان ہیں جنہوں نے انتہائی قلیل عرصے میں اپنے اخلاق کے بل بوتے پر سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کی اوراپنے حلقے بلکہ پورے چترال میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا کر عوام کو ایسا فریفتہ بنا دیا کہ شاید کوئی اس جنم بھومی میں اپنے رعایہ کے لئے مثبت سوچ اور خیر خواہی کا جذبہ رکھتاہوگا۔ فہم وفراست او رانسان شناسی میں ان کا کوئی ثانی نہیں ۔ہر وقت عوام کی خدمت کے لئے مستعداور تیاررہتے ہیں ۔ انسانیت کے احترام کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں ۔ان کے دروازے پر ہر وقت سائلین کا تانتا باندھا رہتا ہے جو ان سے محبت کرتے ہیں۔ ایک کامیاب Political worker ہونے کے ناطے ملاقات کیلئے آئے ہوئے ہر آدمی کا انفرادی طور پر استقبال کرنا اور خوش اخلاقی سے پیش آنا اورتواضع و انکساری سے رخصت کرنا شاید کبھی کسی کو میسر ہوا ہوگا،لیکن ان تمام اوصاف سے متصف وہ ایسے انسان ہیں جنہوں نے نا صرف اپنے چاہنے والا کا دل جیتا بلکہ انہیں ہمیشہ کے لئے اپنا دیوانہ بھی بنا لیا ۔ایسی شخصیت کا تقابل اس دھرتی کے کسی بھی سیاسی لیڈرسے نہیں کیا جا سکتا جس نے بھی سیاست میں قدم رکھا ہواور اپنے اخلاق سے فتح و کامیابی حاصل کی ہو ۔سیاست کی خار دار جھاڑیوں میں اپنے لئے مستقبل کا مضبوط قلعہ بنانا اسی کا ہی وطیرہ رہا ہے ۔ انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ سیاست جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی ، تکبر و غرور کا نام نہیں ،بلکہ عوام کی سچی خدمت کا نام ہے ۔مخلوق کی خدمت میں انسان اپنے آپ کو وہ مقام دلا سکتاہے جس کو لوگ بے شمار رقم خرچ کرکے بھی نہیں پاتے۔ ایک غریب کا دل جیتنا اور ان کی دعائیں لینا تخت و تاج سے ہزار گنا بہتر ہے جس میں اللہ تعالی دولت او رعزت دونوں عطا فرماتے ہیں۔ 

شاید یہ شعر کسی نے ان کے لئے کہا ہے ،

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر

وہ شخصیت کوئی اور نہیں …… چترال ون سے دوسری مرتبہ کامیابی و کامرانی سے ہم کنار ایم پی اے سلیم خان ہیں 

محترم سلیم خان سے میری پہلی ملاقات جون 2011 ء میں اس وقت ہوئی جب وہ صوبائی وزیر برائے بہبود آبادی تھے۔ میں نے ٹیلی فون کرکے انٹر ویو کے لئے وقت مقرر کیا ۔اس وقت ان کی مصروفیات بھی زیادہ تھیں ۔ وقت مقررہ پر میں اپنی ٹیم کے ہمراہ جب سول سیکریٹریٹ منسٹر آفس پہنچا تو اس وقت دوسری طرف اسمبلی کا اجلاس بھی جاری تھا ۔میں نے فون پر اپنے آنے کی اطلاع دی تو موصوف اسمبلی کا اجلاس مختصر کرکے آفس تشریف لائے۔خود استقبال کیا انٹر ویو دو گھنٹے تک جاری رہا ،بڑے بڑے کڑوے اور اہم سوالوں کا تحمل سے جواب دیا۔ بڑے خندہ پیشانی سے پیش آیا ۔اس دوران میں نے مشاہدہ کیا کہ ملاقاتیوں سے ویٹنگ روم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اورمنسٹرز کے فون آتے رہے ،بڑے خوش اخلاقی اور نرم مزاجی سے تمام حضرات سے بات کی ۔میرے ساتھ میرے محترم دوست نوائے چترال گروپ کے روح رواں شاہد مشہود او راسد اللہ حیدر بھی موجود تھے ۔انٹر ویو کے اختتام پر بڑی مصروفیت کے باوجود سیکریٹریٹ کے میں گیٹ پر ہمیں الوداع کہا ۔صحافی ایک نقاد کی حیثیت رکھتا ہے معاشرے کے مسائل کے حل کے لئے ہر قسم کے سوالا ت اٹھاتاہے ان تمام تر صحافتی اصولوں کے باؤجود بھی ہم موصوف کے اخلاق وا عادات ،فہم وفراست اور انسان دوستی کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے۔اپنے چار سال کے طویل مشاہدے و تجربے کے بعد آج مجھے قلم اٹھانا پڑا ۔

حالیہ دنوں موصوف سے ہماری دوسری ملاقات بھی ایک انٹر ویو کی صورت میں ہوئی۔ موصوف سے ٹیلی فونک ٹائم طے کیا ۔موصوف نے ہمیں بڑے احترام سے آنے کی دعوت دی۔مقررہ وقت پر ہم جب ایم پی اے ہاسٹل پہنچے تو چھٹی کادن تھا، موصو ف اک اک لمحہ ہم سے رابطہ میں رہے بار بار ہمیں اپنے آنے کی اطلاع دیتے رہے او ربڑی ضروری میٹنگ ملتوی کرکے نوائے چترال ڈاٹ کام کو انٹرویودینے آفس پہنچ گئے ۔،باہر آکرخود استقبال کیا، ڈیڑھ گھنٹہ کے طویل انٹریو کے دوران مختلف ایشوز پر بات ہوئی خاص کر میں نے موصوف سے چترال کے چند معروف سیاسی لیڈروں کی سیاسی اور پرسنل لائف پرنام لے کر تبصرہ کرنے کی خواہش کی۔ جس پر موصوف نے اپنے ان سیاسی حریفوں جس کی زبان سے ان کے بارے میں ایک لفظ بھی اچھائی کا نہیں نکلتا ، بڑے تحمل سے ان کی تعریف کی ،ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ تمام قارئیں یہ انٹرویو نوائے چترال ڈاٹ کام اورسوشل میڈیا پر دیکھ سکتے ہیں۔ملاقات کے بعد اپنی گاڑی میں ہمیں بڑی محبت، عاجزی، انکساری سے رخصت کیا ۔قابل غور بات یہ ہے کہ ان دو انٹرویوز کے دوران غالباچار سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ہم نے ان کی شخصیت میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں دیکھی وہی اخلاق ، وہی سیرت ،وہی کردار آج بھی نظر آتاہے۔ ایسے قابل نوجوان ،ایوانوں کے چھپے رازوں سے آشنا ، صاحب فہم و فراست قیادت چترال کی فخر ہے چترال کے دیگر نو عزت یافتہ لیڈر سے بھی ہماری گزارش ہوگی کہ ایسے صاحب فہم افراد سے سیاست اور قیادت سیکھے، ورنہ وطن عزیز کی ترقی کی راہ میں اپنی خوش قسمتی کی وجہ سے رکاوٹ نہ بنے ۔نئے تجربات کی بجائے تجربہ کاروں سے مشور ہ ضرور کریں اگرچہ اس شہر ناپرسان میں شریف انسان کی قدرو قیمت کم ،جہلا ء کی قیمت زیادہ ہے ،لیکن اللہ کی ترازو ہر وقت انصاف ہی تولتا ہے فتح ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے چترال کی سرزمیں پرایسے شریف انسان ضرور رہتے ہیں جن کی قدروقیمت بھی کسی سے کم نہیں ،پر میں سوچتا گیا اور چلتا گیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔