دس رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل، حکومت کےلیے100دنوں کی ترجیحات کا تعین اور سفارشات پیش کرینگے: وزیراعلیٰ گلگت بلتستان

دس رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل، حکومت کےلیے100دنوں کی ترجیحات کا تعین اور سفارشات پیش کرینگے: وزیراعلیٰ گلگت بلتستان

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آئندہ تین روز کے اندر اندر گلگت میں تمام سپیشل لائنوں کو منقطع کر کے امیر غریب سب کیلئے برابر لوڈشیڈنگ ہو گی

29-06-15 (5)گلگت(خصوصی رپورٹ) وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی نو منتخب صوبائی حکومت کے پاس اب وقت نہیں ہے کہ عوام کو نعروں ،وعدوں اور اعلانات پر ٹرخایا جا سکے ۔صوبائی حکومت نے ابتدائی 100 دنوں میں گلگت بلتستان کے عوام کو بتانا ہے کہ انہو ںنے جن لوگوں کو منتخب کر کے عنان اقتدار سونپی ہے وہ اپنے فرائض سے غافل نہیں ۔خطے کی تعمیر و ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنا اور عوام کو درپیش مسائل کا حل نئی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے ۔

صوبائی حکومت نے اپنے قیام کے محض 5 دن بعد ہی نئی حکومت کے ابتدائی 100 دنوں کی ترجیحات کے تعین کیلئے رکن قانون ساز اسمبلی ڈاکٹر محمد اقبال کی سربراہی میں ارکان اسمبلی ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ ،میر غضنفر علی خان ،محمد ابراہیم ثنائی ،محمدعلی حیدر ،اقبال حسن ،برکت جمیل ،محمد وکیل ،فرمان علی اور فدا خان پر مشتمل دس رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے جو مختصر مدت میں حکومت کی 100دنوں کی ترجیحات کا تعین کر کے سفارشات پیش کرینگے اور ان ترجیحات کی منظوری وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف دینگے ۔

ان خیالات کا اظہاروزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے پیر کے روز وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کانفرنس ہال میں صحافیوں کو پوسٹ بجٹ بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بجٹ کو نظر انداز کیا گیا حالانکہ بجٹ بنانے سے قبل ماہرین اور اس سے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے علاوہ عوامی رائے لی جاتی ہے اور تجاویز اور رائے کی روشنی میں بجٹ ترتیب دیا جا تا ہے۔ اب مسلم لیگ ن بھاری مینڈیٹ کے ساتھ حکومت میں آئی ہے آئندہ ہم بجٹ بنانے سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز بالخصوص عوامی رائے کو ضرور فوقیت دینگے ۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان ایک نوازائیدہ صوبہ ہے ۔یہاں وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں لیکن وسائل بے شمار ہونے کے باوجود ان سے استفادہ نہیں کر سکتے ۔انہوں نے کہا کہ سابقہ دور میں کاغذی ہیرا پھیری کے ذریعے گلگت بلتستان کا بجٹ خسارہ 62 ارب دکھایا جا رہا تھا جس میں غیر ضروری اسیکلیشن کی ادائیگی اور کاغذی منصوبے شامل تھے لیکن اب محکمہ پلاننگ نے انتہائی عرق ریزی سے چھان بین کے بعد بجٹ خسارہ 40 ارب دکھایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کیلئے مختص بجٹ 4 حصوں میں دیا جا تا رہا ہے لیکن ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ گلگت بلتستان کا بجٹ دو حصوں میں دیا جائے اور پہلا حصہ جولائی کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں جاری ہو ۔اس سلسلے میں باقاعدہ وزیر اعظم سے بات کی جائیگی جبکہ وفاق کی طرف سے واضح ہدایت بھی دی گئی ہے کہ غیر ضروری اخراجات سے اجتناب کیا جائے ۔

انہو ںنے کہا کہ صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں ایم آئی آر کی مشینری نصب کی جائے گی۔ یہ مرحلہ وار سال میں ایک ایک مشین ہر ڈویثرن میں نصب ہو اس سلسلے میں وفاقی وزارت صحت سے گفت و شنید بھی ہو چکی ہے اس کے علاوہ ہیلتھ ریفارمز سیل کا بھی قیام عمل میں لایا جا رہا ہے یہ ادارہ مخیر حضرات اور ملکی و غیر ملکی ڈونر ایجنسز کے تعائون سے چلایا جائیگا ۔

انہوں نے پاور کے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ پاور نے صوبائی حکومت کو یقین دلایا ہے کہ حکومت کے ابتدائی سو دنوں میں اگر حکومت 40 کروڑ روپے فراہم کرے تو اگلے 100 دنوں کے اندر اندر 16 میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کرینگے ۔اس طرح صوبائی حکومت تمام سرکاری محکموں سے تجاویز لے رہی ہے کہ آئندہ 100 دنوں کے اندر اندر ہم عوام کو کیا دے سکتے ہیں ۔ان تجاویز کی روشنی میں ہم اپنی ترجیحات طے کرینگے ۔ہسپتالوں میں شلٹر ہوم بنائے جائینگے جہاں مریضوں کے ساتھ آنے والے تیماداروں کو نہ صرف مفت کھانا فراہم کیا جائیگا بلکہ انہیں رہائش کی سہولت بھی دی جائیگی ۔اس سکیم میں حکومت کا ایک روپیہ خرچ نہیں ہو گا بلکہ مخیر حضرات سے لائی جائیگی ۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے کو منفی سرگرمیوں سے بچانے کیلئے سب ڈویثرن سطح پر گراونڈ تعمیر کئے جائینگے ۔انہو ں نے کہا کہ غیر ترقیاتی اخراجات کی نگرانی اور مالی بے ضابطگیوں پر کڑی نظر رکھنے کیلئے اسپیشل کمیٹی بنائی جائیگی۔ انہو ںنے کہا کہ ایسے اداروں کو فعال بنایا جائیگا جو آمدنی بڑھانے کا ذریعہ ہیں ان میں فشیریز ،لائیو سٹاک ،فارسٹ ،پاور ،ٹورازم اور منرلز کے شعبے شامل ہیں۔ ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنا کر کثیر آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے ۔

انہوں نے ناردرن ایریاز ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ نیٹکو سرکاری سرپرستی میں چلنے والا واحد ادارہ ہے جو صحیح معنوں میں نہ صرف عوام کی خدمت کر رہا ہے بلکہ ایک منافع بخش ادارہ بن چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کی خصوصی ہدایت ہے کہ اقتصادی راہداری بننے سے گلگت بلتستان کے تمام ایسے علاقوں کا رابطہ کے کے ایچ سے ہو جو کے کے ایچ سے دور ی پر ہیں اسلئے صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام اضلاع میں ابتدائی طور پر 200 کلو میٹر سڑکوں کو میٹل کیا جائیگا۔

سبسڈی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گندم پر سبسڈی ختم نہیں ہوئی ہے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وفاقی بجٹ میں گلگت بلتستان کی سبسڈی کیلئے رقم مختص کی گئی ہے ۔انہو ںنے کہا کہ قوم کو سچی بات بتانی ہو گی ان سے جھوٹے وعدے نہیں کرنے ہونگے ۔حقائق سے عوام کو آگاہ کرنا پڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں عوام کے پیسوں کو غلط استعمال کرنے سے عوام متنفر ہو چکے ہیں ۔اگر ہم عوام کو یہ باور کرا دیں کہ ان کی دی ہوئی رقم صحیح راستوں پر خرچ ہوتی ہے تو عوام بھر پور تعائون کرینگے ۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ تین روز کے اندر اندر گلگت میں تمام سپیشل لائنوں کو منقطع کر کے امیر غریب سب کیلئے برابر لوڈشیڈنگ ہو گی ۔حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ الفا پراجیکٹ کیلئے 14 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اس پراجیکٹ کے ذریعے 1 لاکھ ایکٹر بنجراراضی کو قابل کاشت بنایا جائیگا ۔ 1لاکھ کنال زمین کو زیر کاشت لانے سے گلگت بلتستان سے خوراک کا بحران ختم ہو سکتا ہے۔ انہو ں نے بلدیاتی اداروں کے حوالے سے کہا کہ قانون ساز اسمبلی سے بلدیاتی اداروں کے حوالے سے پاس شدہ ایکٹ میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے ۔

پرائمری ایجوکیشن کو خواتین کے حوالے کیا جائیگا ۔آخر میں انہو ںنے کرپشن کیخلاف کارروائی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب میں کہا کہ اس ایشو کیلئے نیب اور ایف آئی اے کے ادارے موجود ہیں ہم چاہتے ہیں کہ یہ ادارے فعال ہوں اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں پر قانون کی گرفت ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔