آئینی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ واپس لے کر عوامِ گلگت بلتستان کی احساسِ محرومی میں اضافہ کیا گیا: اسلامی تحریک پاکستان

آئینی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ واپس لے کر عوامِ گلگت بلتستان کی احساسِ محرومی میں اضافہ کیا گیا: اسلامی تحریک پاکستان

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (پ ر ) اسلامی تحریک پاکستان گلگت ڈویژن کا ایک اہم اجلاس صوبائی سکرٹیریٹ میں شیخ مرزا علی سینئر نائب صدرکے زیر صدارت منعقد ہوا جسمیں کثیر تعداد میں جماعتی عہدیداروں نے شرکت کی ۔اجلاس میں مکہ مکرمہ کے کرین حادثہ پر دکھ کا اظہار کیا گیا اورشہداء کی مغفرت اور زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا کی گئی .

اجلاس میں ملکی صورت حال پر غور و خوص کیا گیا اور ایپکس کمیٹی کی فعالیت کو وقت کی ضرورت قرار دیا گیا ملک جس نازک دور سے گذر رہا ہے ایسے میں ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے تا کہ ملکی استحکام کومظبوط بنانے کے ساتھ دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے اور سابقہ روایات کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے تمام مصلحتوں سے بالاتر ہو کر دہشت گردوں کا تعاقب کیا جائے اور بیلنس کی پالیسی ترک کی جائے کیونکہ بیلنس کی پالیسی سے عوام میں تحفظات بڑھ جاتے ہیں اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو جاتا ہے جبکہ نیشنل ایکشن پلان کا مقصد عوام کے احساس عدم تحفظ کے خاتمہ کیلئے ترتیب دیا گیا ہے.پر امن شہریوں کو ہراساں کرنا اور با عزت افراد کی تضحیک کرنا عوام میں تشویش پیدا کر رہا ہے گذشتہ دنوں شوٹی الیو داس میں ۲۰۰۵ سے ابتک دہشت گردی کا شکار بننے والے اور خوف کے عالم میں گھروں میں بسنے والے چند گھرانوں پرسرچ آپریشن کرنے سے عوام میں بہت سارے سوال جنم لے رہے ہیں کہ کس بنیاد پر آپریشن کیا گیا پر امن اور با عزت شہریوں کو ہراساں کیوں کیا جارہا ہے نہ یہ گھرانے کسی دہشت گرد گروہ سے ہیں اور نہ ہی کوئی مقدمہ ان پر درج ہے جبکہ دہشت گرد آزاد ہیں جب چاہیں کسی بھی جگہ پہنچ جاتے ہیں اور تھانوں کواور مویشیوں کو بھی لوٹ کر لے جاتے ہیں ۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اسلامی تحریک پاکستان نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی تحریک کا آغاز کیا اور ہر سطح پر آواز اٹھائی اور تمام سیاسی جماعتوں نے بھی جی بی کے عوام کے دیرینہ مطالبہ قرار دے کر آئینی حیثیت دینا اپنے منشور میں شامل کیا مگر ہمیشہ جی بی کی آئینی حیثیت کے حوالے سے وفاق رکاوٹ رہاکبھی وزارت خارجہ کے ترجمان اور کبھی سکریٹری خارجہ نے جی بی کے عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور آج بھی آئینی حیثیت کے حوالہ سے کمیٹی کے تشکیل کا فیصلہ واپس لے کر پورے جی بی کے عوام کے احساس محرومی میں بے پناہ اضافہ کیا ہے.اسلامی تحریک پاکستان وفاق کے اس نا مناسب فیصلہ سے سخت مایوس ہوئی مگر جی بی کے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے آئینی حیثیت کے تعین کیلئے اپنی کوششیں تیز کرے گی اور مؤثر انداز میں گلگت بلتستان سے مخلص تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو ساتھ لے کر آئینی حیثیت کیلئے میدان میں اترے گی ۔ہمیں تعجب اس بات پر ہے کے گذشتہ سال ایک وفاقی وزیر نے گلگت بلتستان کو آئین پاکستان کا حصہ ماننے سے انکار کیا تو گلگت بلتستان کی عسکری قیادت نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا اٹوٹ انگ قرار دیا جو عوام کی حقیقی ترجمانی تھی اور حقیقت بھی یہی ہے کہ وفاقی محکموں اور وزارت خانوں سے جی بی کو پاک آرمی بہتر انداز میں میں سمجھ سکتی ہے ۔اس سے بھی تعجب خیز بات یہ ہے کہ وفاق کے بے خبر محکمے اور وزارت خانے آئین کا حصہ مانے بغیر ودہولڈنگ ٹیکس سمیت مختلف چارجز لگا رہے ہیں .ایک ایسے وقت میں جہاں پاک چین اقتصادی راہداری کوبین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ترقی کا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہو ایسے میں آئینی کمیٹی کے فیصلہ کی واپسی سخت مایوسی پیدا کر رہا ہے .لذا اقتصادی راہداری کونسل میں جی بی کو نمائندگی دینے کے ساتھ اقتصادی زون قرار دیا جائے ۔

اسلامی تحریک پاکستان نے ہمیشہ گلگت بلتستان میں تمام مسالک کے درمیان اتحاد کے فروغ کی خواہشمند رہی ہے اور اب تک تمام مسالک کو متعدد بار یکجا کر چکی ہے اور پورے گلگت بلتستان کے عوام اور ذرائع ابلاغ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اب گلگت بلتستان میں فرقہ واریت نہیں رہی ہے لذا جی بی کے عوام کے درمیان اتحاد کی فضا کو احترام کی نگاہ سے دیکھے اور یہ تاثر نہیں دیا جائے کہ گلگت بلتستان میں مذہبی کشیدگی ہے اور اس سال ریکارڈ سیاحوں کا جی بی میںآمد کو نیک شگوں قرار دیا جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔