چلاس، غیر معیاری ادویات بیچنے والوں کے خلاف ڈرگ کنٹرول اتھارٹی کی کاروائی

چلاس، غیر معیاری ادویات بیچنے والوں کے خلاف ڈرگ کنٹرول اتھارٹی کی کاروائی

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

20150901_160318

چلاس(مجیب الرحمٰن)ڈ رگ کنٹرول اتھارٹی کے دیامر میں میڈیکل سٹورز پر اچانک چھاپے،ادویات کی انسپکشن،لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے نمونے بھی حاصل کر لئے گئے۔چیف انسپکٹر آف ڈرگز ڈاکٹر کفایت اللہ،سینئیر ڈرگ انسپکٹر عبید خان،سینئیر ڈاکٹر ممتاز خان پر مشتمل انسپکشن ٹیم نے دیامر کے میڈیکل سٹورز پر اچانک چھاپے مارے اور ادویات کی انسپکشن کی۔بل وارنٹی ،ایکسپائری،لائسنس،اور دیگر قانونی ضوابط کی مکمل چھان بین کی ۔اس موقع پر انہوں نے متعدد ادویات کے لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے نمونے بھی حاصل کر لئے۔

اس دوران میڈیا کے سوالات کے جواب میں چیف انسپکٹر آف ڈرگز ڈاکٹر حاجی کفایت اللہ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں غیر معیاری اور جعلی ادویات کی فروخت کرنے کی کسی کو ہر گز اجازت نہیں دینگے۔انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی بھی قسم کے رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔انکے خلاف نہ صرف محکمانہ طور پر بلکہ عدالتی چارہ جوئی بھی کی جا رہی ہے۔انسانی جانوں سے کھیلنے والے درندوں کو عبرتناک سزائیں دلوائیں گے۔ڈیڑھ سو سے زائد کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ انسانی جانوں کی پرواہ نہ کرنے والوں ، غفلت برتنے اور غیر قانونی حرکتوں میں ملوث ادویات فروشوں کے خلاف مؤثر کاروائی عمل میں لائی جاتی رہی ہے۔گلگت بلتستان کے پانچ اضلاع میں ڈرگ انسپکٹر مستقل طور پر تعینات ہیں۔جو آئے روز انسپکشن کرتے آرہے ہیں۔اور ادویات کی سیمپلنگ بھی کی جا رہی ہے تاکہ کوئی بھی غیر معیاری اور غیر مؤثر دوائی عوام تک پہنچ سکے۔انہوں نے کہا کہ ادویات زندگی کا واحد سہارا ہیں۔اس سہارے میں ملاوٹ اور کوتاہی کو برداشت کرنا جرم عظیم تصور کرتے ہیں۔جہاں سے بھی کوئی شکایت موصول ہوتی ہے ڈرگ کنٹرول اتھارٹی خود بھی وہاں انسپکشن کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دیامر میں موجود ڈسٹری بیشن اور ہول سیلرز کو سختی سے انتباہ کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی مشکوک بغیر بل وارنٹی اور مڈل مین سے ادویات نہ لیں۔اور مستند کمپنی سے ہی ادویات اوریجنل بل وارنٹی کے ساتھ حاصل کریں۔اور مستند لائسنس ہولڈر میڈیکل سٹورز کو ہی ادویات فروخت کریں۔بصورت دیگر انکے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ادویات کی ایکسپائری وقتا ً فوقتاً چیک کرتے رہنا چاہیے۔ایکسپائر ادویات کو فوری تلف کردیا جا

ئے۔انہوں نے مزید کہا کہ دیامر کے بعض نالہ جات میں جنرل سٹورز پر ادویات رکھی جانے کی اطلاعات ہیں جن کے خلاف زبردست ایکشن لیا جا رہا ہے ۔انکی دکانوں کو مکمل سیل کر کے انکے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں فوڈ واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کا عمل آخری مراحل میں ہے۔جلد ہی عملہ تعینات کر کے لیبارٹری کو فنکشنل کر دیا جائے گا۔جس کے بعد مضر صحت اور غیر معیاری اشیائے خوردونوش اور پانی کا بھی ٹیسٹ ہوگا۔جس کے بعد بیماریاں پھیلانے والی تمام مضر صحت اشیاء کا تدارک ہوگا۔اور انسانی جانوں سے زیادتی کرنے والوں کا صحیح معنوں میں محاسبہ ہوگا۔چیف ڈرگ کنٹرولر نے مزید کہا کہ نارکاٹک ادویات پر مکمل طور پر پابندی عائد کی ہے اب کوئی بھی قانونی تقاضے پورے کئے بغیر فروخت نہیں کر سکے گا۔محکمے نے نارکاٹک انٹری رجسٹر فراہم کیا ہوا ہے۔ضلعی ڈرگ انسپکٹرز معمول کے مطابق انکی چیکنگ کر رہے ہیں۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جن کی سیمپلنگ کی جا رہی ہے ان کی لیبارٹری سے سٹینڈر ڈکے بجائے سب سٹینڈرڈ ریزلٹ آئے گا تو انکے خلاف زبردست قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔اور انہیں سزائیں دلوائی جائینگی۔چیف ڈرگ کنٹرولر ڈاکٹر کفایت اللہ نے مزید کہا کہ سیلف میڈیکیشن پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔تاکہ عوام مستند ڈاکٹروں سے طبی معائنہ کروا کے ادویات حاصل کر سکیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔