حافظ حفیظ الرحمن کا امتحان شروع

حافظ حفیظ الرحمن کا امتحان شروع

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Safdar Logoگلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے نو منتخب ممبران کی متفقہ رائے سے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صوبائی صدر حافظ حفیظ الرحمن کے بحیثیت وزیراعلیٰ،حاجی فدا محمد ناشاد سپیکر اور جعفراللہ خان کے ڈپٹی سپیکرانتخاب کے بعد صوبے میں حکومت سازی کا پہلا مرحلہ انتہائی خوش اسلوبی سے مکمل ہوگیا۔ اب دوسرے مرحلے میں صوبائی کابینہ کے لئے وزراء کا چناو باقی رہ گیا ہے، جوکہ آئندہ چند دنوں میں اسی انداز میں ہی پایہ تکمیل کو پہنچایا جائیگا۔

یہ مرحلہ بھی مکمل ہونے کےبعدپاکستان مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت پورے آب وتاب کے ساتھ حکومتی امورکی انجام دہی میں مگن ہوجائیگی۔ جبکہ اسلامی تحریک پاکستان،مجلس وحدت المسلمین، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف ،جمعیت علماء اسلام اور قوم پرست جماعت بالاورستان نیشنل فرنٹ کے ممبران اپوزیشن کے طور پر حکومتی کوتاہیوں کی نشاندہی کے لئے کمر کس لیںگے ۔ یوں یہ سلسلہ آئندہ پانچ برس تک جاری رہے گااور مقررہ مدت پوری ہونے پر اقتدار پھر اسی انداز میں بھاری اکثریت سے منتخب ہونے والی سیاسی جماعت کے سپرد کیاجائیگا ۔

گلگت بلتستان کے انتخابات میں اگرچہ عوام نے پاکستان مسلم لیگ (ن) پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرکے صوبے میں حکمرانی کا موقع بخشا ہے مگر یہ موقع نومنتخب حکومت کے لئے کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ،جس کا اعتراف خود نومنتخب وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے بھی اپنی ’’وکٹری سپیچ‘‘ میں کیا ہے۔ اگر نومنتخب وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کے ارکان پانچ سال بعد ہونے والے اس امتحان کو زہن نشین کرکے ابتداء ہی سے اپنی کارکردگی پر دھیان دیں پائے تو آئندہ انتخابات میں بھی ان کی کامیابی کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں ، ورنہ پانچ سال تک اقتدار کے نشے میں مست ہوکرنقل خور طلباء کی مانند معاملہ سرپر آنے پرادھر ادھرہاتھ پائوں مارنے کی صورت میں ان کا حشر بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق حکمرانوں سے کم نہیں ہوسکتا۔

پیپلز پارٹی کی بیڈگورننس اور ناانصافی پرمبنی حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے علاقے کے دشمنوں اور قومی مجرموں سے انتقام لینے میں اس قدر ماہر بنادیا ہے جس کی بنیاد پر نومنتخب حکومت کے بارے میں ابھی سے ہی اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جاسکتاہے، تاکہ عوامی انتقام کے خوف کو مدنظررکھ کر نئی حکومت اپنے لئے بہتر راستے کا تعین کرسکے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نومنتخب وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کو عوامی مسائل کے حل اور حکومتی امور چلانے پر سابق وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ سے کئی گنا زیادہ گرفت حاصل ہے۔وہ ایک تعمیری سوچ اوروسیع ذہانت کے مالک سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بے داغ ماضی کی حامل شخصیت ہیں۔ لیکن ان کی ٹیم میں سابق دور کے وزراء کی طرح کے لوگوں کی شمولیت سے حفیظ الرحمن کی وہ تمام خوبیاں بھی مہدی شاہ کی سیاست میں پی ایچ ڈی کی طرح کسی کام کی نہیں رہ جائیں گی۔

پانچ سال کے اس عرصے کے دوران منعقد ہونے والے سنڈاپ اور سمسٹر کے امتحانات اور آخر میں حتمی امتحان میں اچھے نمبرات کے حصول کے لئے نومنتخب وزیراعلیٰ کو ابتداء ہی سے بعض اہم اور پیچیدہ مسائل پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، چاہے اس کے لئے انہیں کسی بھی طرح کی مجبوری کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

حافظ حفیظ الرحمن کے لئے پہلا امتحان صوبائی کابینہ کے لئے وزراء کا چنائو ہے، جس کے لئے انہیں باصلاحیت افراد کوترجیح دیکر میرٹ پر فیصلوں کی بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ مہدی شاہ کی طرح مصالحتوں کا شکار ہوکر وزراء کی فوج ظفر موج لگانے سے میرٹ کی پاسداری کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔اسی لئے حفیظ الرحمن کی طرف سے کابینہ کا حجم قدرے کم رکھنے کا عندیہ علاقے کے لئے نیک شگون ہے۔ نومنتخب وزیراعلیٰ کو حکومتی امور احسن طریقے سے چلانے کی خاطرگلگت بلتستان کے بے لگام بیوروکریسی کو مضبوط لگام دیکرتمام تر حکومتی فیصلوں کا اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے اور بیوروکریسی کے خرمست آفیسران کو حکومتی فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کا پابند کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔جس کے لئے سابق وزیراعلیٰ سیدمہدی شاہ نے بھی کسی حد تک کوشش کی مگر اقتدار کے آخری ایام میں چند مبنیہ طور پر بدعنوان آفسران کو احتساب سے بچانے کی غرض سے اپنے پاس پناہ کے طریقہ کار سے ان تمام کوششوں پر پانی پھیرگیا۔

اس کے علاوہ سرکاری محکموں میں ملازمین کی تقرریوں اور تبالوں میں بھی میرٹ کو ہرصورت میں یقینی بنانا،سرکاری اداروں کو کرپشن ، اقرباء پروری اور رشوت ستانی سے پاک کرنا،بجلی اور پانی کے بحرانوں پر قابو پانا،ترقیاتی منصوبوں پر جاری کام کو بروقت پایہ تکمیل تک پہنچانا، تعلیم اور صحت کے شعبوں کی بہتری پر خصوصی توجہ دینا،سڑکوں،پلوں اور اور شاہراہوں کی تعمیر کو فوقیت دیکر مواصلاتی نظام کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرنا، قدرتی آفات کے ممکنہ خطرات سے علاقے کو بچانے کے لئے موثر حکمت عملی مرتب کرنا اوربڑھتی ہوئی بیروزگاری کے خاتمے کے لئے نوجوانوںکو روزگار کے مواقع تلاش کرنا سمیت بہت سے ایسے عوامی مسائل نومنتخب حکومت کے لئے اہم چیلنجز ہیں جن سے معاشرے کا ہرطبقہ براہ راست متاثرہے۔

مسلم لیگ (ن) کی نومنتخب حکومت کے لئے دوسرا امتحان اپنی جماعت کے سربراہ وملک کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے الیکشن سے قبل دورہ گلگت کے موقع پر کئے گئے اعلانات پر من وعن عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ان اعلانات میں سب سے اہم اور توجہ طلب مسلہ سرزمین بے آئین کی آئینی حیثیت کے تعین کا ہے، جس کے لئے بقول وزیراعظم وفاقی سطح پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جاچکی ہے۔ اب نومنتخب حکومت کو کمیٹی کی سفارشات کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کا روزانہ کی بنیاد پر فالواپ لینے کی ضرورت ہے ،تاکہ خطے کے عوام کو اپنی آئینی حیثیت اور شناخت سے متعلق جلد کوئی خوشخبری مل سکے۔

وزیراعظم کے دیگر اعلانات میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ میں گلگت بلتستان کو مناسب نمائندگی، گلگت سکردو روڈ کی کشادگی،استور کشمیرروڈ،غذر چترال روڈ اور بابوسر ٹنل کی تعمیر، تین نئے اضلاع (شگر، کھرمنگ اور ہنزہ)، بلتستان یونیورسٹی ،غذ، دیامر، استور اور ہنزہ نگر میں قراقرام انٹرنیشنل یونیورسٹی کے ضلعی کیمپس،گلگت میں امراض قلب کا ہسپتال کا قیام، جی بی کے ہونہار طلباء و طالبات کے لئے مختص لیپ ٹاپس کی تعداد میں اضافہ اور گلگت بلتستان کے لئے قومی ائیرلائن( پی آئی ای) کی اضافی پروازیں شروع کرنے کے دعوے خطے کے لوگوں کو فنگرٹپس پہ یاد ہیں اور عوام نئی حکومت کی طرف یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ کب ان اعلانات پر عملدرآمد شروع کیا جائیگا۔ لہذا نومنتخب حکمرانوں کے لئے اپنے قائدکے اعلانات کوہر حال میں عملی جامع پہنانے کے لئے اپنی تمام تر کوششوں اور ممکنہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پیپلز پارٹی کی سابق صوبائی حکومت اپنے تمام تر دعوئوں کے باوجودگلگت بلتستان میں پائیدار امن قائم کرنے اور عوام کی جان ومال کے تحفظ میں مکمل طور پر نام کام رہی اور تاریخ میں 988اکے بعد پی پی پی کے دور حکومت میں علاقے میں امن وامان کی انتہائی مخدوش صورتحال رہی۔ جس میں حکومتی عدم توجہی کے باعث معصوم شہریوں کے علاوہ نہتے مسافر ،سیکورٹی اہلکار اور غیرملکی سیاح بھی شرپسندوں کے ہاتھوں اپنی قیمتی جانیں گنوا بیٹھی۔ لیکن سیاست میں پی ایچ ڈی کے دعویدار سابق وزیراعلیٰ ان ناخوشگوار واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچانے کی بجائے صرف زبانی دعووں سے ہوا میں تیر چلانے پر اکتفا کرتے رہے۔

اب بدامنی اور دہشتگردی سے متاثرہ علاقے میں پائیدار امن کا قیام اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا بھی نومنتخب حکومت کی ایک اہم ذمہ داری بن جائیگی۔یہ نہ صرف خطے کی ترقی وخوشحالی کے لئے انتہائی ناگزیر ہے بلکہ نومنتخب وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کے بھائی سیف الرحمن(مرحوم) کا مشن بھی تھا، جس کی تکمیل کے لئے حافظ حفیظ الرحمن اس سے قبل بھی کوشاں رہے ہیں۔ اس لئے امید کی جاسکتی ہے کہ نئی حکومت اس مسلے کے پائیدار حل کے لئے بھی مخلصانہ اقدامات کو یقینی بنائے گی۔جبکہ ان تمام مسائل کے تدارک کے لئے موثر اقدامات میں ناکامی کی صورت میں آج کے حکمران بھی کل کے حکمرانوں کی طرح پانچ سال بعد اپنی بے بسی کی فریاد لیکر دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجائیں مگر اس فریاد کو سننے والا کوئی نہیں ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔