ہمیں کیسا سیاسی لیڈر چاہیے ؟؟؟

ہمیں کیسا سیاسی لیڈر چاہیے ؟؟؟

28 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ایک ایسا معاشرہ جہاں ظلم و بربریت عام ہو، جہاں فرقہ واریت کا زہر انسانیت کی رگ و پے میں سریت کر  چکی ہو، جہاں انصاف طاقت کے بل بوتے پر ملے، جہاں دہشت گردی حکومت کی سر پرستی میں یا پھر آنکھوں کے عین نیچے ہورہی ہو، جہاں غریب سہمے اور خوف سے لرز جاتے ہوں ،جہاں نوکریاں مسلک ، علاقے، اور سیاسی تناظر میں ملتے ہوں  جہاں انسان وحشی درندے بنے ہو،  ایک ایسے علاقے میں آپ کو کیسا لیڈر چاہیے ؟؟

ایسا بہارد لیڈر جو اس ظلم و جبر کی خوف ناک  طوفان  سے ٹکرائے جس نے سارا معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لی ہے ۔۔ ۔۔ یا ایسا دور اندیش لیڈر جو ان حالات کامقابلہ نرمی اور دانشمندی سے کرے، یا ایسا لیڈر جو خود غرض ، دھوکے باز اور نادیدہ قوتوں کا کھٹ پتلی ہو ؟؟؟ یا پھر ایک ایسا لیڈر جس کا مقصد صرف اپنی تجوریاں بھرنا ہو؟؟ یا ایسا لیڈر جو شہرت کا بھوکا ہو ؟؟

ایم ایم قیزل

ایم ایم قیزل

 ذرا سوچیے کہ معاشرے کے ان مایوس کن حالات میں آپ اپنی ووٹ کی طاقت سے کیسے لیڈر کو آگے لانا چاہتنے ہیں؟ بتائے کہ ووٹ کسے دیا جائَے ۔ کیا ووٹ نظریاتی بنیاد پر دی جائے ، یا لسانی، علاقائی یا نسلی بنیاد پر دی جائے یا پھر اپنے  “عزیزوں” کو دی جاِئے ؟؟؟ بتائے کہ آپ کے ووٹ کا صیح حقدار کون ہے؟ آخر ووٹ کسے دیا جائَے ؟؟

عصر حاضر کا ہم سے کیا تقاضا ہے ؟ ہمیں کیسا معاشرہ چاہتے ہیں ؟ ہمیں کیسا ماحول چاہیے ؟ کیا ہم دوسروں پر فوقیت نہیں بلکہ ہم برابری چاہیتے ہیں ؟؟ کیا ہمیں سوچ و فکر، طرز زندگی، ثقافت ونمدن ، بول چال ،رہن سہن وغیرہ میں گونا گونی چاہیے نہ کہ انتہا پسندی ؟؟؟ کیا ہم ذات برادری، پیری فقیری وغیرہ وغیرہ سے نکنا چاہتے ہیں ؟؟ کیا ہم معاشرے کے ہر طبقے میں ہم آہنگی چاہتے ہیں ؟ کیا ہم جدید زمانے سے ہم آہنگ ہونا چاہتے ہیں ؟؟ کیا ہم دنیا کے آزاد اور ترقی یافتہ معاشرے کے صف میں کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔؟؟

اگر ہاں تو یہ سب ایک مخلص ، دیانت دار، صالح اور عقل و فہم سے آراستہ لیڈر ہی کی بدولت ممکن ہے جسے آپ اپنی قیمتی ووٹ کے ذریعے اپنا حمکران چنتے ہیں۔ یہ سب وہ سولات ہیں جن کے تناظر میں آپ کو ایک سیاسی رہنما کا انتخاب کرنا ہے۔ ہمیں جذبات سے نہیں بلکہ دانشمندی سے فیصیلہ کرنا ہے ۔ ہمیں اپنی کمزریوں  کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہے، ہمِیں اپنی ذات، انا، خاندان، مذہب ، علاقہ ، زبان،سیاسی وابستگی ، نظریات وغیرہ کو بالائے طاق  رکھ کر فیصلہ کرنا ہے  ہمیں کم از کم  آنے والے دس بیس سالوں کومد نظر رکھ کے فیلصہ کرنا ہے ،ہمیں ہوش سے کام کرنے کی ضرورت ہے،ہمیں اتحاد باہمی اور احترام باہمی کو ملحوظ رکہ کر مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے۔

  ہماری بے بسی کا مذاق  اڑایا جاتا ہے، ہماری بے حسی پر اغیار  ہنستے ہیں۔ کھبی ہمیں بزدل  گردان کر فساد پر اکستاتے ہیں تو کبھِی ہمیں قتل کر کے غدار شمار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔کبھی ہمارے عقائد میں دراڈیں اور شکوک و شہبات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی انہی عقائد کو مسلمہ جان کر اسکی دفاع کے لئے مذہبی غنڈے تیار کرتے ہیں۔

یوں نت نیے انداز میں ہمیں آپس میں لڑائَے اور الجھائے رکھتے ہیں۔ ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے ۔ہمیں اپنے آپ سے ، اپنی دھرتی،سے ، اور اپنے لوگوں سے مخلص ہونے کی ضرورت ہے ۔ اجتماعی استحکام، یگانگت، یکجہتی اور ترقی کیلئے ہمیں تمام انفرادی مفادات کو قوم اور ملی مفادات کے تحت لانے کی ضرورت ہے ۔ہمیں علاقائی، ذاتی اور نسلی تعصبات اور نفرتوں کو خیرباد کرنے کی ضرورت ہے اور ہم تب ہی ایک حقیقی ، باکرادا، صالح، دلیر، دانشمند، کھرا ، نڈر اورسچا لیڈر منتخب کر سکیں گے۔   تب ہی ہم ایک ایسے لیڈر کے انتخاب میں کامیاب ہونگے جو ہماری امنگوں کا ترجمان ہوگا جو ہماری دلوں کی آواز ہوگا ۔۔ ۔

پس ہمیں ایک ایسے لیڈر چاہیے جن کے پاس ان تمام سولات کا عملی اور مثبت جواب موجود ہو، آئیں اپنی انا اور ذات سے بالا تر ہو کر ایسے لیڈر کو منتخب کرے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments