خواتین کی حقوق اور لیبر لاء کے حوالے سے تین روزہ تربیتی ورکشاپ

خواتین کی حقوق اور لیبر لاء کے حوالے سے تین روزہ تربیتی ورکشاپ

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Shigar 1

سکردو(نمائندہ خصوصی) خواتین کے حقوق ایک عالمی جدوجہد ہے ۔پاکستان کے خواتین کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے لیکن یہاں کی خواتین نسبتا خوشحال زندگی گزارتے ہیں۔ خواتین کے بھی اتنی حقوق ہے جتنے ایک مرد کے ہیں۔ ہمارے خواتین کو معاشرے کی ترقی کیلئے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہیں۔ان خیالات کا اظہار الشہباز تنظیم خواتین شگر کی زیر اہتمام خواتین کی حقوق اور لیبر لاء کے حوالے سے تین روزہ تربیتی ورکشاپ کے اختتامی تقریب سے سٹیشن ڈائریکٹر کوثر ثمرین، ڈاکٹر ماریہ، پریس کلب سکرد و کے صدر محمد حسین آزاد ، سینئر صحافی نثار عباس، قاسم بٹ، ذاکر حیات، حسن جہانگیر، ایس ایس ناصری، محمد حسن شگری ودیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ا

لشہباز تنظیم کے زیر اہتمام خواتین کی حقوق اور لیبر لاء سے آگاہی کیلئے تین روزہ تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر ہوگیا۔ اس ورکشاپ میں سکردواور دیگرعلاقوں سے تعلق رکھنے والے گھریلو، سرکاری و نیم سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والے چالیس خواتین کو تربیت دی گئی۔ ورکشاپ میں ماسٹر ٹرینرحسن جہانگیراور ذاکر حیات نے خواتین کو لیبر سیکٹر میں ہونے والی امور پر تفصیلی معلومات فراہم کی جس میں لیبر لاء ،ٹریڈ یونین، ہراساں کرنا، امتیازات اور برابری شامل ہے۔

Shigar 2

ورکشاپ میں ILOکے کنونشن اور دیگر خواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہی دی گئی۔ اس کے علاوہ ٹریڈ یونین بنانے کے فوائد اور طریقہ کار کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔ رسمی و غیر رسمی اداروں میں خواتین کیساتھ ہونے والی امتیازی سلوک اور انہیں ہراساں کئے جانے کے بارے میں نہ صرف آگاہی دی گئی بلکہ ان کے متعلق قوانین کے بارے میں بھی بتایا گیا۔

shigar3

اس ورکشاپ کے آخر میں چھ خواتین لیڈر بھی بنائی گئی جو اپنے اپنے علاقوں میں دیگر خواتین کو ان قوانین کے بارے میں بتانے کے علاوہ ڈسٹرکٹ لیول پر ہونے والے ویمن ورکر ورکشاپ میں حصہ لینگی۔ ورکشاپ کے اختتام پر ایک پروقار تقریب کا انعقادہوا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ ہمارے علاقوں کے خواتین ملک کے دیگر جگہوں کے خواتین کی نسبت بہتر زندگی گزارتے ہیں۔ انہیں گھر میں فیصلہ سازی کی پوری آزادی اور مواقع دی جاتی ہے، لیکن دیگر جگہوں پر خواتین کو ہراساں کرنا اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ خواتین کو ان کی حقوق اور ان کی حقوق سے متعلق قوانین سے آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے پروگرام کے آخر میں مہمانوں نے ورکشاپ میں شرکت کرنیوالے خواتین میں اسناد تقسیم کئے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔