لوڈ شیڈنگ اور ماہ رمضان

لوڈ شیڈنگ اور ماہ رمضان

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
عنایت اللہ فیضی

عنایت اللہ فیضی

وفاقی حکومت نے رمضان المبارک کی آمد سے پہلے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ افطاری اورسحری کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی، روزہ داروں کو بلا تعطل بجلی ملے گی۔ اعلان میں تراویح کے اقات کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔ دن کے اقات میں عموماً ایک بجے سے 5 بجے تک روزہ داروں کو بجلی کی جو ضرورت ہوتی ہے اس کا بھی چند اں حوالہ نہیں دیا گیا۔ ہم نے غنیمت جانا کہ عوام اور رمضان کا دشمن واپڈا ، پیسکو ، لیسکو ، ٹیسکو اور اس کے دیگر ادارے اگر رمضان شریف کے دوران افطار اور سحری کے اوقات کا احترام کریں یہ بھی بہت ہے ورنہ واپڈا نے تو عوام کو ستانے اور صارفین کو تنگ کر نے کی قسم کھا رکھی ہے۔

ابھی حکومت کے اعلان کی سیاہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ اُدھر سعودی عرب میں روزے کا اعلان ہوا اِدھر مسجد قاسم علی خان میں چاند نظر آگیا۔ خیبر پختونخوا کے اکثر علاقوں میں پہلا روزہ ہوا جو لوگ حکومت پاکستان کے اعلان کا انتظار کرتے ہیں ان لوگوں نے دوسرے دن روزہ رکھا اور یوں رمضان شریف بھی آگیا افطار اور سحری کا شیڈول بھی آگیا۔ بجلی اگر پہلے 8 گھنٹے آتی تھی اب 2گھنٹے آگئی 22 گھنٹے غائب رہی۔ روزہ داروں نے شور مچایا مساجد میں بد دعائیں ہوئیں لوگوں نے کہا حکومت نے جھوٹا اعلان کیا تھا ہم نے پوچھا کونسا اعلان ؟ صارفین نے کہا اعلان یہ تھا کہ ’’افطار اور سحری کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔ ہم نے کہا اعلان میں جھوٹ والی کوئی بات نہیں خواجہ آصف ، عابد شیر علی قوال اور ہمنوا جھوٹی مصرعوں کی قوالی نہیں سناتے۔ انہوں نے اپنے وعدے کو سچا دکھانے کے لئے بجلی ہی عائب کردی لوڈ شیڈنگ اس کو کہتے ہیں جب بجلی ہو بلب جل رہا ہو ، پنکھا چل رہا ہو اور یکا یک بجلی چلی جائے۔

حکومت نے ایسا معقول انتظام کیا کہ رمضان میں بجلی ہی نہیں آئے گی جب شام 7 بجے بجلی نہ ہو تو افطار کے وقت لوڈ شیڈنگ کیسے ہوگی ؟ لوڈ شیڈنگ بجلی کی ہوتی ہے جب رات ایک بجے یا ڈیڑھ بجے بجلی نہ ہو تو سحری کے وقت لوڈشیڈنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حکومت نے اپنے قول، وعدہ اور اعلان کی لاج رکھنے کا معقول انتظام کیا ہے ’’نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ‘‘ مٹی کا تیل ڈھونڈ اور لالٹین سنبھالو، بابوزی ہاتھ کا پنکھا اُٹھاؤ اور روزے میں مزے اڑاؤ ، تم کیا یاد کروگے کہ ہم نے ووٹ دیکر حکومت منتخب کیاتھا جوہم سے جھوٹ نہیں بولتی جو اعلان کرتی ہے اُسے سچا کر کے دکھاتی ہے۔

بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی نے گذشتہ دو سالوں میں ایک سو گیارہ دفعہ اعلان کیا ہے کہ جس ضلع میں بلوں کی ادائیگی میں ڈیفالٹ نہیں ہوگی اُس ضلع کو لوڈ شیڈنگ سے چھوٹ دی جائیگی۔ خیبر پختونخوا کا ضلع چترال ایسا ضلع ہے جہاں بلوں کی ریکوری 100 فیصد ہوتی ہے ڈیفالٹ بالکل نہیں عابد شیر علی کا محکمہ اس ضلع میں روزانہ 16 گھنٹے یا 18 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کرتا ہے اور 8 گھنٹے یا 6 گھنٹے بجلی کی وولٹیج اتنی کم ہوتی ہے بلب بھی نہیں جلتا پنکھا بھی نہیں چلتا استری اور ریفریجریٹر کو لوگ بھول گئے ہیں۔

چترال ٹاون کی 80 ہزار آبادی میں 20 ہزار گھر یلو اور 6 ہزار کمرشل کنکشن ہیں روزانہ 16 گھنٹے یا 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا معمول تھا رمضان شریف میں اس کا دورانیہ بڑھا کر 22 گھنٹے کر دیا گیا ہے اور یہ پیسکو حکام کی خصوصی مہربانی ہے۔ چترال ایسا ضلع ہے جہاں بجلی فراہم کرنے والے تین ادارے اور بھی ہیں محمد خان انیڈ کمپنی کا پرائیو یٹ بجلی گھر ہے صوبائی حکومت کا ادارہ پیڈو بجلی فراہم کرتا ہے سرحد رورل سپورٹ پروگرام اور آغان خان رورل سپورٹ پروگرام کے تحت دیہی تنظمیں چھوٹے پن بجلی گھر وں کا نظم ونسق چلاتے ہیں سب سے بڑا ادارہ واپڈا ہے اس کی ذیلی کمپنی پیسکو ہے اور سب سے زیادہ بد قسمت وہ صارفین ہے جو پیسکو کی بجلی استعمال کرتے ہیں ۔

واپڈا حکام کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ اس ضلع میں دوسری کمپنیوں کے ساتھ ہمارا مقابلہ ہے اور یہ بھی اُن کو معلوم نہیں کہ اس ضلع میں بلوں کی سو فیصد ادائیگی ہوتی ہے۔ پشاور، مردان ، نو شہرہ ، ایبٹ آباد اور دیگر شہروں میں لوگ واپڈا کو اس لئے بد دعائیں دیتے ہیں کہ اس ادارے کی بد انتظامی اور نااہلی نے صارفین کا جینا دو بھر کر دیا ہے ۔ہر سال رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی واپڈا حکام ظلم وستم کی نئی داستانیں رقم کرتے ہیں۔ اس سال حکومت نے اعلان کیا کہ افطار اور سحری کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔ سادہ لوح صارفین غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے کہ ان اوقات میں بجلی نہیں جائیگی ۔واپڈا ، پیسکو حکام نے افطار اور سحری سے پہلے ہی بجلی غائب کر دی جب بجلی ہی نہیں تو کس چیز کا لنک ڈاون ہوگا اور کس چیز کی لوڈ شیڈنگ ہوگی چنانچہ 2015 کے رمضان میں لوڈ شیڈنگ کی جگہ مکمل تاریکی ہوتی ہے حکومت نے ایک اور وعدہ پورا کیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments