مغلی چیت(مغل منار)

مغلی چیت(مغل منار)

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Hidayat-Ullahاور جب ہم  خومر گلگت کے  پہاڑی کے دامن میں پہنچے تو چند حضرات  جوٹیال نالے  کی طرف سے بہتی   ہوئی خوبصورت ندی کنارے  بیٹھے  خومر کے خوبصورت مناظر کا   لطف اٹھا رہے تھے  ۔مصافحے کے بعد تعارف کا سلسلہ شروع ہوا۔راقم کو  دس سال  پہلے   بھی یہ  جگہ   دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا اس وقت  اس مقام تک  پہچنے کے لئے کافی جتن کرنے پڑے تھے۔ اب  خومر کے اس پہاڑی  کے دامن تک پہچنے  میں قدرے آسانی ہوئی ہے ۔ دو رابطہ سڑکیں سیاحوں کو اس مقام  تک پہنچاتی ہیں۔ ایک جوٹیال گلگت کی طرف سے اور دوسری  خومر گائوں کے بیجوں بیچ  سے ۔  ایک نہر  جو کارگاہ نالے سے نکالی گئی ہے  اس پہاڑی کے دامن سےگذرتی ہے۔ نہر کی حالت کافی  دیدنی ہے پانی کا نام و نشان نہیں لیکن   اس نہر کی بدولت   پچھلے حکومت کے دور میں   ہر سال مرمت  کے نام سے کروڑوں روپے   مختلف افراد کی پرورش اور دیکھ بھال میں  کام میں لائے گئےجس سے ان کی جیبیں  بھرتی رہی مگر عوام پانی کے بوند کے لئے ترستے ہی رہ گئے ۔ ۔میں اور میرے ساتھی پہاڑی کے اوپرکی جانب  دیکھ رہے تھے اور آنکھیں ہماری پہاڑی پر چڑھنے کے راستے کو تلاش کر رہی تھی لیکن  راستہ   ہمیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔اتنے میں  ایک صاحب بول پڑے جناب مغل منار  تک پہنچنے کے لئے  مخصوص کوئی راستہ نہیں  اور جو راستے تھے اسے لوگوں نے اپنی حد بندی بنا کے بند کیا ہوا ہے۔  اب وہاں تک پہچنے کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ آپ ان حد بندیوں کو پھلانگ کر  ہی اپنے لئے راستہ بنا سکتے ہیں ۔ہم نے پھلانگنے والی رائے کو پس پشت ڈال دیا اور پہاڑی  کے دوسری طرف سے  جو پھلانگنے کی تکلیف دہ مہم سے ذرا مشکل تھا والا راستہ  اختیار کرنا  مناسب سمجھا۔ایک اور صاحب بول پڑے جناب  آپ کو  مغل منار تک پہچنے کے لئے   بڑے جتن کرنے پڑینگے  اور پہاڑی پر چڑھتے ہوئے  دو مراحل بڑے سخت اور خطرناک  ہیں وہاں  بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔

اس کا یہ کہنا تھا کہ  ہمارے  ایک  ساتھی نے  ہتھیار ڈالنے کی کوشش کی پردوسرے ساتھیوں نے اس کی ہمت بندھائی  جس کے بعد اس نے ہولے ہولے پہاڑی  کی اونچائی کی طرف  قدم بڑھانا شروع کر دیا۔ہم لوگ پہاڑی پر چڑھتے ہوئے ان دو جگہوں  کی بحث میں لگے ہوئے تھے کہ وہاں سے  کیسے اپنے آپ کو پار لگا دینگے۔لو جی وہ مشکل  جگہ تو آہی گئی ۔وہاں کچھ دیر  دم لیا نیچے کی طرف نگاہ ڈالی  ۔   تھوڑی دیر کے لئے تو دل گھبرا ہی گیا اگر یہاں سے اللہ نہ کرے پائوں پھسل گیا تو کیا بنے گا۔بنناکیا ہے نتیجہ صاف ظاہر ہے    مغل منار کے سفر کے بجائے اس دنیا سے اس دنیا کا سفر  شروع  ۔پہاڑی کے اس جگہ  پر پہلے تو ہم نے ہلکے پھلکے   نقش پا کے نشان  تلاش کئےجو پہلے  گزرے  ہوئے  سیاح یا مقامی لوگوں  کے ہو سکتے تھے۔اور ان ہی  کے سہارے یہ پہلا خطرناک  مرحلہ  طے کیا۔جب یہ مرحلہ  کامیابی سے طے ہوا تو  ساتھیوں کے حوصلے  بلند ہوئے  اور دوسرے مرحلے  کی فکر اب اتنی دامن گیر  نہیں تھی کیونکہ  طریقہ ہم نے پہاڑی پر چڑھنے کا پہلے خطرناک  مرحلے میں سیکھ لیا تھا۔ بس تھوڑی سی ہوشیاری اور  ہوش و حواس سے کام لینا ہے اور اپنے   ارادے کو پختہ اور مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے۔۔اسی دوران  کئی ساتھی پہاڑی راستے میں بھٹک بھی گئے لیکن   نیچے بیٹھے ہوئے مقامی لوگوں نے سیٹیاں اور اشاروں سے  صحیح راستے کی نشاندہی کی۔  اور یوں ہم تمام سا تھی صحیح سمت کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ اور دوسرا  مشکل مرحلہ بھی با آسانی  طے کیا۔یہ ساری تمہید اس لئے باندھنی پڑی کہ    محکمہ آثارقدیمہ اور  سیاحت کے ذمہ داران  اگر سوئے ہوئے ہیں  تو جاگ جائیں  اور اگر جاگے ہوئے ہیں تو    اپنی ایک مہم ٹیم ذرا مغل منار کی ایک تازہ اور  اچھی سے تصویر  بنانے کے لئے روانہ کردے تاکہ چالیس سال پہلے والی تصویر اور  آج کی تصویر میں ان کو کچھ فرق   محسوس ہو۔۔

حال ہی میں راما فیسٹول  اور دیگر کلچرل شوز میں  وزیر اعلیٰ اور اس   کی ٹیم نے یہ دعویٰ کیا کہ اس سال  بغیر کسی  تشہیر کے پانچ لاکھ سیاح    گلگت بلتستان میں آئے اور  انشاللہ   علاقے میں سیاحت کے شعبے  کی طرف  بھرپور توجہ دی جائیگی اور سیاحوں کی سہولت کے لئے اقدامات کئے جائینگے ۔۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا دعویٰ  اپنی جگہ ۔ذرا حقیقت کی طرف  نظر دوڑائیں  تو صورت حال  اس کے الٹ نظر آتی ہے۔۔ذرائع نقل حمل کی کمی  ،سیاحوں کے لئے مختلف  سیاحتی مقامات تک پہچنے کے تکلیف دہ مراحل، پھر ان سیاحتی مقامات پر بنیادی سہولیات کا فقدان   حکومتی دعوئوں کا  منہ چڑ رہے ہوتے ہیں ۔ عوامی  نقطہ نگاہ سے  دیکھا جائے تو  بھی ایک نا امیدی ہی نظر آتی ہے ۔ لوگوں کے اندر سیاحتی اور تاریخی  مقامات  کی وہ اہمیت  نہیں  جو  ہونی چاہئے۔راقم کو  بہت سارے تاریخی مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا اور ہر تاریخی مقامات میں  جا کر یہ احساس ہوا کہ  کہ جن مقامات اور   تاریخی  نشانات  سے  ہم لاکھوں ڈالر  زر مبادلہ کما سکتے ہیں ان کی  حالت اتنی مخدوش  ہے کہ اگلے  پانچ دس سالوں میں    ان نشانات کا باقی رہنا  ممکن نہیں ۔ اس پر ستم یہ کہ  لوگ ان تاریخی مقامات  کو صرف اور صرف اس بنا پر تباہ و برباد کر رہے ہیں کہ  وہ یہ سمجھتے ہیں کہ  ان  تاریخی  سٹوپاز  یا مقامات کے زیر زمین  بڑے خزانے دفن ہیں ۔مختلف جہگوں میں کھدائی کر کے ان مقامات کو نقصان پہنچا رہے  ہیں ۔ یہ سب اس لئے کہ یہ تاریخی مقامات اور نشانات  حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہیں ۔ثقافتی میلے ٹھیلے (کلچرل شوز) بھی اہمیت کے حامل ہیں  یہ میلے ٹھیلے اس وقت کار آمد  ہونگے جب  سیاحتی سہولتیں   میئسر ہونگی   سیاحتی سہولتیں میئسر کئے بغیر میلے ٹھیلے پر   بیش بہا روپیہ لٹانا   عقلمندی نہیں  لگتی۔مغل منار جو گلگت سے صرف  چند ہی فاصلے پر خومر پہاڑی کے اوپر بنا   ہوا ہے تاریخی اہمیت کا حامل ہے اس منار کو جسے کبھی مقامی زبان میں مغلی چیت کیا جاتا  تھا  کئی سو سال گزرنے کے باوجود بھی لوگوں   اور سیاحوں کا  توجہ کا مرکز ہے  سب کی یہ حسرت ہے کہ اس منار کو دیکھا جائے لیکن  جیسے مذکور ہوا ہے کہ  یہاں تک پہچنے کے لئے  آخرت کا بھی ٹکٹ   کٹنے کا اندیشہ ہے تو پھر  کیسے سیاح یہاں کا رخ کر سکتے ہیں؟ ۔بس کبھی کبھار مہم جوئی کے شوقین  ایسی جگہوں میں  پہنچ جاتے ہیں ۔

مغل منار کے متعلق  بھی   دو تین کہانیاں  جُڑی ہوئی ہیں  لیکن سب سے معتبر کہانی یہ ہے کہ  جب گلگت میں تراخان راجہ کی حکمرانی تھی  اور یہ عرصہ تقریباً  بارہ سو نوے سے تیرہ  سو پینتیس   کا بنتا ہے اسی دوران  تیرہ سو بیس   کے لگ بھگ  ایک حکمران جس کا نام تاج مغل تھا بدخشاں کی طرف سے چترال اور یاسین کو فتح کرتے ہوئے گلگت پر حملہ آور ہوا اور  تراخان حکمران سے  گلگت کا تخت چھین  لیا۔  اسماعلیہ عقیدہ رکھنے والے اس حکمران نے  گلگت میں جدید اسماعلیہ  مذہب  کو پھیلانے میں بڑا کام کیا۔۔تراخان راجے نے اپنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے فاتح حکمران کا مذہب قبول کیا اور  بطور نمائندہ  تاج مغل کے تراخان نے   اپنی راجگی  قائم رکھی۔ یاد رہے کہ اس وقت  اسماعلیہ مذہب کو تاج مغل حکمران کی نام کی نسبت سے مغلی  کہا جاتا تھا جو بعد میں  مولائی کی شکل اختیار کر گیا اور اب اسے  مذہب  اسماعلیہ سے جانا جاتا ہے۔قارئین  اسماعلیہ فرقہ کا تذکرہ صرف اس لئے کیا جا رہا ہے کہ   اس سے مغل منار کی تاریخی اہمیت کا اندازہ ہو جائے نہ کہ اور کوئی مقصد ہے۔۔اس حکمران نے  ہنزہ کا رخ کرنے سے پہلے  خومر کی پہاڑی کے اوپر اپنی فتح کی نشانی کے طور پر  برج تعمیر کروایا جو اس کے نام کی نسبت سے مغلی چیت     کے نام سے مشہور ہوااب شاید ہی کوئی مغلی چیت کا نام جانتا ہو۔ یہی مغلی چیت مغلی منار کہلانے لگی

 تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ نئی نسل کو اس بات کی بھی خبر نہیں کہ  گلگت خومر پہاڑی کے اوپر  ایک  تاریخی برج  بھی  موجود ہے جو مغلی منار کہلاتاہے۔۔۔۔یہ تاریخی برج جو سات سو سال پہلے تعمیر ہوا   موسموں کی  تند و تیز  مزاجوں   اور تھپیڑوں  کے ساتھ ساتھ  انسانوں کے بے رحم ہاتھوں کی مار کھاتے ہوئے اب بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے باوجود قائم و دائم ہے۔۔۔۔مغل منار کی نسبت جس کسی کے نام سے بھی ہو اس سے ہٹ کر  اثار قدیمہ اور سیاحت کے حوالے سے  جانچ پڑتال کی جائے تو یہ مقام جی بی  کے لئے  ایک تاریخی اور بہت بڑے  خزانے کی شکل میں  نظرآتا ہے۔جس کا اندازہ ہم مقامی لوگوں کو شاید ہی ہو۔ مغل مناریاترا کے دوران  راقم کی ملاقات  دو اطالوی سیاح جو تحقیق  کی غرض سے مغل منار  کے مقام  پر پہنچے تھے      ہوئی۔  باتوں باتوں میں   راقم  نے  ان سے بہت سارے سوالات بھی کئے اور  کئی ایک سوالات ان سیاحوں نے بھی کر ڈالے۔ان میں سے ایک سیاح جس کا  نام میکل تھا  اس کے متعلق معلوم  ہوا کہ انہوں نے اسکولی اسکردو میں  ایک  پرانی خانقاہ  یا مسجد کی کی تاریخی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اس کی اسی طرز  پر تزئین و آرائش کروائی۔کتنا عظیم ہے یہ شخص۔جب اس سے میں نے پوچھا  کہ آپ  مغل منار کو دیکھ کر   کیا محسوس کر رہے ہیں ۔۔تو اس نے  اسکا جواب  سوال کے انداز میں دیا  وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا  کہ کیا واپس جانے کے لئے کوئی دوسرا اور آسان سا   راستہ ہے؟۔۔اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ جس راستے سے آیا تھا وہ نہایت ہی ناقص اور خطرناک ہے  کون آئیگا اس مقام پر۔۔۔۔اطالوی سیاح  مغل منار کی بنیادوں کی طرف جہاں بڑے بڑے کھڈے تھے اشارہ کرتے ہوئے    بتا رہا تھا کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے اس تاریخی مقام  کی اسی طرح تزئین و آرائش کی ضرورت ہے  جو  اس کی پہلی  والی صورت  کو برقرار رکھے۔اس نے مزید بتایا کہ پہلے جب وہ آیا تھا  اس سے مغل منار  دیکھنے سے رہ  گیا تھا جس کے لئے اسے  دوبارہ منصوبہ بندی کرنی پڑی  اور آج   اس کو قریب سے دیکھنے کا  موقع ملا۔اس کو اس بات کی بھی شکایت تھی کہ  سیاحت کے حوالے سے یہاں  کوئی مناسب رہنمائی نہیں ہے ۔جناب میکل اطالوی  سیاح کا یہ بھی کہنا تھا کہ  اگر  کبھی اس کی مرمت ہوجائے تو اس میں سمنٹ کا استعمال نہیں ہونا چاہئے بلکہ چونہ اور مٹی کے گارے اور پہلے سے یہاں موجود مواد کو استعمال میں لایا جائے تاکہ اس کی  پرانی شکل بحال رہے ۔راقم اور   شہزادہ مقپون   جو ان اطالوی سیاحوں کے ساتھ مغل منار پہنچے تھے اس بات پہ شرمندہ ہو رہے تھے کہ جو باتیں ہمیں سوچنی چاہئے تھی وہی باتیں ہمیں یہ غیر ملکی بتا رہے ہیں ۔دونوں اطالوی سیاح اس مقام پر پہنچ کر اتنے خوش تھے کہ  جتنی دیر  ہم یہاں رہے بعض لحموں میں وہ  مستی میں جھوم جاتے  اور ناچنا بھی شروع کر دیتے تھے۔۔وہ اس بات پہ نالاں تھے کہ  یہاں تک پہچنے  کے لئے  اپنی جان جوکھوں میں ڈالنی پڑتی ہے ۔۔راستے کا ذکر کرتے ہوئے  اطالوی سیاح جس کا نام میکل تھا ایک حقیقت  لطیفے کے انداز میں سنائی۔۔اس نے بتایا کہ میرا نام  میکل ایک فرشتے کے نام  پر ہے یعنی  جس کو ہم میکائل  کہتے ہیں۔اس نے بتایا کہ  ایک فرشتے کا نام  تو میرے ساتھ لگا ہوا ہے لیکن  مغل منارکی پہاڑی پر چڑھتے ہوئے میں نے  دوسرے فرشتے عزرائیل کو بھی بڑے قریب سے  دیکھا۔۔۔اس کی اس بات سے ہم سب ساتھیوں  کے لبوں پر قہقہے ابھرنے لگے  ۔ایک حقیقت کو اس نے کس خوبصورت انداز میں بتائی ۔اس تاریخی مقام کی اہمیت اور افادیت  پر  بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے    لیکن ایک حقیقت جس کا ذکرمیں اکثر  اپنے کالموں میں بیان کرتا رہتا ہوں وہ یہ   کہ  ہم مقامی مکینوں کو  اپنی چیزوں کی قدر کب آئیگی   ؟ہم گھر کی قیمتی   چیزوں کو کب تک ضائع کرتے رہئنگے؟۔ ہم خود انحصاری  پر کب یقین کرینگے؟۔۔زبانی جمع خرچ سے کب باز آجائنگے ؟ ۔ ۔۔کیا  ہماری سیاحت  صرف اخباری بیانوں سےفروغ پائی گی۔۔یا لاکھوں  کروڑوں روپے کلچرل شوز  کے نام پر اڑانے سے پھلے پھولے گی  یا پھر کسی عملی کام کی ضرورت ہے؟۔گلگت  بلتستان کی  صوبائی حکومت کو اس بارے ٹھوس اقدمات  اٹھانے کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں چند تجاویزات ذہن میں  ہیں     جن کو یہاں لکھنا ضروری سمجھتا ہوں جن پر اگر عمل کیا جائے تو  سیاحت   کے  فروغ میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔۔۔۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ مغل منار کی دوبارہ سے تزئین و آرائیش اسی انداز میں کرنے کی ضرورت ہے  جو پہلے تھی اس سلسلے میں  گلگت میں موجود  کاڈو  کی تنظیم کی مدد حاصل کی جا سکتی ہے  جنہوں نے بلتت فورٹ ہنزہ کی تزئین و آرائیش کا  کام مکمل کیا ہے

گلگت بلتستان میں جہاں جہاں تاریخی مقامات ہیں  ترجیحی بنیادوں پر ان مقامات  تک آسانی سے رسائی کے لئے   رابطہ سڑکیں بنائی جائیں

گلگت بلتستان کے تمام تاریخی مقامات  کو قیمتی اثاثہ ڈکلیئر کیا جائے اور ان کی حفاظت کو یقینی  بنایا جائے تاکہ وہ ٹوٹ پھوٹ اور دیگر نقصانات سے بچ سکیں

ان تاریخی مقامات میں  جو زمیں ہے  اول تو ان کی چار دیواری کی جائے اگر یہ ممکن نہیں تو کم از کم خار دار تاروں سے اس زمیں کو محفوظ بنایا جائے تاکہ لوگوں کا  ان پر  قبضہ  جمانے کا موقع نہ مل سکے ۔

جہاں جس تاریخی مقامات میں قبضہ مافیا  جما ہوا ہے ان سے ان تاریخی مقامات کی زمیں کو واگزار کروایا جائے اور جن لوگوں کی قانونی طور پر  جائز  زمینیں موجود ہیں ان کو معقول معاوضہ دیکر ان زمینوں کو سرکاری تحویل میں لیا جائے

ان تاریخی مقامات میں سیاحوں کو سہولیات بہم پہنچانے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سسٹم کے تحت زمیں لیز پر دی جائے  اس سے جہاں  لوگوں  کو روزگار کے مواقع ملینگے  وہاں سیاحوں  کے لئے اچھی اور بہتر  سہولیات بھی میئسر آجائینگی

ان تاریخی مقامات کی حفاظت کے لئے محکمہ فشریز اور محکمہ  جنگلات میں موجود راکھے  اور فارسٹ گارڈ  کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے یا محکمہ سیاحت اور آثار قدیمہ میں  آثار قدیمہ گارڈ بھرتی کئے جا سکتے ہیں  جو  ان تاریخی مقامات کی  حفاظت  کے ساتھ ساتھ  ان مقامات کی لحمہ بہ لحمہ رپورٹ پیش کریں  جس سے ان کی دیکھ بھال میں آسانی ہوگی

اس کالم کو پریس میں بھجنے کے لحمے  خبر آئی ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے عطا آباد ٹنل کا افتتاح کرنے کے ساتھ ہی عطا آباد جھیل کو سیاحتی مقام بنانے اور سیاحوں کے لئے سہولیات پہنچانے کا وعدہ کیا ہے  ۔ہمارے نزدیک یہ اعلانات محض اعلانات ہی تصور ہونگے جب تک  عملی قدم نہیں اٹھایا جائیگا ۔

اوپر بالا درج اقدامات اس لئے ضروری ہیں کہ    سیاحوں  کو سہولیات مہیا کئے بغر   سیاحت کی بڑھوتری اور   بلند بانگ دعویٰ نہ صرف   شیخ چلی کا خواب ہوگا   بلکہ  لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہی تصور کیا جائیگا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments