امریکہ اور مغربی ممالک مفاہمت کا محتاج ہیں، نہ کہ جمہوری اسلامی ایران (مجبور کون ؟)

امریکہ اور مغربی ممالک مفاہمت کا محتاج ہیں، نہ کہ جمہوری اسلامی ایران (مجبور کون ؟)

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر :ڈاکٹر فرمان علی سعیدی شگری
حقیقت یہ ہے کہ ایرانی غیور قوم نے گذاشتہ پینتیس سالوں میں جو استقامت اور پایداری کا مظاہرہ کیا ہے، دنیا میں اسکی نظیر نہیں ملتی ، امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے جمہوری اسلامی پرظالمانہ اقتصادی پابندیاں لگا کر ایرانی عوام کو یورپ کے

Dr.Farman Ali

سامنے گھٹنا ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہا اور اسلامی نظام (نظام ولایت فقیہ جو شیعوں کے نظریہ امامت کا ایک حصہ یے ) سے عوام کو دور کرنے کے لیے تمام تبلیغاتی ہتھکنڈوں کو داخلی اور عالمی سطح پر استعمال کیا ، لیکن امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے تمام تر عزائم اور ہٹکنڈے خاک میں مل گئے ۔دوسری جانب یہ پابندیاں ایرانی عوام کے مختلف شعبوں میں ترقی ، خود کفای اور نظام اسلامی سے عشق اور محبت کا سبب بنی ۔ اب ایران ، امریکہ اور مغربی ممالک کے مابین ہونے والی مفاہمت اور جوہری معاہدہ اپنے آخری مراحل سے گذر رہا ہے اگر یہ مفاہمت اورجوہری معاہدہ کامیاب ہوجاے تو اس کا فائدہ ، ایران سے زیادہ امریکہ اور مغربی ممالک کو ہوگا ۔ ان دنوں یورپی سرمایہ کار اور مختلف کمپنیوں کے مالک ایران کے ساتھ دو طرفہ اقتصادی اور کاروباری روابط استوار کرنے کے لئے ، ایران کے دار الخلافہ تہران میں خیمے لگاے ہوے ہیں ۔ یہ معاہدہ ، ایران کے صدر جناب حجہ السلام ڈاکٹر شیخ حسن روحانی کے دوران اقتدار مین ہوا ہے ۔ موجودہ صدر ایک عالم الدین ، سر سخت انقلابی ، ایران کے سپریم لیڈیر حضرت ایت اللہ سید علی خامنہ ای کے معتمد افراد میں سے ہے ۔ جمہوریہ اسلامیہ ایران کسی کے دباو میں آئے بغیر ، امریکہ اور مغربی ممالک کے درخواست پر ، مذاکرات کے میز پر آئے ۔ بعض کا یہ کہنا کہ ایران اسرائیل کے ایران کے خلاف حملے کی ڈر سے مذاکرات پر مجبور ہو گیا ، یہ بات حقیقت سے کوسوں دور ہے ۔ اسرائیل میں اتنی طاقت کہاں ہے کہ وہ ایران جیسے طاقتور ملک پر حملہ کریں ۔ یہ کمزور ملک میں لبنان کی ملیشا حزب اللہ کے سامنے تنتیس دن جارحانہ حملے کرنے کے بعد ، گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا ۔ حالیہ معاہدے سے ایرانی عوام خوش ہے کیونکہ اس قوم پر عالمی استعماری طاقتوں کو ایران سے نکالنے اور اسلامی بنیادوں پر ایک نیا عادلانہ نظام کی حمایت کرنے کی جرم میں لگای گئی تمام ظالمانہ اقتصادی پابندیاں اس مفاہمت اور جوہری معاہدے کے بعد ختم ہو جائگی اور ایک سو ارب ڈالر کے لگ بھگ اثاثے اور نقد رقم جو مغربی ممالک کے مالیاتی اداروں نے منجمد کر دی تھیں واپس لوٹای جایگی ۔

اس جوہری معاہدے سے عوام پہلے سے زیادہ موجودہ سیاسی نظام سے نزدیک ہو جائیگی اور اسلامی نظام کو تقویت ملے گی ۔ اس طرح اسلامی نظام پہلے سے زیادہ دنیا کے مظلوموں کی حمایت تیز کریگا ۔ جس سیایران اور اسلامی دنیا کے درمیان تعلقات کا نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ایران کے غیور عوام نے علمای کے حکم پر لبیک کہتے ہوے ہزاروں شہیددے کر اس مقدس نظام کی آبیاری کی ہے ابھی بھی ایرانی قوم اس نظام کی حفاظت کے لئے ہر قسمت کی قربانیاں کے لئے تیار ہے اور ہر قسمت کے مشکلات سہنے کے تیار ہے لیکن نظام ولایت فقیہ پر ذرہ برابرآنچ آنے نہیں دے گی ۔ بعض افراد کا اس طرح تجزیہ و تحلیل کرنا کہ مغربی دنیا کے دروازہ کھلنے کے بعد ایران میں جہاں اقتصادی ترقی ہو گی وہاں کٹر ملائیت کا زور تھم جاے گا اور اعتدال پسند عناصر کو ابھرنے کا موقع ملے گا ۔

ذرائع ابلاغ اور شہری حقوق پر عائد پابندیاں اٹھانے کی تحریک زیادہ قوت پکڑے گی یہ سارے تجزے حقیقت پر مبنی نہیں ہے اس قسم کے تجزیہ یا ناقص اطلاعات کا نتیجہ ہیں یا اسلامی انقلاب سے تعصب اور دشمنی کا شاخصانہ ۔یہ دونوں رویے معیاری صحافت کے منافی ہیں ۔

پاک ایران دو طرفہ اقتصادی ، ثقافتی اور کاروباری روابط کو استوار کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسلامی جمہوریپاکستان نے ایران ، امریکہ اور مغربی ممالک کے مابین ہونے والی مفاہمت اور جوہری معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے اور حکومت نے پاک ایران گیس پائپ لائن کو جلد از جلد مکمل کرنے کے عزم کا اظہار ہے ۔ حکومت پاکستان اپنے بعض مسائل خصوصا پاور سیکٹرز میں ایران سے مدد لے سکتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیاں مختلف شعبوں میں معاہدے اور مفاہمت ہو سکتی ہے ۔

جہاں تک گلگت و بلتستان اور ایران کے ساتھ تعلقات کی بات ہیتو حکومت گلگت و بلتستان کو آئینی اختیارات کو استعمال کرتے ہوے، مختلف ممالک سے اقتصادی ، کاروباری اور دیگر شعبوں میں مفاہمت اور تعاون کے لئے دو طرفہ تعلقات کو استوار کرنا چاہے ۔ اس حوالہ سے حکومت گلگت و بلتستان مختلف سیکٹرز میں ، ایران سے مدد لے سکتی ہے خاص طور پر زراعت کے شعبے ، ایجوکیشن اور پاور سیکٹرز میں مفاہمت اور معاہدے ہو سکتے ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے سیاست دان اپنے تمام تر وابستگیوں سے ما قوق ہوکر ، صرف صوبہ اور لوگوں کی وسیع مفادات کو مد نظر رکھتے ہوے اخلاص کے ساتھ کام کریں ۔

صاحبِ مضمون پولیٹیکل سائیس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں۔

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔