گلگت بلتستان کے لوگ اپنے حقوق، اپنی ثقافت،اپنی زبان کے بارے میں واضح شعور رکھتے ہیں۔وائس چانسلرقراقرم یونیورسٹی

گلگت بلتستان کے لوگ اپنے حقوق، اپنی ثقافت،اپنی زبان کے بارے میں واضح شعور رکھتے ہیں۔وائس چانسلرقراقرم یونیورسٹی

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

kiu

گلگت ( پ ر) قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی اور برٹش کونسل کے اشتراک سے منعقدہ پانچ روزہ سہولت کاروں کی ٹریننگ کا اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔ فعال شہری تعلیم Active Citizens Educationپروجیکٹ برٹش کونسل اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا مشترکہ پروجیکٹ ہے جو دنیاکے بہت سارے ممالک میں جار ی ہے ۔ پاکستان میں ابھی تک قراقرم یونیورسٹی بیسواں تعلیمی ادارہ ہے جہاں یہ پروگرام شروع ہوگیا ہے۔کے آئی یو سے اٹھارہ فیکلٹی ممبرن نے اس کورس میں شرکت کرکے سرٹیفکیٹ حاصل کیے۔ پانچ دنوں کی بھر پور فعال تربیتی پروگرام کو شرکاء نے بہت سراہا۔ فیکلٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے میڈم اسمال ولی اور ڈاکٹر اشتیاق حسین نے اپنے تجربات بیان کئے اور سہولت کاروں کی قابلیت اور خلوص کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد رمضان، جناب حمید لون رجسٹرار اور ذاکر حسین ذاکر پروگرام کوآرڈنیٹر نے شرکاء، سہولت کاروں، برٹش کونسل، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور جناب وائس چانسلر ڈاکٹر محمد آصف کا شکریہ ادا کیا جن کی کاوشو سے اب یہ پروجیکٹ کے آئی یومیں بھی شروع ہوا ہے۔

فعال شہری تعلیمی پروگرام انڈر گریجویٹ کلاسوں کو پیش کیا جائے گا۔ اس تعلیمی پروگرام میں 32گھنٹوں کی ماڈیلور کلاسز اور 64گھنٹوں کی سوشل ایکشن پروجیکٹس شامل ہوں گے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے سال 2015اور اس کے بعد داخلہ لینے والے تمام طلباء و طالبات کو ڈگری کیلئے اس پروگرام کی تکمیل ضروری قرار دیا ہے۔

قراقرم یونیورسٹی انتظامیہ اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے برٹش کونسل کے کنسلٹنٹ اور سہولت کار میڈم صبوحی علی نے اس پروگرام کی تفصیلات بیان کی۔ ان کے مطابق جنوری 2016 ؁ میں اسلام آباد میں سوشل ایکشن پروجیکٹس کی ایک میگا ایونٹ ہوگی اور اس میں پاکستان کے وہ تمام یونیورسٹیز شامل ہوں گی جہاں یہ پروگرام شروع ہو چکا ہے ۔ سہولت کاروں اور طلباء و طالبات دونوں کیلئے ملکی اور بین الاقوامی فعال شہری فورم پر اپنے پروجیکٹس کو پیش کرنے کے مواقع ملیں گے۔ یہ پور ا تعلیمی پروگرام ویب پورٹل پر آن لائن دستیاب ہوگا۔ اور تمام شرکاء اپنے اپنے اکاونٹ سے اس ویب پورٹل تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس پروگرام میں رجسٹریشن سے لے کر سوشل ایکشن پروجیکٹس کی پیشکش تک سبھی ریکارڈ انٹر نیٹ بیس ہوگا۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔