سیاستدانوں کو خوار ہونے کا شوق ہے

سیاستدانوں کو خوار ہونے کا شوق ہے

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

عوام کی اکثریت جس کے خلاف ہو جیت کا تاج اس کے سرسجتا ہے تاہم وہ اس بات سے اپنے آپ کو تسلی دے لیتا ہے کہ وہ خود ان افراد سے کم ناپسندیدہ ہے جو ان سے ہار گئے ہیں۔


zeeshanالیکشن سے قبل کچھ نجومی ٹائپ کے لوگ جیت ہار کی پیش گوئیاں کر رہے تھے مگر مکمل یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ کون کون جیتے گا تاہم کچھ باتیں یقین کے ساتھ کی جا سکتی تھیں، مثال کے طور پر نئی بننے والی حکومت نے پانچ سال تک عوام کے ہاتھوں ذلیل ہوتے رہنا ہے۔ نئے وزیر اعلیٰ پر ہزار قسم کی تہمتیں لگنی ہیں۔ نئے مالی سال کا بجٹ عوام دشمن ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ اب دیکھئے ہوا بھی ایسا ہی ، نئی حکومت کو بنے جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اور لوگ اس کی ناکامی کے قصے بیان کرنے لگے ہیں۔ پانچ سال تک نہ چلنے کے اندازے لگائے جارہے ہیں۔ ابھی گلگت بلتستان کے نئے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان نے اپنے عہدے کے حلف لیا ہی تھا کہ ان پر دہشت پھیلانے کا الزام لگ گیا۔ عوام کی اکثریت کو یہ نہیں معلوم کی نیا بجٹ کیسا ہے مگر ان کو پتہ ہے کہ بجٹ کی مخالفت ہی کرنی ہے۔کڑی تنقید سے جیتنے والے غصیلے ہوتے رہتے ہیں ، ان کا خیال ہے کہ ان کو کام کرنے نہیں دیا جا رہا حالانکہ پچھلے پانچ سال تک وہ خود جیتنے والوں کو غصہ دلاتے رہے ہیں۔

ان سارے معاملات کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جیتنے والے امیدوار پانچ سال تک اپنے آپ کو ذلیل کراتے رہیں گے کیونکہ انہیں اس کا شوق ہے۔ عوام کی اکثریت نے جیتنے والوں پر تنقید کرتے کرتے پانچ سال گزار دینے ہیں ۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کی بھی خاص وجوہات ہیں، ہم یہاں ایک وجہ کو موضوع بحث بناتے ہیں۔ دراصل ہم اپنے نمائندوں کے انتخاب کا عجیب و غریب طریقہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے پسندیدہ نمائندے کو منتخب نہیں کرتے بلکہ ناپسندیدہ ترین شخص کا انتخاب کرتے ہیں۔ عوام کی اکثریت جس کے خلاف ہو جیت کا تاج اس کے سرسجتا ہے تاہم وہ اس بات سے اپنے آپ کو تسلی دے لیتا ہے کہ وہ خود ان افراد سے کم ناپسندیدہ ہے جو ان سے ہار گئے ہیں۔ اس بات کو پرکھنے کیلئے آپ گلگت بلتستان کے حالیہ الیکشن کے نتائج کو اٹھا کر دیکھ لیں، جن جن افراد کی مخالفت میں زیادہ ووٹ پڑے ہیں وہ اب اسمبلی کے رکن ہیں۔

آئیے ذرا صوبے کے دو اہم حلقوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ گلگت بلتستان کا انتخابی حلقہ 2 گلگت 2کے عوام نے 18 امیدواروں کو ووٹ دئے، سب سے زیادہ 10,739 ووٹ موجودہ وزیر اعلیٰ اور صوبائی صدر پاکستان مسلم لیگ نون جی بی حافظ حفیظ الرحمان کو دئیے گئے۔ اسی بنیاد پر وہ آج اعلیٰ منصب پر فائز ہو گئے ہیں۔ آپ اسی حلقے کے دیگر 17 امیدواروں کو پڑنے والے ووٹ گن لیں جو کہ کل ملا کے 11,549بنتے ہیں۔ یعنی 10 ہزار سے زائد لوگوں نے حفیظ الرحمان کو پسند کی بنیاد پر ووٹ دئیے جبکہ 11ہزار سے زائد لوگوں نے ناپسندیدگی کی بنیاد پر ان کے خلاف ووٹ کا حق استعمال کیا۔ اسی حلقے کے کل 34,225میں سے 4,880 ووٹرز نے ووٹ کاسٹ ہی نہیں کیا جبکہ ان افراد کو بھی شامل کیا جائے جن کے نام ووٹر لسٹوں میں شامل نہیں تھے توان کی تعداد حفیظ الرحمان کو پسند کی بنیاد پر ووٹ دینے والوں سے چار گنا زیادہ تعداد بنے گی۔

اب صورت حال واضح ہے کہ 10 ہزار لوگ شاید پورے پانچ سال حفیظ الرحمان کے حق میں رہیں مگر باقی پوری آبادی ان کے خلاف بولتی رہے گی۔ گلگت بلتستان کا ایک اور اہم ترین حلقہ جی بی ایل اے 7 سکردو 1،جہاں سابق وزیرا علیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ سمیت بڑے بڑے آمنے سامنے کھڑے تھے۔ اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ نون کے صوبائی جنرل سکریٹری حاجی اکبر تابان کو ایک ووٹ سے کامیابی ملی۔ انہوں نے 3,331 ووٹ حاصل کئے جبکہ ان سے ہارنے والے 6 امیدواروں نے مجموعی طور پر 8,105 ووٹ حاصل کئے ، کل ووٹرز 16,484 میں سے 4,880ووٹرز نے ووٹ دینا مناسب نہیں سمجھا ،یا کسی دیگر وجہ کی بنا پر ووٹ نہیں دیا، ایسے افراد جن کا نام ووٹر لسٹ میں نہیں تھا، جو لوگ ووٹ دینے کے اہل نہیں تھے، ان کو بھی سامنے رکھ کر اندازہ لگا لیں تو جیتنے والے کے ووٹ کسی گنتی میں نہیں آئیں گی۔ چنانچہ یہاں بھی اگلے پانچ سال تک تین ہزار سے کچھ زائد لوگ حاجی صاحب کے حق میں بولیں گے اور اس تعداد سے چار گنا زیادہ لوگ ان کے خلاف بولتے رہیں گی۔

اسی اصول کے تحت دیگر حلقوں کا بھی جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ اکثر حلقوں میں یہی صورت حال ہو گی تاہم شاذو نادر ایسا ہو گا کہ جیتے والے کے ووٹ ہارنے والوں کے مجموعے سے زیادہ ہوں، ایسا ان حلقوں میں بھی ہوگا جہاں ون ٹو ون مقابلہ ہو ا ہو ، تاہم جیتنے والے کے ووٹرز کی تعداد حلقے کی مجموعی آبادی سے بہر حال بہت کم ہو گی۔ اس تجزیے کی بنیا دپر ہمیں یہ پتہ چلے گا کہ ہمارے ہاں ہر نئی بننے والی حکومت اور ہر جیتنے والے امیدوار کو عوام کی اکثریت کیوں برا بلا کہتی رہتی ہے۔

اس صورت حال کو گھمبیر کہا جا سکتا ہے مگر موجودہ سیاسی نظام میں رہتے ہوئے اس کا کوئی حل نظر نہیں آتا، دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی نظام کو دنیا کے اکثر ممالک نے اپنا رکھا ہے لہذا ہم اس اصول کو بدلنے کا مشورہ نہیں دے سکتے تاہم یہ مشورہ ضرور دے سکتے ہیں کہ الیکشن جیتنے والے اپنے اوپر ہونے والی تنقید پر غصہ نہ کریں کیونکہ یہی کچھ پچھلی بار جیتنے والوں کے ساتھ بھی ہوتا رہا تھا اور اگلی بار جیتنے والوں کے ساتھ بھی ہوتا رہے گا۔خوش رہیں، اپنے آپ کو ذلیل کرنے کے شوقین صرف آپ نہیں اور بھی بہت سارے ہیں……!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔