گلگت بلتستان انتخابات اور دانشمندی کی ضرورت

گلگت بلتستان انتخابات اور دانشمندی کی ضرورت

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

10931199_469384929891964_2880546295317602055_nگلگت بلتستان کی سیاسی ہلچل نے انسانی زندگیوں میں تحریک اور اضطراب کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔گلی کوچوں،محلوں،قصبوں،شہروں اور بازاروں میں جا بجا سیاست ہی سیاست نظر آتی ہے۔موسم اور سیاسی گرمی ہر شعبے اور طبقے پر اثر انداز ہو رہی ہے۔پاکستانی قوم بھی عجیب جذباتی قوم ہے۔جب کرکٹ ہو تو بلے اور سیاسی ماحول سجے تو جھنڈے لیکر گھروں سے نکلتے ہیں۔دونوں سے انکی یادیں وابستہ ہوتی ہیں۔اور اکثر دونوں انہیں مایوس کر دیتے ہیں۔

کھلاڑی اور سیاسی لیڈر میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں میدان میں خود ہی لڑتے ہیں اور ساتھ معیشت بھی لڑتی ہے۔دونوں کی ہار جیت ملک کی ہار جیت ہوتی ہے۔اچھے لیڈر جیت جائیں تو ملک میں خوشحالی آتی ہے۔معاملات سنور جاتے ہیں۔قوم سر اٹھا کر چلنے کے قابل بن جاتی ہے۔برے لیڈر مسند اقتدار پر براجمان ہوں تو آوے کا آوا بگڑ جا تا ہے۔مایوسی اور بدحالی ڈیرے جما لیتی ہے۔کرپشن ،اقربا پروری اور رشوت خوری کی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں۔بالخصوص مجبور اور مزدور طبقے کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔

گلگت بلتستان کا شمار دنیا کے حسین اور طلسماتی خطوں میں ہوتا ہے۔سیاحت معیشت اور جغرافیائی اعتبار سے اس کی اہمیت اور افادیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔اس کی سرحدیں ایک طرف سے دنیا کی دو بڑی سیاسی معاشی اور دفاعی طاقتوں چین اور بھارت سے ملتی ہیں تو دوسری طرف خیبر پختونخواہ کا ایک وسیع سیاحتی علاقہ پھیلا ہوا ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری کا آغاز بھی گلگت بلتستان سے ہو رہا ہے۔ایک طویل مسافت طے کرنے کے بعد یہ راہداری کے پی کے میں داخل ہوتی ہے۔اسکے علاوہ دیامر بھاشہ ڈیم ،بونجی ڈیم اور سدپارہ ڈیم سمیت کئی دیگر ملکی نوعیت کے اہم منصوبے بھی اس خطے میں جاری ہیں اور کچھ ہونے والے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں بھی گلگت بلتستان اکثر موضوع بحث بنتا جا رہا ہے۔حال ہی میں ہونے والے پاک چین اقتصادی راہداری کے معاہدے کو بھارتی حکومت اور میڈیا نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انکی میڈیا نے تو بے تکے دلیلوں کے سہارے لیتے ہوئے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔وہ گلگت بلتستان کو پاکستانی مقبوضہ علاقہ قرار دے رہا ہے۔مگر اسے کیا خبر کہ جی بی کا بچہ بچہ محب وطن،سچا اور پکا پاکستانی ہے جو وقت آنے پر بھارت کی آنکھیں پھوڑنے کے لئے کمر بستہ رہتا ہے۔

ان تما م باریکیوں کو کو پیش نظر رکھتے ہوئے بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک طرف گلگت بلتستان کا تابناک مستقبل نظر آرہا ہے۔تو دوسری طرف اس خطے کو غیر متوازن کرنے اور معاملات کو الجھانے کے لئے کچھ بیرونی طاقتوں بالخصوص بھارت اور امریکہ کی جانب سے گھناؤنی سازشیں بھی ہو سکتی ہیں۔ہماری بدقستمی سے پاکستان میں موجود دہشتگردی اور خوف کی فضا نے ایسی ملک دشمن سازشوں کے لئے راہ ہموار کیا ہوا ہے۔

چونکہ جی بی میں ایک نئی حکومت بننے جا رہی ہے قوم کو متوقع انتخابات میں اپنے نمائندوں کا چناؤ کرتے وقت ان تمام حساس امور کو سامنے رکھنا ہوگا۔خطے میں امن و امان قائم کرنا اور ترقی کے لئے ساز گار ماحول فراہم کرنے میں منتخب حکومتوں کا بڑا کردار ہوتا ہے۔اگر آپکے منتخب نمائندے اس قابل ہونگے کہ وہ اندرونی اور بیرونی معاملات ،ترجیحات اور سازشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی اور پالیسی ترتیب دے سکیں تو سمجھ لو آپ نے اپنا ووٹ کا استعمال درست کیا ہے۔بصورت دیگر اس انتخابی جنگ کو کرسی کے لئے جنگ تصور کیا جائے گا۔کرسی کی جنگ کبھی ملکی مفاد میں نہیں ہوتی ہے۔اس کا خمیازہ ہم مشرقی اور مغربی پاکستان کو دولخت کروا کر بھگت چکے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ اب قوم سیانی ہو چکی ہے اور انکے فیصلے بھی سیانوں جیسے اور دانشمندانہ ہونگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔