دیامر میں سیاسی تعصب المناک ہے

دیامر میں سیاسی تعصب المناک ہے

25 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اب تک دس الیکشن ہوئے ہیں ۔ ان تمام الیکشن میں موجودہ دیامر سے اکتیس(۳۱) ممبراسمبلی اور ایک اعزازی مشیر منتخب ہوئے ہیں۔ اس میں صرف ملک مسکین اور رحمت خالق یشکن باقی سارے ممبر شین برادری سے منتخب ہوئے ہیں۔

haqqani logo and pictureبلاشبہ ضلع دیامر پاکستان کے135 ضلعوں میں سب سے پسماندہ ضلع ہے۔اس ضلع کی پسماندگی کے عِلل میں دیگر عوامل کے ساتھ یہاں کی سیاسی لیڈر شب کا حد درجہ تعصب پر مبنی رویہ ہے۔گلگت بلتستان کے کسی بھی ضلع سے زیادہ عصبیت ضلع دیامر میں پائی جاتی ہے بلکہ پالی جاتی ہے۔

ضلع دیامر وہ واحد ضلع ہے جہاں سو فیصداہل سنت دیوبندی مکتبہ فکر کے لوگ بستے ہیں۔ مگر انتہائی المناک بات یہ ہے کہ یہاں کے حفاظ و علماء، یہاں کے تبلیغی و مجاہد، یہاں کے سیاسی لیڈر، سماجی ورکر، سرکاری ملازم،مزدور، جدید تعلیم یافتہ حضرات، اور عوام یہاں تک کہ خواتین بھی غالی درجے کی تعصب میں مبتلا ہیں۔اس عصبیت نے ضلع دیامر کے تمام طبقوں کا امیج بری طرح برباد کررکھا ہے۔ یہاں کی برادیوں کے تعصب سے گلگت بلتستان کے دوسرے اضلاع کے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں۔

جب برادریوں کے تعصب کی بات آتی ہے تودیامر کے لوگ مذہب و مسلک اور اسلام تک کو روندھتے ہیں اور وہاں جاگرتے ہیں جہاں صرف اور صرف گندا کیچڑ ہوتا ہے۔اسی برادری تعصب(شین یشکن)کی وجہ سے کئی کئی خاندانیں صفحہء ہستی سے مٹ گئی ہیں۔ کئی دشمنیاں برادری تعصب کی وجہ سے سالوں چلتی رہی ہیں ۔جس میں سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہوئی۔لوگ اپنی عزت اور حیاء تک کی قربانی دیتے ہیں مگربرادری تعصب کو ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔دیامر کی برادریوں نے جو علماء پیدا کیے ہیں بدقسمتی سے ان میں بھی یہ بیماری بوجوہ تمام موجود ہے۔اگر سچ کہوں تو کئی جید علماء تعصب و عصبیت کے سرغنہ ہیں۔افسوس اس بات پر ہے کہ یہ حضرات تو امام اور رہنماء تھے مگر انہوں نے تقویٰ و پرہیز گاری کی بجائے تعصب بالخصوص شین یشکن کی تعصب سے اپنا وقار کھودیا اور اوج ثریا سے قعر مذلت میں گرتے جارہے ہیں۔ یا اسفا علی ذالک

کیا اسلام میں تعصب کی گنجائش ہے؟ آئیے اس سوال پر مختصر بحث کرتے ہیں کہ تعصب کرنے والوں کے لیے خدا رسول کے کتنے سخت احکامات موجود ہیں۔ اور جائزہ لیتے ہیں ان لوگوں کا جو سرتا پا تعصب اور نفرت سے بھرے پڑے ہیں۔تعصب ایک لعنت ہے۔اسی تعصب کی وجہ سے نہ معلوم کتنے حضرات کی عزت خاک میں مل رہی ہے۔تقویٰ وتورع کا بھر م سربازار پھوٹتا ہے۔کتنی مقدس شخصیات نے اس حمام میں اپنے آپ کا ننگا کردیا۔کتنے مقبول لیڈر وں کی فلک بوس سیاست کو تعصب نے کہیں کا نہیں رہنے دیا ۔جمہوریت کے بڑے بڑے علمبردارجھوٹ کے پُتلے نظرآرہے ہیں۔تعصب کے لغوی معنی عصبیت دکھلانا اور دھڑے بندی کرنا کے ہوتے ہیں۔تعصب کا مفہوم یہ ہے کہ اپنی قوم کا ظلم میں ساتھ دینا یعنی ظلم میں قوم کی مدد کرنااورحق ظاہر ہونے کے باوجود قبول نہ کرنے کو تعصب کہا جاتا ہے۔تعصب کی کئی شاخیں ہیں۔ قبیلہ پرستی و ذات برادری(شین یشکن، ڈوم کمین) کی عصبیت، حسب ونسب کی عصبیت،لسانی و وطنی عصبیت اور علاقہ و قوم کی عصبیت، مالداری و غریبی کی عصبیت۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اسلام نے ان تمام عصبیتوں کو سختی سے منع کیا ہے۔مذکورہ تمام تعصبوں سے خطرناک حسب و نسب اور ذات و قبیلہ پرستی کی عصبیت ہے جو ضلع دیامر میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔خود کوعظیم اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کا سلسلہ عام ہے۔اور حسب ونسب اور ذات وقبیلہ پرستی اتنی عام ہے کہ لوگ بزعم خود اونچا سمجھتے ہیں اور دوسروں کو انسانیت کا درجہ دینے پر بھی تیار نہیں ہوتے۔اور خود کواقتدار کا لازمی حقدار سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد واضح ہے کہ ’’یایہا الناس اِنا خلقنکم مِن ذکر وانثی وجعلنکم شعوبا و قباءِل لِتعارفوا اِن اکرمکم عِند اللہِ اتقاکم، اِن اللہ علِیم خبِیر ‘‘ یعنی اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت(آدم وحوا)سے بنایا اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا(محض اس لئے کیا)تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ اللہ تعالی کے نزدیک تم میں سب سے بڑا شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو بلاشبہ اللہ تعالی خوب جاننے والا اور پوری خبر رکھنے والا ہے۔قرآن کریم کی اس آیت نے تعصب کے تمام پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کردیا ہے۔

اسی طرح احادیث نبوی میں بھی ہر قسم کے تعصب سے ممانعت کی گئی ہے۔امام قرطبی نے اپنی معروف تفسیر الجامع الاحکام میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ کہ حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا بن فلانہ کہنے والا کون ہے ؟ثابت نے عرض کیا میں یا رسول اللہ ، حضور صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سب کے چہروں کو دیکھو، ثابت نے موجود تمام صحابہ کے چہروں کو دیکھا ۔حضور صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثابت کیا دیکھا عرض کیا کوئی سفید ہے کوئی سرخ ہے کوئی سیاہ ہے ۔حضور صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو تم ان سے نہیں بڑھ سکتے مگر تقوی کی وجہ سے یعنی تمہارا تقوی اور پرہیزگاری ان سے بڑھ کر ہے تو تمہارا مقام عند اللہ اونچا ہوگا یہ دنیوی اونچ نیچ کی وقعت عند اللہ نہیں ہے۔تفسیر قرطبی میں ایک اور حدیث بھی تعصب کے حوالے سے نقل کی ہے کہ’’عن ابِی نضر قال حدثنِی او حدثنا من شہِد خطب رسولِ اللہِ بمِنی فِی وسطِ ایامِ التشرِیقِ وہو علی بعِیر فقال یایہا الناس اَ لا اِن ربکم واحِد واِن اباکم واحِد،أ لا لا فضل لِعربِی علی عجمِی ولا عجمِیِ علی عربِی ولا لِسود علی احمر ولا لِاحمر علی اسود اِلا بِالتقوی ،ألا ہل بلغت قالوا نعم قال لِیبلِغِ الشاہِد الغاءِب‘‘ یعنی ابونضر کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا جو مقام منی میں ایامِ تشریف کے درمیان میں حضور صل اللہ علیہ وسلم کے خطبوں میں حاضر تھا درانحالیکہ آپ اونٹ پر سوار تھے آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو! خبردار !تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ(آدم)ایک ہے ۔خبردار کسی عربی آدمی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر نہ کسی کالے وسیاہ آدمی کو کسی سرخ پر اور نہ کسی سرخ کو کسی سیاہ آدمی پر کوئی فضیلت ہے ۔ہاں تقوی فضیلت کا مدار ہے پھر آپ نے صحابہ سے مخاطب ہوکر فرمایا کیا میں نے پیغام الہی امت تک پہنچادیا؟ صحابہ نے جواب دیا جی ہاں آپ نے پہنچادیا ۔آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو یہاں موجود ہے وہ اس تک پہنچا دے جو موجود نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعصب کرنے والوں کو امت محمدیہ سے خارج قرار دیا ہے۔آپ ﷺ کا ارشاد ہے ترجمہ حدیث یعنی جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عصبیت کا داعی ہو اور عصبیت کی خاطر قتال وجنگ وجدل کررہا ہو اور جو تعصب کی خاطر قتال کرتا ہوا مرجائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔اس طرح کے کئی احکام ہیں جو عصبیت کی بیخ کنی کرتے ہیں۔

عصبیت سے کئی امراض اور پیدا ہوتے ہیں۔حقوق العباد سے انسان چشم پوشی کرتا ہے۔حسد، ضد ، کینہ بغض اور عداوت متعصب کے رگ رگ میں پیدا ہوتی ہے۔تعصب سے ظلم و تعدی ، الزام و بہتان اور افتراپردازی کے ہزاروں دروازے کھلتے ہیں۔ایک دوسروں کو حقیر، ذلیل ، کم تر سمجھنے کا رواج عام ہوجاتا ہے۔قتل و غارت اور ظلم و ستم اور انسانیت کشی اپنے عروج پر پہنچتی ہے۔اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ تعصب ایک سخت ناسور ہے جس سے انسان کی دنیا و آخرت دونوں برباد ہوکر رسوائی و ذلت اس کے مقدر بن جاتی ہے۔تعصب سے آپس میں لڑنے جھگڑنے کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔تعصب بالخصوص نسلی وحسبی اور ذات و قبیلے کی تعصب و تفاخر بدبختی کے سوا کچھ نہیں۔اسی تعصب میں پھنس کر انسانیت سسک رہی ہے۔تاہم اسلام میں تعصب سے نکلنے کے لیے بہترین راستہ موجود ہے ۔اسلام نے تعصب کی فصیلوں کو ڈھا کر انسانوں کو منظم نظامِ حیات بخشا ہے۔حیوانیت و درندگی اور تعصب و عصبیت سے نکل کر صالح معاشرے میں عزت سے جینے کا حق دیا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہم سر تا پر تعصب اور عصبیت کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔

میں یہاں صرف ضلع دیامر میں پائی جانے والے سیاسی تعصب کا ذکر کروں گرونگا۔اصل میں یہ ذات و قبیلے کی تعصب ہے جو سیاسی تعصب میں تبدیل ہوگئی ہے۔ اور ثابت کرونگا کہ سیاسی تعصب(یعنی شین یشکن کی سیاست) میں ضلع دیامر کہاں تک ملوث ہے۔ اور اس تعصب کو بامِ عروج تک کس نے پہنچایا ہے۔میرا مقصد صرف اتنا ہے کہ حقائق کے آئینے میں دکھا یا جائے کہ واقعی دیامر میں تعصب ہے کہ نہیں۔

ہم مختصراً ضلع دیامر کے سیاسی ممبروں کا جائزہ لیتے ہیں کہ70 19 سے لے کر اب تک ضلع دیامر سے کتنے ممبر،خواتین ممبراور ٹیکنوکریٹ منتخب ہوئے اور ان میں کتنے شین تھے اور کتنے یشکن تھے۔ اس تعداد سے ہم اچھی طرح اندازہ کرسکیں گے کہ ضلع دیامر میں سیاسی تعصب کس درجہ تک پہنچا ہوا ہے۔ اور اس کی آبیاری کہاں کہاں سے کی جاتی ہے۔

۳۰ دسمبر ۱۹۷۰ء کو گلگت بلتستان کی مشاورتی کونسل کے اولین انتخابات ہوئے۔مشاورتی کونسل کا چیئرمین ریذیڈنٹ گلگت بلتستان مقرر ہوا۔ اس کونسل میں ضلع دیامر(بشمول استور) سے چار ممبر منتخب ہوئے۔استور سے امیر حمزہ اور محمدخورشیدخان جبکہ چلاس سے عبدالررؤف اوردریل تانگیر ملک محمد مسکین منتخب ہوئے۔ دوسرے انتخابات ناردرن ایریا زکونسل کے ماتحت ۶ نومبر۱۹۷۵ء کو منتخب ہوئے۔مشاورتی کونسل کا نام تبدیل کرکے ناردرن ایریاز کونسل رکھا گیا ۔ اس کے چیئرمین وزیر امور کشمیر شمالی علاقہ جات مقرر ہوا ۔ اس کونسل میں دیامر سے چار ممبر منتخب ہوئے۔ استور سے قاری عبدالحکیم اور عبدالحمید خاور جبکہ چلاس سے عبدالرؤف اور داریل تانگیر سے ملک محمد مسکین منتخب ہوئے۔ ناردرن ایریاز کونسل کے تیسرے انتخابات ۱۱ اکتوبر ۱۹۷۹ء کو امنعقد ہوئے۔اس میں بھی دیامر سے چار ممبر منتخب ہوئے۔ استور سے افلاطون اور قاری عبدالحکیم جبکہ چلاس سے حنیف اللہ اور داریل تانگیر سے حاجی امیر جان منتخب ہوئے۔

ناردرن ایریاز کونسل کے چوتھے انتخابات ۲۶ اکتوبر ۱۹۸۳ء کو منعقد ہوئے ۔اس میں بھی دیامر سے چار ممبر منتخب ہوئے۔ استور سے محبوب علی اور حاجی جان محمد جبکہ چلاس سے حاجی عبدالقدوس اورحاجی امیرجان منتخب ہوئے۔

ناردن ایریاز کونسل کے پانچویں انتخاب ۱۱ نومبر ۱۹۸۷ء کو منعقد ہوئے۔ اس میں دیامر استور سے محمد نصیراور صاحب خان جبکہ چلاس سے جانباز خان اورداریل تانگیر سے جان عالم منتخب ہوئے۔

ناردرن ایریاز کونسل کے چھٹے انتخابات نومبر ۱۹۹۱ء منعقد ہوئے۔اس میں دیامر استور سے محبوب علی اور شاید علی جبکہ چلاس سے عبدالقدوس اور داریل تانگیر مہردادمنتخب ہوئے۔

کونسل کے ساتویں انتخابات اکتوبر ۱۹۹۴ء کو منعقد ہوئے۔ اس میں ضلع دیامر استور سے نصراللہ اور عبدالحمید جبکہ چلاس سے شاہ بیگ اور جانباز ، داریل سے حیدر خان اور تانگیر سے امیرجان منتخب ہوئے۔ اور خواتین کی نشست سے شائستہ شمیم حمزہ منتخب ہوئی۔ اس میں تمام سات ممبران شین برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔،اب کونسل کا نام ناردرن ایریاز کونسل کی بجائے ناردرن ایریاز لیجسلیٹو کونسل رکھا گیا ۔

لیجسلیٹو کونسل کے آٹھویں انتخابات ۱۹۹۹ ء منعقد ہوئے۔ اس میں بھی دیامر کے سات ممبر منتخب ہوئے۔دیامر استور سے صاحب خان اور محبوب علی خان جبکہ دیامر چلاس سے حاجی شاہ بیگ اور جانباز جبکہ داریل سے رحمت خالق اور تانگیر سے امیرجان منتحب ہوئے۔اور محترمہ شائستہ شمیم خواتین کی نشست سے منتخب ہوئی۔

کونسل کے نویں انتخابات جماعتی بنیادوں پر ۱۲ اکتوبر ۲۰۰۴ منعقد ہوئے۔ اس میں آٹھ ممبر منتخب ہوئے۔ دیامر استور سے عبدالحمید،مظفر ریلے جبکہ چلاس سے فداء اللہ اور عبدالقدوس اور داریل سے حیدر خان اور تانگیر سے ملک مسکین منتخب ہوئے۔ ٹیکنوکریٹ کی سیٹ سے جان عالم اور خواتین کی نشست سے محترمہ گل میرا دلپذیر منتخب ہوئی۔

حکومت پاکستان نے ۱۵ دسمبر ۲۰۰۷ء کو گلگت بلتستان کے لیے چند اہم انتظامی اصلاحات کی منظوری دی۔قانون ساز کونسل کو قانون ساز اسمبلی قراردیا ۔ ۲۹ اگست ۲۰۰۹ ء پیپلز پارٹی حکومت نے صدارتی پیکج کے ذریعے کسی حد تک داخلی خود مختاری دی ، یوں قانون ساز اسمبلی کے دسویں انتخابات ۱۲ نومبر ۲۰۰۹ کو منعقد ہوئے۔ اب استور الگ ضلع بن چکا تھا۔ اس دفعہ دیامر سے سات ممبر منتخب ہوئے۔ چلاس سے بشیر احمد اور جانباز اور داریل سے رحمت خالق اور تانگیر سے گلبرخان اور ٹیکنوکریٹ سے مولانا سرور شاہ خواتین کی نشست سے گُل میرا صاحبہ منتخب ہوئی جبکہ گلگت بلتستان کونسل کے لیے دیامر سے سید افضل منتخب ہوئے۔اور مشیر اعزازی کے طور پر طیفور شاہ کو سیاسی امور دیامر کا مشیر لیا گیا۔ دیامر کے ممبروں میں بشیر احمد اور حاجی گلبر کو وزارتیں جبکہ سید افضل کو گلگت بلتستان کونسل کے چیئرمین(وزیراعظم)کا مشیر لیا گیا۔ان سات ممبروں میں صرف رحمت خالق ممبر اسمبلی ہیں باقی چھ ممبر اور ایک اعزازی مشیر شین برادری سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ دونوں وزارتیں اور مشیربرائے گلگت بلتستان کونسل بھی شین برادری کے قبضے میں رہیں۔

اب تک دس الیکشن ہوئے ہیں ۔ ان تمام الیکشن میں موجودہ دیامر سے اکتیس(۳۱) ممبراسمبلی اور ایک اعزازی مشیر منتخب ہوئے ہیں۔ اس میں صرف ملک مسکین اور رحمت خالق یشکن باقی سارے ممبر شین برادری سے منتخب ہوئے ہیں۔ کسی تیسری برادری کو موقع ہی نہیں دیا گیا۔ بلکہ انہیں الیکشن لڑنے تک کی اجازت نہیں ملتی۔اب تک جتنی وزارتیں، مشیریاں، ٹیکنوکریٹس اور خواتین ممبر منتخب ہوئیں ہیں وہ بھی تمام کی تمام ہماری شین برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔ سوائے ایک دفعہ ملک مسکین اسپیکر بنے ہیں۔

انتہائی حیرت کی بات یہ ہے کہ اب تک تمام سیاسی پارٹیوں نے دیامر میں صرف اور صرف شین برادری کے امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ دیا سوائے ایک دفعہ رحمت خالق کے۔دس بار کے الیکشن میں موجودہ دیامر سے چار دفعہ ملک مسکین اور دو دفعہ رحمت خالق کو ممبر بننے کا موقع ملا، باقی کسی کو نہیں۔ اب تک کے اعداد و شمار سے اندازہ لگایا ہوگا کہ دیامر میں سیاسی تعصب کی کیا انتہا ہے۔ہمیں اللہ اس تعصب سے بچائے

اب گلگت بلتستان اسمبلی کے گیارہویں الیکشن آٹھ جون 2015ء کو ہورہے ہیں۔اس میں بھی تعصب، قبیلہ و ذات پرستی اور حسد کی انتہا ہورہی ہے۔ نسلی و قبیلہ جاتی تعصب میں بڑے بڑے علماء اور قائدین بری طرح ملوث ہیں۔ دن رات بیٹھ کر سازشیں کررہے۔امیدوار کے کردار اور اہلیت و صلاحیت کی بجائے یہ دیکھا جارہا ہے کہ یہ کس برادری کا ہے۔ اپنے حلقے کے علاوہ دوسرے حلقے کے مخالف برادری کے امیدوار کو ہرانے کے لیے مل بیٹھ کر سرگوشیاں کی جاتیں ہیں اور عہد لیے جاتے ہیں کہ فلاں فلاں کو کسی صورت اسمبلی نہ پہنچنے دیا جائے۔

سخت سے سخت سیاسی فریق اتحادیں قائم کررہے ہیں تاکہ مخالف برادری کا امیدوار جیت نہ جائے۔قبیلہ جاتی برادری کے لیے پارٹی اور رشتہ داریوں کو بھی دور دھکیلا جارہا ہے۔نقد رقم اور چھوٹی موٹی نوکریاں دلوا کر ووٹ خریدنے کا عمل بھی تسلسل سے جاری ہے۔قارئین ! یہ رویہ کیا ظاہر کرتا ہے؟

علماء کرام سے ہاتھ جوڑ کر عرض کرتا ہوں کہ خدا اور رسول کے احکامات مانتے ہوئے اس گندے کیچڑ سے اپنے آپ کو باہر نکالو۔ عوام الناس اور نوجوان تعلیم یافتہ طبقے سے اپیل کرتاہوں کہ خدارا! برادری کے تعصب سے نکل کر اس امیدوار کو ووٹ کاسٹ کر کے جیت یقینی بنائیں جو آپ کے حلقے اور ملک و ملت کے اجتماعی مفادات ومقاصد کے لیے موزوں او ر مناسب ہے۔ بہت ساری ے تلخ حقائق کو پھر کبھی بیان کرتے ہیں۔ جو ناسور کی طرح دیامر کو برباد کررہے ہیں۔

وما علینا الاالبلاغ۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔