جام نان جام قوم: کاش میں یہ خطبہ دو سال پہلے سن لیا ہوتا

جام نان جام قوم: کاش میں یہ خطبہ دو سال پہلے سن لیا ہوتا

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: حبیبہ شمس چترال

ریڈیو پروگرام سے ایک اقتباس

عجیب واقعہ ہوا ، پشاور ائیر پورٹ کے انتظار گاہ میں لگ بھگ دو سال کی ایک اجنبی بچی مجھ سے ایسی چپھک گئی جیسے میں اُس کی سگی ماں تھی۔ صورت حال یہ تھی کہ اپنی سگی ماں کے بلانے پر وہ چونک کر اور بھی چپھک جاتی ۔ مجھے تھوڑا سا شک بھی ہوا کہ ہو سکتا ہے وہ عورت اُس کی سگی ماں نہ ہو لہذا مجھے ہر حالت میں اُس محترمہ سے استفسار کرنا پڑا ۔ معاملہ ایسا نہیں نکلاجو میں سوچ رہی تھی ۔ اگر ایسا ہوتا تومیں فوری طور پر کسی پولیس کو فون کرتی لیکن معاملہ اس سے بھی سنگین تھا یہاں وقتی طور پر قانون بے بس تھا ۔یہ اِس بچے کی سگی ماں تھی ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ محترمہ کسی بڑے مصروف ہسپتال میں ڈاکٹر تھی ۔ یہ بچی پیدائش کے کوئی دو مہینے تک اپنی ماں کے ساتھ رہی اس کے بعد بوتل والے دودھ کے ساتھ محترمہ کی چھوٹی بہن کے دست شفقت میں چلی گئی۔ سگی ماں ہفتے میں ایک دن چھٹی کرتی تھی جو گھر کی صفائی ستھرائی میں صرف ہوتی یوں یہ محترمہ ایک نام نہاد ماں تھی ۔ خیر اس ماں کا برائے نام ہونا اُس کا اپنا مسٔلہ تھا اور وہ مجھ سے بہتر جانتی تھی کہ بچوں کی تربیت میں ماں کا کتنا ہاتھ ہونا چاہیے۔ مجھے زیادہ اس بات پر حیرت تھی کہ وہ مجھ سے کیوں چپھک گئی تھی ۔ میں نے یہ سوال بھی اُسی محترمہ سے پوچھا ۔ اُن کا جواب تھا کہ میری شکل و صورت اُ س محترمہ کی اُس بہن سے ملتی جلتی ہے جو ہمیشہ اُس بچی کے ساتھ رہتی ہے ۔ یہ خاتون کراچی جا رہی تھی اور پہلی بار اپنی بچی کو اپنے ساتھ لے جا رہی تھی ۔ بچی کو بمشکل مجھ سے جداکیا گیا ۔ میں سوچتی رہی کہ مجھے کن الفاظ سے اور کس انداز سے اُس خاتوں کو سمجھانا چاہئے تھا ؟ میرے پاس نہ اُس خاتون کو سمجھانے کے لئے کوئی جواز تھا اور نہ ہی نپی تُلی معلومات۔

کاش میں مولانا طارق جمیل کی تقریر دو سال پہلے سن چکی ہوتی تو میں اُس نا معقول محترمہ کو سمجھاتی کہ اسلام بچوں کی تربیت کے حوالے سے ہمیں کیا اصول سکھاتا ہے اور شریعت ہمیں کیا بتاتی ہے ۔ محترم مولانا طارق جمیل نے اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں شریک حیات کی قدرو منزلت اور بچوں کی تعلیم و تربیت پر سیر حاصل بحث فرمائی ۔ صاحب موصوف کے مطابق بچوں کی تعلیم کا اسلامی و شرعی اصول یہ ہے کہ والدین اور خاص کر والدہ ابتدائی سات سالوں کے دوران بچے کو اپنے ساتھ لگائے رکھے۔ موجودہ دور میں ہمارے ملک اور خصوصاً مسلمانوں کے مخدوش حالات کاذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ایک زمہ دار ، مخلص، انسان دوست اور محب وطن شہری اُس وقت جنم پاتے ہیں جب اُن کی تربیت درست خطوط پر کی گئی ہو اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک نونہا ل اپنے ماں باپ خاص کر ماں کے جتنی قریب رہیگا ممتا کی محبت سے اُتنی مستفیض ہوگا ۔ اور ماں کی گود وہ درسگاہ ہے جس کی بنیاد جنت پر رکھی گئی ہے ۔ ہم جب بچوں کو اپنے سے دور رکھتے ہیں تو ہمارے درمیاں سرد مہری کا ایک فاصلہ پیدا ہوتا ہے جو کہ بڑھتے بڑھتے ہمارے بچوں کو ہم سے اتنا دور لے جاتا ہے کہ وہ نہ صرف اجنبی انسان بنتے ہیں بلکہ اُن میں انسانی اقدار کا شدید فقدان بھی پیدا ہوتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آج ہم بے شمار پیچیدگیوں سے دست و گریبان ہوئے ہیں ۔ اس سلسلے میں مولانا طارق جمیل صاحب کی نظر میں انسانی ہمدردی ، رحم ، محبت ، پیار اور ایک دوسرے کی عزت اور تکریم میں کمی کی ایک وجہ بہت کم عمری میں بچوں کو سکول بھیج کر اپنے سے دور رکھنا یا اپنی ملازمتوں پر اپنے بچوں کو قربان کرنا آج ہمیں درپیش تمام مسائل کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ہے ۔

مولانا طارق جمیل صاحب کی تقریر کے بعد میں نے سوچا کہ اس معاملے میں جدید تعلیمی تحقیق کار کیا کہتے ہیں ۔ School Readiness and Children’s Developmental Status, a U.S. Department of Education study (December 1995) کی ایک تحقیق کے مطابق بچوں کے سیکھنے کا عمل اگرچہ ماں کے پیٹ سے شروع ہوتا ہے تاہم لکھنے پڑھنے کی بنیادی مہارتیں سیھکنے کی عمر سات سال کے بعد ہی بہتر معلوم ہوتی ہے ۔ اس تحقیق کے مطابق اگر بچوں کو دو سال میں ہی سکول بھیجنا شروع کریں گے تو کئی ایک نقصانات کا خدشہ ہو سکتا ہے جن میں :

خوف کا احساس
جسمانی و دماغی کمزوری
چڑ چڑا پن
کام سے نفرت
احساس کمتری ( چند ایک میں )

ہم مولانا صاحب کی اس مفید توجیہ کی بنیاد پر جب دیکھتے ہیں تو یہ خیال درست معلوم ہوتا ہے کہ کم عمری میں تعلیم دلانے کی کوشش سے ہمارے بچوں میں اجنبیت جنم پاتی ہے جو کہ تعلیم کی اصلی روح کو برباد کر کے رکھ دیتی ہے اس کی سب سے بڑی مثال ہمارے وہ بزرگ تعلیم یافتہ طبقہ ہے جو کہ چھے یا سات سال کی عمر میں سکول جانے لگے تھے
اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملک میں امن و امان اور محبت آشتی کے داعیوں کا کردار ادا کرتے رہے اور دوسری مثال ہم سب کے بچوں کی ہے جو کہ آپ کے سامنے ہے ۔ اس سلسلے میں ہمارے بچے قصوروار نہیں ہیں کیوںکہ اُن کو اس طرح کی تربیت تو ہم نے دی ہے لہذا ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ فتور کہاں ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔